ایوان صدر میں اعلیٰ سطحی ملاقات
اسلام آباد میں منگل کے روز صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات ہوئی۔ اس دوران ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے صدر اور وزیراعظم کو تازہ ترین پیش رفت اور مشاورت کے عمل سے آگاہ کیا۔
قانونی کارروائی سے قبل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کوئی بھی آئینی یا قانونی کارروائی کرنے سے پہلے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ قیادت نے موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مزید غور و خوض اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
رانا ثناء اللہ کا موقف
اس سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بدستور قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اپنا لانگ مارچ ختم کر دے تو بات چیت ہو سکتی ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام “دنیا مہر بخاری کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اداروں اور صوبائی حکومتوں کو غیر مشروط طور پر وفاقی حکومت کے فیصلوں کی حمایت کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر مشروط طور پر پاکستان اور وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہو۔
سیاسی صورتحال پر تشویش
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر اور وزیراعظم کی یہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے کے فیصلے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے جبکہ لانگ مارچ نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مکالمہ ہی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
