counter easy hit

نااہل افراد پر مشتمل حکومت بنائی گئی اور اس کے پیچھے طاقتور ادارے کھڑے ہیں، فضل الرحمن

اسلام آباد(ایس ایم حسنین)نااہل افراد پر مشتمل حکومت بنائی گئی اور اس کے پیچھے طاقتور ادارے کھڑے ہیں جو اصل حکمران ہیں، یہ ہی ان کا مقصد تھا۔ایک نااہل حکمران کو اس لیے کرسی پر بٹھایا گیا تاکہ احمق کرسی پر بیٹھا رہے اور حکومت اس کے پیچھے کھڑے طاقت ور ادارے کرینگے۔دینی مدارس کے طلبہ عاقل بھی ہیں اور بالغ بھی اس لیے ان کا بھی قانونی حق ہے جس طرح شیخ رشید طالب علمی کے دور میں جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے۔’دینی مدارس سے کیوں ڈرتے ہیں،جب وہ پاکستان کی مثبت سیاست میں جانا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ وہاں بھی نہ آئیں’۔ مدارس کے طلبا قانون اور جمہوریت کی طرف آنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ملک معاشی تو دوسری طرف دوست ممالک ملک کی خارجہ پالیسی سے خفا ہیں کہ چین اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران، بھارت کے کیمپ میں چلے گئے ہیں، اس خارجہ پالیسی کے ساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے۔آج بھی 2018 کے الیکشن مسترد کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے اگست 2018 کو اسی جگہ مظاہرہ کرکے 2018 کے الیکشن کو متفقہ طور پر مسترد کیا تھا اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے پر تاخیر کے خلاف احتجاج کے دوران شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت منتخب ہے اور نہ ہی اسے ملک پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی بے بس الیکشن کمیشن جو منصفانہ انتخابات کراسکی اور طاقتور اداروں نے انتخابات پر قبضہ کیا، انہوں نے نتائج مرتب کیے اور قوم پر ایک ڈفلی بجانے والے کو مسلط کردیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نااہل افراد پر مشتمل حکومت بنائی گئی اور اس کے پیچھے طاقتور ادارے کھڑے ہیں جو اصل حکمران ہیں، یہ ہی ان کا مقصد تھا۔ پی ڈی ایم کے صدر نے دعویٰ کیا کہ ‘یہ یہودی ایجنٹ ہے اور اسے وہاں سے مدد حاصل ہے’۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اسرائیل اور بھارت کے فنڈز سے انتخابات لڑے ہیں اور اسی پر اپنی پارٹی تشکیل دی ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہ وہ پیسہ ہے کہ جس کے بارے میں 2013 کے الیکشن کے بعد بتایا گیا کہ اتنا پیسہ ہے کہ گلی کوچے تک پہنچے گے، ایک ایک مسجد تک جائے گا، ایک ایک مولوی کے پاس جائے گا اور مولانا فضل الرحمٰن تم تنہا رہ جاؤ گے اور مولوی بھی ساتھ کھڑا نہیں ہوگا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘خیبرپختونخوا میں حکومت کو ایک مولوی ایسا نہیں ملا جس نے 10 ہزار روپے وظیفہ قبول کرنے کی حامی بھری ہو’۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہر ایک مولوی نے پیسہ ان کے منہ پر مارا اور اب پھر اعلان کیا گیا کہ مولوی کو پیسہ دیں گے’۔ انہوں کہا کہ ‘میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم تمھارا پیسہ تمھارے منہ پر مارتے ہیں’۔ ہندوئوں اور یہودیوں کا پیسے ہمیں نہیں سجتا تمھیں سجتا ہے۔ کوئی مولانا صاحب یہودیوں اور ہندئوں کے پیسے اپنی حلال روزی میں شامل نہیں کریگا۔ ہم بھوکے مر جائیں گے لیکن ہم تمھارے وظیفے پر لعنت بھیجتے ہیں۔۔ ان کا کہنا تھا کہ نااہل افراد پر مشتمل حکومت بنائی گئی اور اس کے پیچھے طاقتور ادارے کھڑے ہیں جو اصل حکمران ہیں، یہ ہی ان کا مقصد تھا۔ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک طرف ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری طرف دوست ممالک ملک کی خارجہ پالیسی سے خفا ہیں کہ چین اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران، بھارت کے کیمپ میں چلے گئے ہیں، اس خارجہ پالیسی کے ساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے مودی کی ایما پر کشمیر کا سودا کیا ہے اس لیے 5 فروری کو ‘کشمیر فروشی’ کے خلاف مظاہرہ ہوگا اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 5 فروری کو ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر مظاہرے کرنے ہیں اور راولپنڈی لیاقت باغ میں بہت بڑا مظاہرہ کریں گے۔ خطاب کے آکر میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب 5 فروری کو ملیں گے، جب تک ان کا جنازہ نہیں نکلیں گے اور مولوی جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑتا ہے، ہم ان کا جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا وزیر داخلہ شیخ رشید کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘دینی مدارس کے طلبہ عاقل بھی ہیں اور بالغ بھی اس لیے ان کا بھی قانونی حق ہے جس طرح شیخ رشید طالب علمی کے دور میں جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘دینی مدارس سے کیوں ڈرتے ہیں، ایک طرف کہتے ہو کہ دینی مدارس قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں، جب وہ پاکستان کی مثبت سیاست میں جانا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ وہاں بھی نہ آئیں’۔ مدارس کے طلبا قانون اور جمہوریت کی طرف آنا چاہتے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website