واشنگٹن: امریکی فوج ایران پر دوبارہ حملوں کی صورت میں اپنے سب سے طاقتور روایتی بم جی بی یو-43 کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔ یہ بات بدھ کو میڈیا رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی۔
جی بی یو-43 کو عام طور پر ’مدر آف آل بمز‘ یعنی تمام بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی ہتھیاروں میں شامل سب سے طاقتور غیر جوہری بم ہے جو اپنے ایئر بلاسٹ اثر کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسے اب تک صرف ایک بار 2017 میں استعمال کیا گیا جب اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں افغانستان میں داعش کے زیر زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری
رپورٹ کے مطابق اگر صدر ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج اس بم کے استعمال کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا بتایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے منصوبے تیار کرے۔ بتایا گیا ہے کہ ان منصوبوں میں توانائی کے متعدد بنیادی ڈھانچے شامل ہونے چاہئیں اور جی بی یو-43 بم کے ممکنہ استعمال کی بھی گنجائش رکھی جائے۔
کولانگ پہاڑ پر خصوصی توجہ
ایک ذریعے نے بتایا کہ ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنانے کے اختیارات میں اس بم کے استعمال کی واضح گنجائش موجود ہے۔ خاص طور پر کوہ کولانگ کا ذکر کیا گیا جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہاں کئی سالوں سے ایک گہرا زیر زمین جوہری کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے۔
یہ پہاڑ نتنز کے پرانے کمپلیکس کے قریب واقع ہے جس پر امریکہ نے جون 2025 میں بمباری کی تھی۔ کولانگ کو انگریزی میں ’پک ایکس ماؤنٹین‘ بھی کہا جاتا ہے۔
فوجی ماہرین کے تحفظات
امریکی حکام نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا اس طرح کے اہداف کے لیے جی بی یو-43 کا استعمال مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔ ایک ذریعے نے اس بم کو وسیع علاقوں کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی مؤثر قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے یہ موزوں نہیں۔
اسی ذریعے نے واضح کیا کہ یہ بم گہرے دخول کے وار ہیڈ کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آبادی والے علاقوں کے قریب استعمال کی صورت میں اس کے دھماکے سے بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
پینٹاگون نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
ٹرمپ کا مؤقف
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کر رہا ہے۔
تاہم متعدد امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے وسط مدتی انتخابات سے قبل ممکنہ ایرانی اہداف پر حملوں کے منصوبے تیار کرنے کو کہا ہے۔
