گروک امیجین سے تیار کردہ پہلی قسط جاری
ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر گروک امیجین کے نام سے “اوڈیسی” سیریز کی پہلی قسط جاری کی گئی ہے۔ اس قسط میں ہومر کی مشہور نظم “اوڈیسی” کے کرداروں کو دکھایا گیا ہے، تاہم پوری ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کی گئی ہے۔
ویڈیو میں یولیسس کو ایتھاکا سے روانہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ پینیلوپ اور شیر خوار بیٹے ٹیلیماکس کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
نولان کی فلم پر مسک کا اعتراض
گزشتہ موسم گرما میں ایلون مسک نے کرسٹوفر نولان کی فلم “اوڈیسی” پر سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نولان نے کہانی کو مسخ کر دیا ہے۔ مسک نے ہیلن آف ٹرائے کے کردار کے لیے لیوپیتا نیونگو کے انتخاب کو بھی غلط فیصلہ قرار دیا تھا۔
اسی تناظر میں مسک نے اپنی کمپنی کی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے “اوڈیسی” کا اپنا ورژن بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سیریز ونڈر اسٹوڈیوز اور مصنوعی ذہانت کے ماہر ہدایت کار ڈیو واکر کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔
صارفین کا ردعمل
ویڈیو جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک بیلجیئم کے یوٹیوبر نے لکھا کہ “یہ بالکل ویسا ہی بیکار ہے جیسا کہ توقع تھی۔” ایک اور صارف نے کہا کہ “یہ ایلون مسک کی پسند کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے، یہ بالکل فضول ہے۔”
بہت سے صارفین نے ویڈیو کے معیار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کرداروں کی دھندلی نظروں، بے ترتیب حرکتوں اور مصنوعی آوازوں کی نشاندہی کی۔ کئی صارفین نے یہ بھی لکھا کہ وہ کرسٹوفر نولان کا ردعمل دیکھنا چاہیں گے۔
تاریخی درستی کے دعوے پر سوالات
ایلون مسک نے جولائی میں X پر اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 کے آخر تک “اوڈیسی کا ایک تاریخی طور پر درست ورژن” پیش کریں گے۔ ان کے مطابق یہ ورژن ہومر کے فنی وژن کے مطابق ہوگا۔ تاہم صارفین نے اس دعوے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
ایک صارف نے پوچھا کہ کردار انگریزی میں کیوں بول رہے ہیں۔ کئی صارفین نے نشاندہی کی کہ کشتیاں وائی کنگ طرز کی دکھائی دیتی ہیں۔ مناظر اور ملبوسات کو دیکھ کر کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ اسکاٹ لینڈ میں بنائی گئی ہوں۔
نولان کی فلم کی کامیابی
کرسٹوفر نولان کی “اوڈیسی” فلم نے اب تک 1.5 بلین ڈالر سے زائد کی کمائی کی ہے۔ اسے یونیورسل اسٹوڈیو کی اب تک کی سب سے کامیاب فلم قرار دیا گیا ہے۔
