چین اور شمالی کوریا کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک نے دریائے یالو پر بننے والے نئے روڈ پل کو بارہ سال بعد عوام کے لیے کھول دیا۔ چار رویہ یہ پل جمعرات کو آمدورفت کے لیے شروع کر دیا گیا جس سے دونوں ہمسایوں کے درمیان سرحدی تجارت کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
افتتاح کے موقع پر مقامی جوش و خروش
چین کے شمالی سرحدی شہر دانڈونگ میں سیکڑوں شہریوں نے 3,026 میٹر طویل نئے دریائے یالو وہیکل پل کے سامنے تصاویر بنوائیں۔ دوپہر کے ابتدائی اوقات میں دونوں اطراف سے قومی پرچم لگے ٹرک گزرنے لگے جبکہ شمالی کوریا کی بعض گاڑیوں کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔
مقامی رہائشیوں نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک خاتون نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پل کا کھلنا یقیناً کاروبار کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ ایک اور شہری نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے شمالی کوریا میں معیار زندگی بہتر ہوگا۔
چینی وزیراعظم کا بیان
چینی وزیراعظم لی کیانگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پل بیجنگ اور پیانگ یانگ کی دوستی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اور اس پل کے افتتاح سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ عوامی رابطے بھی مضبوط ہوں گے۔
تاخیر کی وجوہات
یہ پل 2014 میں تعمیراتی طور پر مکمل ہو چکا تھا لیکن شمالی کوریا کی جانب رابطہ سڑکوں اور کسٹم سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث اسے کھولا نہیں جا سکا تھا۔ کووڈ-19 وبا کے دوران شمالی کوریا نے اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرین سروس چھ سال کے وقفے کے بعد گزشتہ مارچ میں بحال ہوئی۔
تجارتی اہمیت
چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور گزشتہ سال شمالی کوریا کی تقریباً 98 فیصد بیرونی تجارت چین کے ساتھ تھی۔ ماہرین کے مطابق پرانا پل انتہائی تنگ تھا اور بھاری مشینری، خام مال اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ نیا پل بھاری کارگو کی آمدورفت کو زیادہ آسان اور مؤثر بنا دے گا۔
شمالی کوریا نے ابھی تک چینی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے جاری کرنے کا عمل دوبارہ شروع نہیں کیا۔
علاقائی تناظر
یہ افتتاح ایسے وقت میں ہوا ہے جب تقریباً ایک ماہ قبل شمالی کوریا اور روس نے اپنی مشترکہ سرحد پر ایک روڈ پل کھولا تھا۔ حالیہ برسوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ماسکو کو ترجیح دی اور یوکرین جنگ میں روس کی حمایت کے لیے ہزاروں فوجی اور روایتی ہتھیار بھیجے۔ تاہم اب کم جونگ اُن دوبارہ چین کے قریب آ رہے ہیں جس کا مقصد اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانا اور امریکہ کے خلاف محاذ تشکیل دینا بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چین شمالی کوریا پر اپنا منفرد اثر و رسوخ بحال کرنا چاہتا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت اتحاد نے کہا ہے کہ سیول نئے پل سے متعلق صورتحال کی گہری نگرانی کر رہا ہے۔
