counter easy hit

بانو آپا اور تارِ عنکبوت

بانو آپا سے میرے تعلق کی ڈور اس زمانے سے بندھی ہوئی ہے جب میں تختی پر الف بے پ لکھنا سیکھ رہا تھا۔ ایسے میں کسی کو کیا علم کہ بانو قدسیہ کون ہے، لیکن چونکہ اس تعلق کی ڈور کا دوسرا سرا میری ماں کے ہاتھ میں تھا، اس لیے یاد کے دریچوں سے آج بھی ان دنوں کی پتنگیں آنکھوں کے سامنے لہراتی رہتی ہیں۔

میری ماں کو دن بھر بہت کام ہوتے تھے۔ میں نے شاید ہی اسے فرصت کے کسی لمحے میں دیکھا ہو، گھر کے روزمرہ کے کام ختم ہوتے تو سویٹر لے کر بیٹھ جاتی، کوئی سلائی کرنے لگتی اور پھر تھک ہار کر سو جاتی۔ لیکن ہفتے کی ایک شام وہ اپنے کام جلدی نپٹا لیتی اور میرے والد کی پائنتی آکر بیٹھ جاتی۔

گھر میں ایک ریڈیو تھا جو اباجی کی چارپائی کے ساتھ طاق میں رکھا ہوتا۔ میری ماں کو ہفتے کے اس دن کا علم تھا جس دن ریڈیو پر بانو قدسیہ کا ڈرامہ آتا تھا۔ غربت و افلاس کی چکی میں پسی اور دن بھر اپنی اولاد اور خاوند کی خدمت میں مگن میری ماں کو یہ چند لمحے میسر آتے‘ جب وہ پورے انہماک سے ڈرامہ سنتی۔ لیکن ڈرامہ سنتے ہوئے مسلسل ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے جو وہ اپنے دوپٹے سے صاف کرتی۔

 میں ہر ہفتے اپنی ماں کو روتے دیکھتا تو مجھے بانو قدسیہ نام سے ایک عناد پیدا ہونے لگا۔ یہ کیسی عورت ہے جو میری صابر و شاکر ماں کو ہر ہفتے رلاتی ہے۔ مدتوں بعد یہ راز مجھ پر کھلا کہ اگر میری ماں کو بانو قدسیہ کے ڈرامے میسر نہ ہوتے تو وہ کس بہانے سے اپنے آنسو کے سیلاب سے چھٹکارا پاتی۔ وہ آنسو جو اسے پورا ہفتہ نہ جانے کتنی بار امڈنے پر مجبور کرتے تھے لیکن پوری زندگی اس نے ایک عالم ضبط میں گزاری۔

میں بانو آپا کو اپنی ماں کا محسن سمجھنے لگا اور مجھے ان سے ملنے کا آشتیاق شدید ہوگیا۔ لاہور آتا تو ماڈل ٹاؤن کا چکر لگاتا، 121-C کے دروازے پر داستان سرائے لکھا ہوتا، لیکن اندر جانے کی ہمت نہ ہوتی۔ دیر تک اس کھلے گیٹ کو دیکھتا رہتا اور پھر واپس چلا جاتا۔ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس ان دنوں وائی ایم سی اے کے ایک کمرے میں ہوتے تھے۔ 1972ء میں ایک اجلاس میں میں نے اپنا افسانہ ’’ایلی ایلی لماشبقتنی‘‘ پڑھنا تھا۔

اجلاس کی صدارت اشفاق احمد صاحب کی تھی۔ گجرات سے لاہور آتے ہوئے سارا راستہ یہی سوچتا آیا کہ وہاں بانو آپا بھی موجود ہوں گی، لیکن وہ تو نہیں آئیں۔ چھوٹے شہر کے سولہ سالہ بچے کو بہت شرم محسوس ہو رہی تھی کہ وہ ایک خاوند سے سوال کرے کہ ان کی بیوی کیوں نہیں آئی۔ میں نے نثری نظم والے مبارک احمد سے کہ جو میرے ساتھ گجرات سے آئے تھے، کہا ان سے بانو قدسیہ کا پوچھ دیں۔ مبارک احمد نے اجلاس ختم ہونے کے بعد میرا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ بانو قدسیہ سے ملنا چاہتا ہے۔

اشفاق صاحب نے کہا وہ بانو قدسیہ نہیں بانو آپا ہے، میں نے کہا آپ کی بھی آپا، کہنے لگے سب سے پہلے میری آپا ہی تو ہے اور پھر زور سے اپنی جانب کھینچا، گلے لگایا اور کہا ’’اتنا اچھا افسانہ لکھتے ہو، بانو بہت خوش ہوگی تمہیں مل کر‘‘۔ لیکن ملاقات پھر بھی نہ ہوسکی۔ پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا، ہاسٹل داستان سرائے سے نزدیک تھا، لیکن یونیورسٹی کی تعلیم اور ساتھ ساتھ غم روزگار میں اتنا وقت بھی میسر نہ ہوتا کہ ایک طواف داستان سرائے کاہی کرلیا جائے۔

پاک ٹی ہاؤس میں جہاں اور بے شمار ادیبوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں سے ملاقات رہتی وہاں بانو آپا تو آتی ہی نہ تھیں۔ ٹیلی ویژن اپنے عروج پر تھا۔ بانو آپا اور اشفاق احمد ایسے نابغہ روز گار بن چکے تھے جن سے ملنے کا خواب دنیا دیکھتی تھی اور میں اس قطار میں اپنے دیہاتی پن کی وجہ سے چپ چاپ کھڑا تھا۔ پھر ایک دن جب میری ان دونوں سے پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک تقریب میں بیک وقت ایک ساتھ ملاقات ہوئی تو میں نے بلاکسی تمہید اپنی ماں کا پورا قصہ انھیں سنا ڈالا اور اپنی غزل کا وہ شعر بھی سنایا جو میں نے اپنی ماں کے آنسوؤں کو دیکھ کر کہا تھا  ؎

آنکھ کے روزن سے آنسو جھانکتے تھے بارہا
رفتہ رفتہ قیدیوں کو راستہ ملنے لگا

اس ملاقات کے بعد میرا اس گھر سے رشتہ ایسا ہوگیا جیسے محبت تقدس، احترام اور علم کی خوشبو کا شہر آباد ہو اور میں اس شہر کا ایک ادنیٰ مسافر، بڑے لوگوں کا یہ کمال ہوتا ہے کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ان کی محبت کی بارش ایسے ہی تھی۔ دونوں میاں بیوی کوئٹہ میں میرے گھر تشریف لائے تو اتفاقاً اس گھر کا نمبر بھی 121-C تھا۔ اشفاق صاحب چند لمحے حیرت سے کھڑے رہے، پھر لاہور جاکر اس حوالے سے جو خط تحریر کیا وہ میرے لیے سرمایہ ہے۔

بانو آپا سے گزشتہ سال میں نے اپنے ٹیلی ویژن پروگرام کے لیے ایک طویل انٹرویو کیا۔ یہ غالباً ان کا کسی چینل کے لیے آخری انٹرویو تھا۔ ساری گفتگو ان کی زندگی کے اس فلسفے کے گرد گھومتی رہی کہ مرد بنیادی طور پر عورت کی ڈھال ہے۔ ایک عورت اس کی پناہ میں پرسکون اور بے خوف رہتی ہے۔ کہنے لگی‘ میرا عورت کا وہی تصور ہے جو سید الانبیاء کا تصور ہے کہ اسے حیاء کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیے اور حیاء کے ساتھ وہ اسی وقت زندگی گزار سکتی ہے، اگر وہ کسی کی پناہ میں ہو۔

ماڈرن عورت پر سو طرح کے الزامات لگتے ہیں جن کا وہ تنہا سامنا کرتی ہے جب کہ ایک گھریلو عورت کو الزامات سے بچانے والی ڈھال اس کا خاوند ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ شکر عورت کو اپنے خاوند کا کرنا چاہیے، جس کے گھر میں رہتی ہیں، جس کی سواری میں سفر کرتی ہیں، جس کا رزق کھاتی ہیں، جو عورتیں اپنے شوہروں سے نکل جاتی ہیں ان کی زندگی کس قدر قابل رحم ہوتی ہے۔ جس گھر کے بیچ میں باپ نہیں ہوتا وہاں بیٹی کا جو حشر ہوتا ہے سب کو معلوم ہے، ایسے ہی جس گھر میں شوہر نہیں وہاں بیوی کی جو زندگی ہوتی ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ میں تو دعا کرتی ہوں کہ جیسا تیسا  ہو، ہر عورت کو ایک مرد ضرور ملے تاکہ رات کو چین کی نیند سوسکے۔

