counter easy hit

اسلم کولسری رخصت ہو گئے !

ایک درویش صفت شاعر اسلم کولسری دو روز پہلے ہم سے جدا ہو گئے۔ کولسر اوکاڑہ کے ایک گائوں کا نام تھا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دن بسر کئے۔ یہاں چھائونی بن گئی مگر اسلم کو منظور نہ تھا کہ اس کے گائوں کا نام تک سلامت نہ رہے۔ چنانچہ انہوں نے کولسر کو اپنے نام کا حصہ بنا کر اسے بھی اپنی شاعری کی طرح لمبی عمر عطا کر دی۔

اپنے اکثر دوستوں کی طرح اسلم کولسری کے حوالے سے بھی مجھے یاد نہیں کہ ان سے میری پہلی ملاقات کہاں ہوئی تھی اور کب ہوئی تھی۔ بس اتنا یاد ہے کہ اردو سائنس بورڈ لاہور میں ان سے ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اشفاق احمد اس ادارے کے سربراہ تھے۔ شلوار کرتے میں ملبوس اسلم کولسری ایک بڑے ہال میں اپنے کولیگز کے ساتھ بیٹھے ہوتے، یہاں پاکستان کے صف اول کے محقق اکرم چغتائی سے بھی ملاقات ہو جاتی اور اشفاق صاحب سے تو بہرحال ان کے دفتر کے علاوہ بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اسلم کولسری کو نہ تو اپنا کلام سنانے کا شوق تھا اور نہ وہ کسی ملاقاتی شاعر سے کلام سنانے کی فرمائش کا رسک لیتے۔ بس گپ شپ کرتے، کھل کر ہنستے، اچھا جملہ کہتے، اچھے جملے کی داد دیتے، ان لمحوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ شخص اندر سے بہت دکھی ہے۔ اسلم نے غربت کے ماحول میں آنکھ کھولی تھی، ایک فیکٹری میں مزدور کے طور پر بھی کام کیا۔ اس دوران اوکھے سوکھے ہو کر تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ زمانے کے تھپیڑے کھاتے کھاتے ایک دن لکھنے پڑھنے کا کام بھی مل گیا اور یوں جسمانی مزدوری کی مشقت سے ان کی جان چھوٹی اور دوسرے وہ اندر سے بہت تھک چکے تھے۔ ان کی سوچ بہت رومانی تھی، وہ اب بھی ایک خوبصورت معاشرے کا خواب دیکھتے، اپنے اردگرد خوبصورتی تلاش کرتے اور خوبصورت لوگوں سے مل کر خوش ہوتے۔ ان کی شاعری میں جمالیاتی کیفیت بہت نمایاں ہے اور کہیں بہت تہہ میں جا کر ان دکھوں کی کسک بھی ملتی ہے جو ان کے حصے میں آئے اور جو لاکھوں کروڑوں لوگوں کو بھی ورثے میں ملتے چلے آ رہے ہیں۔ کہیں کہیں پر یہ دکھ چیخ کی صورت میں بھی ملتے ہیں مگر ان کی شاعری جو ان کے دس مجموعوں میں پڑھنے کو ملتی ہے بہت دھیمے لہجے کی شاعری ہے۔ یہی دھیما پن ان کے مزاج کا بھی حصہ تھا تاہم لگتا تھا کسی زمانے میں یا شاید عمر بھر کسی سے لڑتے جھگڑتے بھی رہے ہیں چنانچہ کئی دفعہ دفتر میں ہی رات کو زمین پر پڑ کر سو جاتے۔ انہیں بس، ویگن اور جہاز میں سفر سے خوف آتا تھا۔ جہاز کا خوف میں نے ان کے دل سے نکالا اور وہ میرے ساتھ قطر کے مشاعرے میں گئے اور پھر مجلس فروغِ اردو ادب جیسی عظیم ادبی تنظیم کی سالانہ تقریبات کا وہ مستقل حصہ بن گئے۔ ایک مزے کی بات ہے کہ انہیں اداکاری کا بھی شوق تھا چنانچہ میں نے انہیں اپنے ایک ڈرامہ سیریل میں بک بھی کیا مگر پھر ویگنوں کے خوف سے چند قسطوں کے بعد ہی اسلم اپنے اس شوق سے توبہ تائب ہو گئے تاہم ایف ایم 95سے وہ ایک جانگلی کردار ’’مغلے‘‘ کی صورت میں سامنے آئے اور میرے نزدیک یہ ایک لافانی کردار تھا جو وہ فی البدیہہ ادا کرتے اور جانگلی زبان اور سوچ کے کئی زاویے سامنے لائے۔
اسلم کولسری محفلوں کے شوقین نہیں تھے۔ تقریبات سے بھی انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مشاعروں میں بھی بہت کم کم جاتے تھے۔ میں ان سے بہت ناراض ہوتا جب وہ میری کسی تقریب میں نہ آتے مگر پھر انہیں منانا بھی تو آتا تھا۔ اتنے پیار سے معذرت کرتے کہ مجھے یقین ہو جاتا کہ وہ آئندہ میرے بلانے پر ضرور آئیں گے چنانچہ میں پھر انہیں مدعو کر بیٹھتا اور وہ پھر نہ آتے___مگر جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ انہیں منانا تو آتا تھا، سو میں اور اسلم دونوں اپنی اپنی روش پر قائم رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ شدید بیمار ہو گئے۔ یہ ایک طرح کی اعصابی بیماری تھی، مجھے پتہ چلا تو میں نے اسلام آباد میں ڈاکٹر جاوید اکرم سے بات کی جن ایسے اعلیٰ درجے کے معالج اور اعلیٰ درجے کے انسان ہمارے ہاں ذرا کم کم ہی ہیں۔ میں نے اسلم کو فون کیا کہ ابرار نوید آپ کو اسلام آباد لے آئے گا، آپ کا بہترین علاج یہاں ہو گا، ہسپتال کے پرائیویٹ کمرے میں آپ ہوں گے اور دیکھ بھال کے لئے میں خود یہاں موجود ہوں گا، چنانچہ فوراً آ جائیں۔ وہ مان گئے مگر بعد میں ان کے ایک مداح نے لاہور ہی میں ایک ڈاکٹر سے ان کی ملاقات کرا دی مگر اب وہ جینا چاہتے ہی نہیں تھے۔ انہوں نے ایک دن پہلے ابرار سے کہا کہ وہ اب زندہ نہیں رہیں گے سو وہ اپنی بات پر قائم رہے اور ہم سے رخصت ہو گئے۔
سوچ سوالی کر جاتے ہیں
صبحیں کالی کر جاتے ہیں
اسلمؔ چھوڑ کے جانے والے
آنکھیں خالی کر جاتے ہیں
اسلم کولسری ہم سے رخصت ہوئے ہیں مگر ان کی زندہ شاعری ہمارے ساتھ ہے۔
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کسی کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
_________
گریۂ خام سے نہیں آیا
چین آرام سے نہیں آیا
کھل کے بیٹھو کہ ملنے آیا ہوں
میں کسی کام سے نہیں آیا
_________
ایسا نہیں کہ دست دعا بے اثر گیا
کشتی کا ڈوبنا تھا کہ دریا اتر گیا
کیا ایسا شاعر کبھی ہو سکتا ہے؟

 

بشکریہ جنگ

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website