یونیورسٹیوں میں دھرنے اور کلاسز کا بائیکاٹ جاری
فرانس میں طلبہ کی تحریک نے حکومت کی جانب سے نئے کریک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر وہ ابھی رک گئے تو انہیں شکست ہوگی اور حکومت جیت جائے گی۔
پیرس کی یونیورسٹیوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے دھرنے اور بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ پیرس سائٹ یونیورسٹی میں داخلہ بند ہے جہاں طلبہ نے جم میں احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ کچھ طلبہ وہیں قیام پذیر ہیں جبکہ دیگر سماجی تنازعات پر لیکچرز میں شرکت کر رہے ہیں۔
طلبہ کا مؤقف: رکنے کا مطلب ہار
ماسٹرز کی طالبہ البا نے بتایا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ حکومت کس حد تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ابھی رک گئے تو ہم ہار گئے اور وہ جیت گئے۔ ان کے مطابق طلبہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کریک ڈاؤن کہاں تک جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے احتجاج میں تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کے باوجود طلبہ کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ وہ لوٹ مار کے خلاف ہیں لیکن ریاست خود لوگوں کو توڑ رہی ہے اور ان کی زندگیاں برباد کر رہی ہے۔
حکومت کے سخت اقدامات
حکومت نے ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ مشتبہ افراد کی حراست کی مدت 72 گھنٹے تک بڑھانے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ ان اقدامات کے باوجود طلبہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔
مطالبات تعلیم سے آگے بڑھ گئے
طلبہ کی تحریک صرف تعلیمی اصلاحات تک محدود نہیں رہی۔ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، نقل و حمل، خوراک اور معاشی مشکلات بھی احتجاج کے اہم نکات ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ماہ کے آخر میں کیے جانے والے وعدے اب بہت دیر ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی اثرات اور حمایت
طالبہ ایلسا نے کہا کہ فرانس آج پورے یورپ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اٹلی، بیلجیم، یونان اور البانیہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب فرانس چھینکتا ہے تو پوری دنیا کو نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔
جرمنی کے طلبہ نے فرانسیسی طلبہ کو حمایت کا پیغام بھیجا ہے جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ ایلسا نے بتایا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں اٹلی کے شہر بولوگنا جا رہی ہیں جہاں وہ اطالوی طلبہ یونینز سے ملاقات کریں گی اور وہاں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کریں گی۔
