counter easy hit

بل کلنٹن کے اشارے پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے پاک فوج کو پسپا ہونے کا حکم دے دیا مگر کیپٹن قاضی جواد نے کیسے وطن کی مٹی کا قرض چکایا اور پاک فوج کی شان پر اپنی زندگی نچھاور کی ؟ آپ بھی جانیے

At the behest of Bill Clinton, the then Prime Minister Nawaz Sharif ordered the Pak army to withdraw, but how did Captain Qazi Jawad pay off the soil debt of the homeland and squeeze his life on the glory of the Pak Army? You also learn

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) کارگل کے بٹالک سیکٹر کی ارشد پوسٹ پر بھارتی فوج کا قبضہ ہوچکا تھا ۔ لیفٹیننٹ فیصل گھمن اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کرچکے تھے ۔(جن کا تذکرہ پچھلے کالم میں ہوچکا ہے) ۔چونکہ کچھ ہی فاصلے پر اللہ اکبر پوسٹ پر کیپٹن جواد اکرام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشمن سے برسر پیکار تھے چنانچہ انہیں حکم ملا کہ وہ دشمن فوج سے ارشد پوسٹ کا قبضہ واپس لیںاور شہداء کی میتوں کو عزت و احترام سے پیچھے بھجوائیں ۔بھارتی فوج کو علم تھا کہ پاک فوج قرض اتارنے کیلئے ضرور حملہ آور ہوگی ۔سینئر کا حکم ملتے ہی کیپٹن قاضی جواد آٹھ جوانوں کیساتھ ارشد پوسٹ کی جانب بڑھے اور پہلے ہی کمانڈو ایکشن میں آدھے سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کردیئے۔ جابجا بکھری ہوئی نعشوںسے خوفزدہ ہوکر بھارتی فوج نے ارشد پوسٹ کو از خود خالی کردیا۔ ارشد پوسٹ پر ایک بار پھر سبزہلالی پرچم لہرا دیا اور وہاں چند جوان چھوڑ کر کیپٹن جواد اپنی پوسٹ اللہ اکبر پر واپس آگئے۔ پھر وہ دن بھی آپہنچاجب انڈیا کے دبائو میں امریکی صدر کلنٹن نے وزیر اعظم نواز شریف کو کارگل کی وہ تمام پوسٹیں خالی کرنے کا حکم دیدیا جن پر پاک فوج نے قبضہ کرلیاتھا۔دشمن کے سامنے سینہ سپر جوانوں کو جب پسپائی کا حکم ملا تو نظم و ضبط جذبات پر حاوی ہوگیا ۔ واپسی کا سفر شروع ہوا تو کیپٹن جواد نے اپنے کمانڈنگ آفیسر سے کہا قومی پرچم ہماری آن اور شان ہے ‘ دشمن جب اس پوسٹ پر قابض ہوںگے تو وہ ہمارے پرچم کی توہین کرینگے ۔اجازت ملنے پر کیپٹن جواد ایک سپاہی کیساتھ آسمان تک بلند برف پوش پہاڑی پر چڑھنے لگے۔ بھارتی فوج مسلسل گولہ باری کررہی تھی ۔ جیسے ہی کیپٹن جواد نے سبز ہلالی پرچم اتارکرسینے سے لگایا تو بھارتی توپ کا ایک گولہ بالکل قریب گرا جس کے ٹکڑے کیپٹن جواد کے جسم میں پیوست ہوگئے ۔ چھاتی کندے اور بائیں آنکھ پر گہرے زخم آئے یہی زخم کیپٹن جواد اکرام کی شہادت کا باعث بنے ۔بیٹے کی شہادت سے پندرہ دن پہلے قاضی ریاض حسین نے ایک انوکھا خواب دیکھا۔ مسجد نبوی کے کشادہ ہال میں نورانی چہرے پرسکون انداز میں ہمہ تن گوش بیٹھے ہیں ۔ہرشخص نے سرپر سفید دستار پہن رکھی ہے۔ کیپٹن جواد کے والد نے خود کو ان مقدس ہستیوں کے درمیان کھڑا ہوا پایا ۔اچانک صدا بلند ہوتی ہے قاضی ریاض آپ بھی دستار پہن لیں ۔جو دستار پہننے کیلئے انہیں دی گئی وہ سرخ رنگ کی تھی جسے پہن کر وہ سب سے نمایاںدکھائی دینے لگے۔ جس روز جی ایچ کیو سے کرنل سجاد کا فون آیا کہ آپ کا بیٹا کیپٹن جواد کارگل جنگ میں زخمی ہوگیا ہے تو قاضی ریاض پر سرخ دستار پہننے کے اسرار و رموز کھلنے لگے ۔آگہی کے ان لمحوں میں انہوںنے خود کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔قاضی ریاض آج تک تم نے جواد کواپنے جسم سے الگ نہیں سمجھااگر بیٹے کی جدائی کی خبر صحیح نکلی تو تمہارے دل کی دھڑکن بندہوجائے گی تم جواد کے بغیر جی نہیں سکوگے ۔ صرف دو دن پہلے سب گھر والوں نے کارگل کے شہیدوں کے نام پر ایک ٹی وی پروگرام اکٹھے بیٹھ کر دیکھااس لمحے کسی کو بھی خبر نہیں تھی کہ ان کے حصے میں بھی یہ سعادت آنیوالی ہے۔والدہ کے بقول کیپٹن جواد نے اپنی شہادت کے دن گھر میںایک طویل کال کی ۔اس دن اس کی آواز میں مسرت و شادمانی اور سکون واضح طور پرمحسوس ہورہا تھا ۔ شاید اسے پتہ چل چکا تھا کہ وہ جلد ہی شہیدوں کے اس قافلے میں شامل ہونیوالے ہیں جس کی قیادت روز قیامت سید الشہداء حضرت امام حسین ؓ کرینگے۔ 28جولائی 1999ء کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا کیپٹن قاضی جواد شہید اپنے گھر کی د ہلیز پر موجود تھا۔ جونہی لکڑی کے تابوت کوکھلا گیا ایک دل پذیر خوشبو نے سارے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ لیا یوں محسوس ہورہا تھا جیسے شہید نے عرق گلاب سے غسل کیا ہے۔ شہید کے چہرے پر مسکراہٹ اور تبسم کو ہر کسی نے دیکھا۔ کیپٹن جواد کی ٹوپی ‘چھڑی ان کے والد کے سپرد کردی گئی۔ بعدازاں شہید کو گارڈن ٹائون لاہور کے قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کیساتھ دفن کردیا گیا۔ گارڈن ٹائون چوک کا نام اسی شہید کے نام سے منسوب کیاگیا۔ بعداز شہادت انہیں تمغہ بسالت سے نوازا گیاجو ان کے والد قاضی ریاض نے وصول کیا۔ کیپٹن جواد 5اگست 1975ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے ۔1994ء میں کمیشن حاصل کرکے فوج کو جوائن کیااور 26جولائی 1999ء کو جام شہادت نوش کیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website