counter easy hit

جدید ساہنس اور ہماری سوچ‎

Planet Pluto in Space

Planet Pluto in Space

تحریر : عماد ظفر
امریکی سپیش شپ کی خلا میں پلوٹو سیارے کے گرد موجودگی ساہینس کی ایک اہم پیش رفت ہے اور بین الاقوامی دنیا میں اس پر بحث مباحثہ جاری ہے ساری دنیا میں میڈیا پر آپکو لوگ اس اہم پیش رفت پر بولتے اور پروگرامز کرتے نظر آہیں گے۔ہم لوگوں نے خلای ساہینس کی اس اہم پیش رفت پر وہی کیا جو ہم برسوں سے کرتے آ رہے ہیں کچھ دیر کو میڈیا پر خبر چلی اور اس کے بعد پھر اپنی اپنی دنیا میں مست۔زرا غور کیجیے کہ ہم لوگوں کا رویہ ساہنس کے بارے میں کیا ہے اور ہم کتنی ریسرچ اور پیسہ ساہینس پر خرچ کرتے ہیں۔

جدید دور میں ساہینس میں ترقی کیے بغیر آپ ترقی کا تصور بھی نھیں کر سکتے ۔یہ ساہینس ہی ہے جس نے ٹیکنالوجی سے لیکر ایجادات اور صحت سے لیکر تعلیم غرض زندگی کے ہر شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ۔اور آنے والے ہر لمحہ میں ہم پر اسی کی بدولت کاہنات کے راز اور نت نئی ایجادات اور تحقیقات آشکار ہوتی رہتی ہیں ۔لیکن ہم لوگ آج بھی اس سے منہ موڑے بیٹھے ہیں کوی نھیں تحقیق یا ایجاد کے لیے کاوشیں کرنا تو دور کی بات ہم لوگ تو ہونے والی ایجادات اور ریسرچ کو بھی جھٹلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔آپکو یاد ہو گا کہ لاؤڈ سپیکر اور ٹی وی جب آے تھے تو انھیں ہم میں سے ہی موجود لوگوں نے حرام قرار دیا تھا اور آج انھیں حرام قرار دینے والے انھی ایجادات سے بھرپور مستفید ہو رہے ہیں کچھ یہی خیالات کیمرہ اور کمپیوٹر کے بارے میں بھی پاے جاتے تھے۔

Science

Science

اسے منافقت نھیں تو اور کیا کھیں کہ استفادہ بھی جن چیزوں سے ہے وہ ساہینس کی مرہون منت اور پھر ساہینس کو نہ ماننا بھی۔اب جس ملک میں فزکس اور کیمسٹری پڑھانے والے اعلی ہپونیورسٹیوں کے پروفیسرز حالات حاضرہ اور سیاست پر ماہر بنے ٹاک شوز میں نظر آتے ہوں وہاں جدید ساینسی علوم پر تحقیق ایک خواب ہی ہو سکتی ہے۔جہاں ہر وقت بحث و مباحث اس بات پر ہوں کہ کون کافر اور کون مسلمان ہے کون جنت میں جاے گا اور کون دوزخ میں وھاں جدید ساہینس میں عدم دلچسپی ایک معمولی بات لگتی ہے۔اور جہاں سارا زور روپیہ اور وقت دوسروں کی تحقیق کو اپنے فکری مزہی یا گزشتی ادوار و افکار سے منسوب کرنے میں خرچ ہوتا ہو وہاں کے طالبعلم ملکی وے گلیکسی یا سٹیم سیل ریسرچ کے بارے میں کیا اور کتنا جانیں گے۔مشتاق احمد یوسفی نے بہت خوب کہا تھا کہ جتنا وقت اور پیسہ ہم اپنے بچوں کو دوسروں کی ساہینس ایجادات اپنے نام کروانے اور اپنے گزشتہ ساہنسانوں کے نام رٹوانے میں لگواتے ہیں اگر اس سے تھوڑی سی محنت اور پیسہ جدید ساہینس پڑھوانے پر لگاہیں تو ترقی کر سکتے ہیں۔

آپ خود سوچیے سوی سے لیکر جدید ٹیکنالوجی ہم دوسروں کی بنای ہوی استعمال کرتے ہیں لیکن ان تمام ایجادات کو اپنا بنانے پر مصر نظر آتے ہیں ۔پولیو ویکسین کو حرام اور پاپولیشن کنٹرول کے یا جدید افزایش نسل کے طریقوں کو بھی حرام قرار دیتے نظر آتے ہیں اور پھر نتیجتا دنیا میں پولیو پھیلانے والا سب سے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں آبادی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے وساہل میں کمی کا سامنا کرتے ہیں دوران زچگی بچوں کی اموات کی شرح میں روز بروز اضافہ دیکھتے ہیں اور پھر اسے خدا کی رضا کھہ کر آرام سے مباشرت اور حوروں کے مساہل پر لاحاصل گفنگو میں کھو جاتے ہیں۔

حالانکہ خدا خود فرماتا ہے کہ علم حاصل کرو لیکن نہ جانے کیوں ہمیں علم کی تمام شاخوں اور بالخصوص ساہینس سے اتنی غیر دلچسپی کیوں ہے جس اسلحہ کو لے کر ہم دنیا کو مٹانے کی بات کرتے ہیں وی اسلحہ تک دوسروں کا بنایا ہوا ہوتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ ہم اس ڈینایل سے نکلنے کے لیے شعوری طور پر بالکل تیار نھیں کہ جدید علوم میں ساہینس کی وہی اہمیت ہے جو انسانی جسم میں دماغ کی ہوتی ہے اور ساہینس کو اہمیت دیکر ہی ہم موجودہ دور میں آگے جا سکتے ہیں۔

Organ Transplant

Organ Transplant

لیکن ہم ابھی تک اس پر آمادہ ہی نھیں دکھای دیتے ہم تین عیدیں تو کر لیتے ہیں لیکن جدید آلات اور ناسا سے چاند کے بارے میں آگاہی لینے کو توہین سمجھتے ہیں پوری دنیا اس وقت کلوننگ کے زریعے وافر مقدار میں اجناس کی مختلف فصلیں تیار کرتی ہے لیکن ہم اسے کفر قرار دیتے ہیں البتہ خوشی خوشی باہر سے در آمد شدہ کلوننگ اجناس ہضم کر لیتے ہیں ۔سپیس یا خلای ساہینس تو دور کی بات ہم روز مرہ کی ایوری ڈے ساہینس کو اپنے بچوں تک منتقل بھی نھیں کر پاتے۔اعضا کی پیوند کاری میڈیکل ساہینس کا ایک کرشمہ ہے آج دل جگر گردوں اور آنکھوں سے لیکر دنیا میں تقریبا تمام اعضا کی پیوند کاری کی جاتی ہے اور قیمتی انسانی زندگیاں بچای اور سنواری جاتی ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں ایسا کرنا کفر خیال ہوتا ہے اگر کوی موت کے بعد اپنے اعضا عطیہ کرنا بھی چاہیے تو ہم اسے اپنے رویوں سے ایسا کرنا نھیں دیتے۔ ایسا کب تک چل سکتا ہے ہمیں اپنی سوچوں اور اپروچ میں بنیادی تبدیل کی اشد ضرورت ہے ۔ملک میں تجربہ گاہوں جدید ساہینسی ریسرچ سینڑرز کا بڑی تعداد میں قیام ناگزیر ہے ۔تعلیمی درسگاہوں میں جدید ساہینس کی تعلیم اور قابل اساتزہ وقت کی اشد ضرورت ہیں ۔اس شعبے میں حکومت کو خاص طور پر اضافی بجٹ مقرر کرنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس غلط فہمی کو زہنوں سے نکالنا چاہیے کہ ساہینس مزہب سے متصادم ہے کیونکہ اب دنیا مریخ پر کاہنات کے راز ڈھونڈنے میں مشغول ہے اور ہم ابھی تک جدید ساہینس سے منہ موڑے بیٹھے ہیں

Iimad Zafar

Iimad Zafar

تحریر : عماد ظفر