counter easy hit

امریکا:ٹرمپ کے آتے ہی غیرملکیوں سےاظہار نفرت میں اضافہ

America would trump the more foreigners expressed hatred

America would trump the more foreigners expressed hatred

ڈونلڈ ٹرمپ کےصدرمنتخب ہونےکےبعدامریکا کے مختلف شہروں میں تعصب اورنفرت انگیزوال چاکنگ کی گئی ہے،نیویارک یونیورسٹی کےٹینڈم اسکول آف انجینئرنگ میں نمازکی جگہ پر بھی تحریر پائی گئی ، مختلف واقعات میں غیر ملکیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا۔

ٹینڈم اسکول آف انجینئرنگ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں غیرملکی طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ادارے کے مسلمان طلبہ کا کہنا ہے کہ امریکامیں پھیلنےوالےتعصب سے تعلیمی ادارے محفوظ نہیں ہیں ، نیویارک پولیس نے واقعےکی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

مینیسوٹامیں بھی ایک ہائی اسکول کی دیوار پرتعصبانہ تحریرمیںکہا گیا کہ افریقہ واپس چلےجاؤ،امریکاکوعظیم ملک بناؤ،ایک اور تحریرمیں کہاگیاہے،سفیدفام افراد نےاقتدارسنبھال لیا۔

سین ڈیاگواسٹیٹ یونیورسٹی میں بھی تعصب اورنفرت پرمبنی واقعہ پیش آیا جہاں مسلمان خاتون پر2 افرادنےتعصبانہ فقرے کسے۔

امریکی میڈیاکا کہنا ہے کہ خاتون نےروایتی مسلم لباس پہن رکھا تھا، حملہ آوروں نےخاتون کاپرس اورگاڑی کی چابی بھی چھین لی،خاتون جب پولیس کوفون کرکےواپسی آئی توحملہ آوراس کی کارلےکرجاچکےتھے۔یونیورسٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ نفرت انگیزجرم ہے،واقعہ قابل مذمت ہے۔

مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کےرائل اوک مڈل اسکول میں ٹرمپ کےصدرمنتخب ہونےکےاگلےروز تعصبانہ واقعہ پیش آیا،جہاں اسکول کےکیفے ٹیریا میں کچھ افراد نےدیوارتعمیرکروکےنعرے لگائے،نعرےلگانےوالےافرادکی وڈیو سوشل میڈیا پر بھی موجودہے۔

نارتھ کیرولائناکےشہردرہم میں بھی دیواروں پرمتعصبانہ تحریری درج ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سیاہ فارموں کی کوئی حیثیت ہےنہ ہی ان کےووٹ کی ۔

لوزیانا یونیورسٹی میں بھی متعصبانہ اوراشتعال انگیزوال چاکنگ میں ٹرمپ کو دیوار بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ ساؤتھ فلاڈیلفیا میں نازی طرز کی تفرت انگیزوال چاکنگ ایک اسٹورکے سامنےدیوارپر کی گئی۔

نیویارک کے کینی سائس کالج میں پیش آنے والےواقعہ میں ایک شخص سیاہ گڑیایونیورسٹی کےلانڈری روم میں چھوڑگیا،بعدمیں گڑیاکوپھندالگاکرتصویرسوشل میڈیا پرپوسٹ کردی گئی ۔

کیلیفورنیا کی سین جوزیونیورسٹی میں ایک شخص نے مسلمان خاتون کا اسکارف کھینچ لیا، کیلیفورنیا کےساشا ہائی اسکول کے طالب علم نےنفرت انگیز وڈیوسوشل میڈیاپرپوسٹ کردی۔

وڈیو میں طالب علم کو بےدخلی کےخط تقسیم کرتےدکھایاگیاہے۔ایک خاتون کا کہنا ہے کہ متعصبانہ تحریروں کووہ اپنی ذات پرحملہ سمجھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنےبچوں کوذات،رنگ اورمذہب سےبالاترہوکرسب کااحترام کرنا سکھاتےہیں ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website