میں نے پوچھا اس لیے کہ لوگوں کو ڈرایا جاسکے، خوف پیدا کیا جاسکے۔ ایک دم بولیں تم غلط لفظ استعمال کررہے ہو، یہ مرد کا خوف نہیں بالکل اس کی محبت ہوتی ہے جو عورت کو ایک پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ کہنے لگیں گھروں میں رائے کا اختلاف اس وقت آتا ہے جب عورتیں خاوند کی رائے کا احترام نہیں کرتیں جس گھر میں باپ کی رائے کا احترام نہیں ہوتا، وہ گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ گھر برابری سے نہیں چلتے، میاں بیوی گاڑی کے ایسے دو پہیے ہیں جس میں ایک پہیہ جو مرد کا ہے وہ بڑا پہیہ ہے۔ وہ پہیہ بڑا نہ ہو تو گاڑی نہیں چل سکتی۔

یوں تو اس انٹرویو میں بہت کچھ تھا لیکن میں نے یہ ایک حصہ اس لیے منتخب کیا کہ اشفاق احمد صاحب کی خوش بختی اور خوش نصیبی ہے کہ انھیں بانو قدسیہ جیسی بیوی ملی جس نے انھیں ہمیشہ ایسے اپنے گھر میں سجائے رکھا جیسے کسی بلند و بالا چبوترے پر کوئی مجسمہ سجایا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے اقوال لکھے ہوتے ہیں جو سب کے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتے ہیں۔ کیا خوشبو تھی اس گھر کی کہ بڑے بڑے اہل نظر وہاں کچھ وقت گزارنا خوش بختی سمجھتے تھے۔

چالیس سالوں سے یہ گھر ادب کے ملحدانہ ماحول، سیکولرازم کے طوفان، حقوق نسواں کی نعرہ بازی، فیشن پریڈ اور تماشہ بنائی گئی عورت سے لتھڑے ہوئے میڈیا کے درمیان ایک الگ تھلگ بستی تھا۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا گھر ایک پورا شہر تھا جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ان سے عشق اور اس کی امت کے صالح چراغوں کی گفتگو گونجتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ میں ان کے گھر گیا تو گیراج میں مکڑی کا جالا لگا ہوا تھا۔

اشفاق صاحب کو دنیا سے رخصت ہوئے تھوڑا عرصہ ہوا تھا۔ مجھے باہر چھوڑنے آئیں تو گیراج پر رک گئیں، جالے اور مکڑی کو دیکھ کر بولیں، اشفاق صاحب کہا کرتے تھے، مکڑی کا اس امت پر کتنا بڑا احسان ہے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کرکے جارہے تھے اور کفار آپ کے تعاقب میں تھے تو آپ نے غار ثور میں پناہ لی۔ آپ کے ساتھ آپ کے بہترین ساتھی یار غار سیدنا صدیق اکبرؓ بھی موجود تھے۔ کفار تعاقب کرتے اس غار کے دروازے تک آپہنچے۔ لیکن غار کے منہ پر مکڑی نے جال بن دیا تھا اور وہ یہی سمجھے کہ اس غار کے اندر کوئی نہیں ہوسکتا ہے۔ یوں مکڑی اس امت کی محسن ہے۔

اشفاق صاحب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مکڑی کے  جالے سے بھی محبت کرتے تھے اور آج دیکھو ان کے جانے کے بعد یہ ہمارے دروازے کی پہچان بن گیا ہے۔ بانو آپا کا دکھ میرا دکھ ہے اور ان تمام لوگوں کا دکھ ہے جو اس پرآشوب ملحدانہ دور میں اللہ اور اس کے رسول سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے یہ تعلق مکڑی کے جالے جتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو جسے اللہ تار عنکبوت سے تشبیہ دیتا ہے۔ ہم سب اس تار عنکبوت سے جڑے ہیں جو بانو آپا جیسی مقدس ارواح کے توسل سے عشق رسول کی منزلیں طے کرتا اللہ کی محبوبیت تک لے جاتا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website