فرانس کے شہر لیموژ میں تاریخی سٹی ہال کو آگ لگانے کے معاملے میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک 40 سالہ شخص کو منگل کی صبح گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری بالائی ویین ڈیپارٹمنٹ میں عمل میں آئی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے پراسیکیوٹر کے دفتر اور کیس سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ شخص انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں سے وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے۔
انسداد دہشت گردی یونٹ کو تفتیش سونپی گئی
کیس کی نوعیت کے پیش نظر فرانس کی انسداد دہشت گردی ذیلی ڈائریکٹوریٹ یعنی ایس ڈی اے ٹی کو تفتیش سونپ دی گئی ہے۔ یہ ادارہ شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔
ملزم کو ویل ڈی ایسوار نامی علاقے میں پولیس کے خصوصی یونٹ رائد کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہ پڑوسی ڈیپارٹمنٹ کروز کا رہائشی ہے۔
فرانسیسی وزیر انصاف جیرالڈ ڈارمینن نے کہا کہ تفتیشی ادارے یہ جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ کوئی منظم اور دہشت گردانہ کارروائی تھی۔ ان کے بقول اس کا مقصد نظریاتی یا سیاسی بنیادوں پر خوف و ہراس پھیلانا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے منظم کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈارمینن کے مطابق ایسی قوتوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
مظاہروں کے دوران آگ لگائی گئی
لیموژ سٹی ہال کی عمارت 1883 میں کھولی گئی تھی۔ حکام کے مطابق ہفتہ 17 اکتوبر کو اس قدیم عمارت کو دانستہ طور پر آگ لگائی گئی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ کئی شہروں میں مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
فرانسیسی حکام نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ سٹی ہال کا اندرونی حصہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اس معاملے کے بعد ملک بھر میں چھاپوں اور تفتیشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فرانس میں احتیاط برتنے کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔
