counter easy hit

، آرمینیا نےنگورنو کاراباخ میں شکست تسلیم کرلی، روسی صدرکی سرکردگی میں امن معاہدہ طے

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) آذربائیجان متنازع علاقے کاراباخ میں جنگ ختم کرنےکا معاہدہ طے پاگیا اور آرمینیا نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق روس آذر بائیجان اور آرمینیا کے راہنماؤں نے متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کا نفاذ منگل 10 نومبر سے ہو رہا ہے۔روسی صدر پیوٹن نے آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ ختم کرنے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ روس نے قیام امن کیلئے امن دستے روانہ کردئیے ہیں۔ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد آج رات سے شروع ہو گا۔ پیوٹن نے کہا کہ امید ہے معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے دیرپا حل کی شرائط طے کرنے میں مدد ملے گی۔روسی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ تصادم سے روکنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان فرنٹ لائنز پر روسی امن فوجی دستے تعینات کئے جائیں گے۔آذربائیجان کا کہنا ہے کہ اس نے نگورنو کاراباخ کے آس پاس کے ان بیشتر علاقوں کو حاصل کر لیا ہے جو سن 1991 سے 94 کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ اس جنگ میں تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے خطے میں جاری جنگ میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے تین بار جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان ہوا تاہم جنگ روکنے میں کامیابی نہیں ملی۔وزیراعظم آرمینیا نے کہا ہے کہ کاراباخ سےمتعلق معاہدہ ہمارے لیے تکلیف دہ ہے، آئندہ چند روزمیں قوم سے خطاب میں معاہدے کی تفصیلات بتاؤں گا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کا فیصلہ زمینی حقائق کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ جنگ ختم کرنے سے پہلے ماہرین سے زمینی حقائق سے متعلق رائے لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست تب تک نہیں ہوتی جب تک شکست کو تسلیم نہ کر لیا جائے۔ آرمینیا کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ”میدان جنگ کی صورت حال اور اس سے متعلق بہترین ماہرین کے عمیق تجزیے اور صلاح و مشورے کی بنیاد پر معاہدے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ایک فتح تو نہیں لیکن جب تک آپ اپنے کو شکست خوردہ تسلیم نہ کریں تب تک یہ ہار بھی نہیں ہے۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو شکست خوردہ نہیں سمجھیں گے اور یہی ہمارے قومی اتحاد اور ایک نئے عہد کا آغاز ثابت ہوگا۔”

ARMENIA, ACCEPTED, THE, DEFEAT, IN, NAGORNO KARABAKH, AND, PEACE, AGREEMENT, BETWEEN, BOTH, STATES, SIGNED-2

خیال رہے کہ آذربائیجان کے بیشتر علاقے پر 1993 سے آرمینیا نے مبینہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ سابق ​​سوویت یونین نے 1921 میں رمینیائی علاقہ آذربائیجان کے ساتھ ضم کر دیا تھا۔ 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ آرمینیا ایک مسیحی ریاست ہے جس کا روس کے ساتھ اتحاد ہے لیکن روسی افواج براہ راست اس تنازعے میں شریک نہیں ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے بعد ماسکو نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ آرمینیا، روس اور آذربائیجان کے سربراہان حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینین کا اس حوالے سے ایک بیان فیس بک پر شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا، ”میں نے کاراباخ میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور آذربائیجان کے صدور کے ساتھ ایک بیان پر دستخط کر دیے ہیں۔” آرمینیائی صدر نے اس قدم کو بہت ہی تکلیف دہ بتاتے ہوئے کہا یہ عمل، ”میرے لیے ذاتی طور پر اور ہماری عوام کے لیے ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ ہے۔” اس کے بعد آرمینیا کے وزیراعظم نے روسی صدر ولاد میر پوٹن کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کی اور پھر کہا، ”جس سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں وہ تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم نکتہ ثابت ہوگا۔” روس کے صدر پوٹن کا کہنا تھا، ”ہم سمجھتے ہیں کہ جو معاہدہ طے پایا ہے اس کی بنیاد پر نگورنوکاراباخ کے آس پاس کے بحران کو مکمل اور طویل مدتی طور پر حل کرنے کے لیے ایسے سازگار حالات پیدا ہوسکیں گے، جس سے آرمینیائی اور آذربائیجان کی عوام کا بھی مفاد وابستہ ہے۔” روسی صدر کا کہنا تھا کہ فریقین نے پہلے ہی سے جنگی قیدیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے تبادلے جیسے کام شروع کر دیے ہیں۔ اس معاہدے میں منگل 10 نومبر کی درمیانی شب سے علاقے میں مکمل طور پر جنگ بندی کی بات کہی گئی ہے۔نگورنو کاراباخ علاقے کے رہنما اریاک ہروتیونیان نے بھی فیس بک پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے بھی، ”جتنی جلدی ممکن ہو، جنگ بندی کے معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے۔” لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آرمینیا کی عوام اس معاہدے سے ناراض ہے۔ خبر رساں ادارے اے کے مطابق معاہدے سے ناراض آرمینیائی لوگوں نے یریوان میں حکومتی عمارتوں کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی ہزار لوگ مظاہرے کے لیے سرکاری عمارتوں کے باہر جمع ہوئے تھے اور سینکڑوں نے عمارتوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور ہنگامہ کیا۔

قومی یکجہتی کا نیا دور

نگورنو کاراباخ میں تقریبا چھ ہفتے تک زبردست لڑائی کے بعد جنگ بندی کے اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب آذربائیجان کی فوج اچھی خاصی پیشقدمی کر چکی تھی۔ گزشتہ روز ہی آذربائیجان نے خطے کے متعدد علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی اس نے نگورنو کاراباخ کے دوسرے سب سے بڑے شہر پر فتح کا اعلان کر دیا تھا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website