بالاکوٹ: 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے شدید زلزلے نے آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اس تباہی کو 21 برس مکمل ہو چکے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا کام آج بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
سب سے زیادہ نقصان مظفرآباد اور بالاکوٹ میں ہوا
7.6 شدت کے زلزلے کے باعث مظفرآباد اور بالاکوٹ سمیت کئی علاقوں میں ہزاروں گھر، اسکول، اسپتال اور سرکاری عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔ آزاد کشمیر کا تقریباً 53 فیصد علاقہ شدید متاثر ہوا، جبکہ صفائی، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق جانی نقصان کی ایک بڑی وجہ کمزور تعمیراتی طریقے اور زلزلہ مزاحم معیارات کا فقدان تھا۔ تعلیمی ادارے اس آفت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل رہے، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ جان کی بازی ہار گئے۔
تعمیر نو کی موجودہ صورتحال
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے متاثرہ 2,718 تعلیمی اداروں میں سے 1,620 کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 501 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ صحت کے شعبے میں 160 تعمیراتی منصوبوں میں سے 119 مکمل ہو چکے ہیں اور 21 پر ابھی کام ہو رہا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وزیراعظم نے جون 2026 میں ایک ارب روپے فراہم کیے، جس سے دسمبر 2026 تک زیر تعمیر 67 تعلیمی اداروں کی تکمیل متوقع ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں زیر التوا منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے تقریباً 44 ارب روپے مزید درکار ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کے پیغامات
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی، شہری کاری اور ماحولیاتی انحطاط کے باعث پیچیدہ خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو قومی ترقی اور آئندہ نسلوں کے لیے ذمہ داری کا لازمی حصہ سمجھنے پر زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 21ویں قومی استقامت کے دن پر زلزلے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور آفات سے بچاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اس تباہی میں جان گنوانے والوں کا غم آج بھی محسوس کرتی ہے، لیکن عوام کے بہادرانہ اجتماعی ردعمل کو بھی یاد رکھتی ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، جنگل کی آگ، وبائی امراض اور اسموگ جیسی آفات ملک کے محدود وسائل کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
یہ زلزلہ آج بھی قدرتی آفات کے تباہ کن نتائج اور زلزلہ مزاحم تعمیر، آفات کی تیاری اور مضبوط عوامی انفراسٹرکچر کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
