پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے وسائل کے مبینہ استعمال کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے۔ معاملہ 4 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال سے منسلک ہے۔
عدالتی کارروائی کا پس منظر
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی قاری ظاہر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے نومبر 2025 میں ایک فیصلے کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
ہیلی کاپٹر کے استعمال کا الزام
درخواست میں الزام لگایا گیا کہ سہیل آفریدی 4 اکتوبر کو احتجاجی لانگ مارچ کے آغاز پر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔ درخواست گزار کے مطابق اس اقدام سے عدالتی حکم نامے کی خلاف ورزی ہوئی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا نوٹس لے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرے۔
عدالت کا حکم
سماعت کے دوران عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر ان کا جواب طلب کیا۔ عدالت وزیراعلیٰ کا جواب ملنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔
گزشتہ واقعے کا حوالہ
درخواست میں اکتوبر 2024 کے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت اسلام آباد جانے والے احتجاجی مارچ کے دوران پنجاب پولیس نے 10 سے زائد سرکاری گاڑیاں اور 47 سرکاری اہلکار تحویل میں لے لیے تھے۔
