counter easy hit

پس پردہ

ڈاکٹر صفدر محمود

میرا اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ موضوع حساس ہے، قومی سیکورٹی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے اور باخبر لوگوں کے لئے مشق ستم کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھلا باخبر کون ہوتے ہیں؟ باخبر وہ ہوتے ہیں جن کے ذرائع حکمرانوں کی محفلوں اور میٹنگوں سے لے کر اہم ایجنسیوں کے کارندوں تک پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ باخبر بھی ہوتے ہیں اور استعمال بھی ہوتے ہیں۔ باخبر اس طرح کہ ان کو حکمرانوں کی میٹنگوں اور اہم ترین فیصلوں بلکہ سوچ اور مستقبل کے ارادوں سے بھی آگاہی ہوتی ہے اور انہیں آگاہ رکھنے والے یا باخبر رکھنے والے اس کی قیمت بھی مانگتے ہیں چنانچہ انہیں اہم مواقع پر اہم خبریں یا خصوصی انفارمیشن دے کر استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ حکومت کی اپنی ضروریات، حکمت عملی اور تقاضے ہوتے ہیں اور حکومت کے اثر اور کنٹرول سے باہر ایجنسیوں کا اپنا دائرہ کار، طریقہ کار اور ضروریات ہوتی ہیں۔ صحافی کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو اور خواہش خبر ہوتی ہے اور اگر کوئی خصوصی ایکسکلوسو خبر مل جائےتو صحافی کی چاند دیکھے بغیر عید بلکہ عیدیں ہو جاتی ہیں۔ مجھے اسلام آباد کا ایک سابق مہربان صحافی یاد آرہا ہے جو ملتے ہی بلاتکلف اعلان کرتا تھا کہ میں خبر کا بھوکا ہوں۔ دراصل یہ چھوٹی سطح کے صحافی ہوتے ہیں جو صبح سے کانوں پرقلم چپکا کر خبر کی تلاش میں دربدرکی ٹھوکریں کھاتے اور پھر شام تک دوچار خبریں لے کر اخبار کے دفتر میں چلے جاتے ہیں۔ باخبر لوگوں کو خبرخود ڈھونڈتی ہے اور انہیں اپنے گھر یا دفتر بیٹھے بٹھائے خبر پہنچ جاتی ہے۔ باخبر اور اعلیٰ سطح کے ان صحافیوں کا بھرم اور بظاہر دیانتداری کا تاثر بھی قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے اس لئے انہیں کبھی کبھار اور صرف اہم مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ عام حالات میں وہ خوب گرجتے رہتے ہیں، حکومت پر بھی پتھروں کی بارش کرتے رہتے ہیں اور دوسرے اداروں پر بھی ہلکی پھلکی تنقید کی مشق جاری رکھتے ہیں تاکہ ان کی دیانتداری، قلم کی عصمت اور نیوٹرل پوزیشن یعنی سیاسی غیروابستگی پر حرف نہ آئے۔
ایسے باخبر اور بااثر صحافیوں کو حکومتی ذرائع اہم میٹنگوں اور فیصلوں کے شرکا عام طور پر اندر کی کہانی سے آگاہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بیان کردہ اور دی گئی خبریں سچ ہوتی او رسچ نکلتی ہیں۔ اکثر اوقات ان کو اندر کی کہانی سے آگاہ کرنےکے بعد اس کے افشا سے سختی سے منع کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی تحریروں میں اشاروں کنایوں سے کام لیتے ہیں اور واضح انداز میں بات نہیں کہتے۔ کبھی کبھار ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی حوالے سے یا حکومتی حکمت ِ عملی کے طور پر کوئی خصوصی خبر لیک کرنی ہوتی ہے تو ان حضرات میں سے کسی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ جب خبر کے خلاف احتجاج ہوتا ہے یا شور برپا ہوتا ہے یا ردعمل سے خوف پیدا ہوتا ہے تو اس خبر کی تردید کے علاوہ انکوائری کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ تادیبی کارروائی کا اعلان بھی کیا جاتا ہے لیکن چند دنوں میں جب شور یا احتجاج کی مٹی بیٹھ جاتی ہے تو سارے معاملے پر مصلحت کی چادر ڈال دی جاتی ہے کیونکہ اگر صحیح معنوں میں انکوائری ہو تو اس میں اپنوں کا نام آتا ہے، سرکاری ذرائع افشا ہوتے ہیں اس لئے چند دنوں میں سار ےمعاملے کو ڈسٹ بن میں ڈال کر مٹی پائو کا عمل مکمل کردیا جاتا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ اگرچہ حکومت اس پر مٹی ڈال دیتی ہے لیکن جن حساس اداروں کو اس خبر سے رنج پہنچتا ہے وہ اپنے ذرائع سے اس کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ میرا یہ بھی تجربہ ہے کہ کبھی کبھارایسی خبروں کے افشا کے لئے جس ذریعے کو قابل اعتماد سمجھ کر استعمال کیا جاتاہے وہ یا تو ڈبل ایجنٹ ہوتا ہے اور خاموشی سے متعلقہ ادارے کو راز کی بات بتادیتاہے یاپھرحساس اداروں کے دبائو اور خوف کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اپنی خبر کا ’’سورس‘‘ اس یقین دہانی پر بتا دیتا ہے کہ راز….. راز رہے گا۔ آپ پوچھیں گے ڈبل ایجنٹ سے کیا مرادہے؟ ڈبل ایجنٹ وہ ہوتاہے جس کے رابطے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ دونوں اطراف اسے اپنا بندہ سمجھتی ہیں اور اعتمادکرتی ہیں۔ چنانچہ ڈبل ایجنٹ بوقت ِ ضرورت اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر پہنچانے کا کام کرتارہتا ہے۔ یہ مخصوص حضرات حکمرانوں کے پسندیدہ اور ایجنسیوں کے معتمد اور پیارے ہوتے ہیں۔ ایجنسیاں نہ ہی صرف ان کو خاص مواقع پر اپنا نقطۂ نظر پھیلانے کے لئے استعمال کرتی ہیں بلکہ ان کی خاطر تواضع بھی کرتی ہیں، مالی ضروریات بھی پوری کرتی ہیں اور کبھی مشکل میں پھنس جائیں تو مشکل سے نکلوانے کا وعدہ بھی کرتی ہیں۔ ان کی نوکری خطرے میں پڑ جائے تو اس سے بہتر تنخواہ پر نوکری دلانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ خود ملازمت دینے والے ایسے لوگوں کی بڑی بولی لگاتے اور بڑی تنخواہیں دیتے ہیں تاکہ وہ ’’ان کی‘‘ گڈ بکس میں رہیں۔ میری ان معروضات کے پس پردہ ان گنت تجربات و مشاہدات ہیں جنہیں لکھ نہیں سکتا لیکن آج کے تناظر میں ایک واقعہ نوک ِ قلم پر تڑپ رہا ہے اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد واقعات تاریخ بن جاتے ہیں اور تاریخ کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یاد کیجئے 1993کا وہ سیاسی منظر جب صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں نوازشریف کے درمیان سردجنگ نے کھلم کھلا جنگ کی شکل اختیار کرلی تھی۔ صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کو برطرف کیا تو وہ سپریم کورٹ سے بحال ہو کردوبارہ وزیراعظم بن گئے لیکن صدر نے انہیں قبول نہ کیا۔ صدر نے پنجاب میں مسلم لیگی وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کے خلاف عدم اعتمادکا ووٹ پاس کروا دیا۔ انہی دنوں امریکی پریس میں پاکستان کی فوج کے حوالے سے ایسا مواد شائع ہوا جس سے ہماری فوج پر الزامات لگے اور فوج کا امیج بری طرح متاثر ہوا۔ حکومت کاموقف تھا کہ ہمیں اس کا کچھ علم نہیں بلکہ ہمیں اس پر سخت افسوس اوردکھ ہے….. انہی دنوں اتفاق سے میری آرمی چیف جناب وحید کاکڑ سے چند منٹوں کی ملاقات ہوگئی۔ انہیں نہ صرف اس سازش کے پس منظر کا علم تھا بلکہ انہوں نے نام لئے بغیر اس حکومتی معتمد کی طرف بھی اشارہ کردیا جواس کارروائی کےپس پردہ متحرک تھا۔ تفصیل میں نہیں جاسکتا۔ اتنا لکھنا کافی ہے کہ بس چند دنوں بعد صدر مملکت اور وزیراعظم دونوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں کہ زیادہ لکھنا خطرناک ہوتاہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website