امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مبینہ لیکر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر منصوبہ بند حملوں سے قبل امریکی بمبار طیاروں کے روانگی اور آمد کے اوقات افشا کر دیے گئے، جس سے مشن متاثر ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لیک کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔
ایریزونا ریلی میں ٹرمپ کا خطاب
ایریزونا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ نے اپنے جدید ترین بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارے روانہ کیے۔ ان کے مطابق یہ طیارے بہت بڑے بم لے جاتے ہیں اور مکمل طور پر ریڈار سے پوشیدہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ان طیاروں کا انتظار کر رہا تھا، تاہم وہ انہیں دیکھ نہ سکا۔ انہوں نے بتایا کہ رات ایک بجے کے قریب طیارے پرواز کر گئے، مگر کسی نے اوقات کار لیک کر دیے۔
نیویارک ٹائمز اور سی این این پر الزام
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسوری سے 12:07 پر روانگی کے اوقات نیویارک ٹائمز اور سی این این میں لیک کر دیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روانگی اور آمد کے اوقات میڈیا میں افشا کر دیے گئے۔
جنرل ڈین کین سے رابطہ
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے جنرل ڈین کین سے رابطہ کیا، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لیک کے باوجود فوجی کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے مشورہ دیا کہ اوقات کار تبدیل کر دیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھاپہ ملتوی کیا گیا اور حملے دو دن بعد کیے گئے۔
حملے کے وقت کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حملہ بالکل اسی وقت کیا جائے، کیونکہ یہی وہ واحد وقت تھا جب دشمن کو توقع نہیں تھی۔
لیک کرنے والوں کے خلاف سخت موقف
ٹرمپ نے کہا کہ بالآخر اسی مقررہ وقت پر حملہ کیا گیا، لیکن معلومات پہلے ہی لیک ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں لیک کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔
