counter easy hit

چند بازاری غذائوں سے پرہیز کریں

پاکستانی شہروں میں آباد بہت سے خاندان عموماً رات کو ہوٹلوں، ریستورانوں، کیفے وغیرہ میں کھانا کھاتے ہیں اور اس میں مستقل اضافہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے کھانوں سے پرہیز کریں جو بہت زیادہ نمک، چینی، تیل، اضافی  اور تحفظی رکھتے ہیں۔ ورنہ یہ کھانے بہت جلد انھیں بیمار کر ڈالیں گے۔ ایسی ہی کچھ غذاؤں کا تعارف درج ذیل ہے۔

چکن نگٹس
یہ غذا بچوں بڑوں، سبھی میں مقبول ہے۔ مزے دار اور منہ میں پانی بھر دینے والی ہوتی ہے۔ مگر اس میں رچا بسا تیل، نمک، چکنائی اور تحفظی مادے اسے صحت کے لیے خطرناک بنا ڈالتے ہیں۔ لہٰذا چکن نگٹس ہمارے بدن کو کچھ غذائیت فراہم نہیں کرتے۔ اس سے بہتر ہے کہ مرغ کا سادہ سالن کھا لیجیے۔

فرنچ فرائیز
تیل میں خوب تلی گئیں آلو کی یہ قاشیں بھی ہمارا من بھاتا کھا جا ہے۔ لیکن یہ غذا بہت زیادہ حرارے (کیلوریز) رکھتی ہے اور یہی امر اسے صحت کے لیے نقصان دہ بنا ڈالتا ہے۔ مزید براں فرنچ فرائیز ہمیں کوئی غذائیت بھی فراہم نہیں کرتے بلکہ ہمیں فربہ کرتے اور ہمارے خون میں شکر کی سطح بڑھاتے ہیں۔

سفید چاول
چونکہ دکانوں سے سفید چاول بآسانی مل جاتا ہے، لہٰذا پاکستان میں یہی سب سے زیادہ پکتا ہے۔ مگر تیار (پروسیس) شدہ ہونے کے باعث سفید چاول بہت کم غذائیت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس سے بس پیٹ بھرنا ممکن ہے، ورنہ یہ ہمیں صحت عطا نہیں کرتا۔ اس کے بجائے بھورے سے چاول میں زیادہ معدنیات و حیاتین ہوتے ہیں۔ گو وہ زیادہ مہنگے ہوتے اور دیر سے پکتے ہیں۔ جب کہ سفید چاول چند منٹ میں پک جاتے ہیں۔

آلو کے چپس
یہ قتلے بچے بڑے بصد شوق کھاتے ہیں۔ بلکہ کچھ نہ پکا ہو تو آلو کے چپس ہی کھائے جاتے ہیں۔ مگر یہ کھانا بھی چکنائی، نمک اور تحفظوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ نیز اس میں حرارے خوب بھرے ہوتے ہیں اس لیے یہ چسکے دار غذا تو ہے مگر ہمارے بدن کو فائدہ نہیں پہنچاتی۔ لہٰذا اس سے پرہیز ہی بہتر ہے۔

کولا بوتلیں
کبھی کبھار بوتل پینا تو قباحت کی بات نہیں لیکن روزانہ دو تین بوتلیں پینا معمول بنا لینا مضر صحت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں موجود مصنوعی مٹھاس اور دیگر مادے بڑے نقصان دہ ہیں۔ اگر آپ تندرستی اور خوش و خرم زندگی چاہتے ہیں تو ہر قسم کی حتیٰ کہ ڈائیٹ بوتلوں سے بھی دور رہیے۔

تلا گوشت
بہت سے ہوٹل والے سرخ یا سفید گوشت کی ڈشیں غیر معیاری تیل میں تلتے ہیں۔ نیز کھانا چسکے دار بنانے کے لیے غذا میں مختلف کیمیائی مادے بھی ملائے جاتے ہیں۔ چناں چہ یہ عمل گوشت والے بازاری کھانوں کو صحت کے لیے مضر بنا ڈالتا ہے۔ ان سے بہتر گھر میں صاف ستھرے طریقے سے پکا ہوا گوشت ہے۔

ڈبوں میں بند اناج
آج کل مختلف اناج مثلاً مکئی، جئی وغیرہ تیار شدہ اور ڈبوں میں پیک ملتے ہیں۔ لوگ عموماً انھیں ناشتے میں دودھ کے ساتھ کھاتے ہیں۔ لیکن یہ تیار شدہ اناج اضافی شکر، تحفظی مادے اور بہت کم ریشہ (فائبر) رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ ہمارے بدن کو کوئی غذائیت نہیں دیتے۔ البتہ ایسا تیار شدہ اناج مفید ہے جو زیادہ سے زیادہ ریشہ فراہم کرے۔

مخلوط کافی
کئی مرد و زن مخلوط کافی پسند کرتے ہیں۔ لیکن ایسی کافی کی صرف ایک پیالی 300حرارے رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ انسان کو فربہ کرنے کا سہل نسخہ ہے۔ اگر آپ کافی پینا ہی چاہتے ہیں تو سیاہ  والی نوش کریں۔ سیاہ کافی کی ایک پیالی صرف پانچ حرارے رکھتی ہے۔

مارجرین
چکنائی سے بھرپور مکھن کا نعم البدل سمجھ کر سیکڑوں لوگ مارجرین استعمال کرتے ہیں مگر آپ کو تندرستی چاہیے ہے تو اسے نہ اپنائیے۔ وجہ یہ ہے کہ مارجرین کثیر مقدار میں ٹرانس فیٹس  کی حامل ہوتی ہے جو انسان کو کئی بیماریوں کا شکار بنانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