counter easy hit

رحمت اللعالمین

Muhammad PBUH

Muhammad PBUH

تحریر: شاہ بانو میر

اتر کر حرا سے وہ سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

یہ ماہ ربیع الاول کا مہینہ ہے جب عرصہ دراز پہلے خلیل اللہ اللہ کے برگزیدہ بندے حضرت ابراہیم نے بنیاد کعبہ رکھتے وقت دعا کی کہ اے پروردگار ان میں سے انہی میں سے ایک نبی مبعوث کر جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کرسنایا کرے – کتاب اور دانائی سکھایا کرے – اور ان کے دلوں کو پاک صاف کرے – بے شک تو غالب صاحب حکمت ہے وقت گزرتا رہا اور پھر ظلمت کا جہالت کا بے حیائی کا ایسا بازار عرب میں رواج پا گیا کہ اب ہدایت کیلئے اللہ پاک کی جانب سے آخری نبی کی بعثت کا درست وقت آگیا۔

اللہ پاک نے خلیل اللہ کی دعا قبول فرمائی اور وہیں جہاں دعا اللہ کے گھر کو قائم کرتے ہوئے دعا مانگی گئی وہیں قبولیت کی تاریخی سند دے دی -روشن چاند جیسا چہرہ مکہ میں ہی بی بی آمنہ زوجہ حضرت عبداللہ کے ہاں تشریف لاتے ہیں – والد پیدائش سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے تھے والدہ قلیل عرصہ ساتھ رہیں شوہر کی قبر کی زیارت کرنے گئیں اور واپسی پر ابواہ کے مقام پر خالق حقیقی سے جا ملیں – سوچئے بغیر ماں باپ کے بچہ دادا کے پاس چچا کے پاس معصوم بچہ پرورش پاتا ہے – اللہ پاک اس گوہر آبدار کو کائنات کے آغاز سے پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھ کر رکھ چکے ہیں۔

وقت اپنے اندر مختلف تغیرات کے ساتھ گزرتا رہا اوائل نوجوانی میں مکہ کی بہت امیر بیوہ حضرت خدیجہ نے ان کی شرافت دیانتداری کے قصے سنے تو اپنے غلام کے ہمراہ انہیں ملک شام بھیجا راستے میں بہت کچھ ایسا ہوا جس نے غلام کو چونکنے پر مجبور کر دیا شام داخلے سے پہلے بارش ہوئی اور تجارتی اجناس بھیگ گئیں – جیسے شام میں داخل ہوئے منڈی سجی تو جو گاہک آیا اس نے مال کی کوالٹی کو پرکھا خریدنے کا ارادہ کیا اور جیسے ہی رقم جیب سے نکالی تو آپ ً فرماتے ہیں کہ سامان بارش سے قدرے گیلا ہے اس کی قیمت پوری ادا نہ کرو خریدار دیانتداری کے اس معیار سے اس سے قبل ناواقف تھا۔

Honesty

Honesty

سبحان اللہ ان کی اس ایمانداری اور انداز تجارت نے جیسے دل موہ لئے اور ہمیشہ سے کئی گناہ زیادہ منافع لے کر آپ لوٹے -غلام نے آپ کے حسن کردار کے ایسے واقعات بیان کئے کہ حضرت خدیجہ نے عقد کی خواہش ظاہر کی یوں 25 سال کی عمر میں 40 سالہ حضرت خدیجہ آپ کے نکاح مبارک میں آئیں نبوت کے ملنے کے بعد کسی عزیز نے آپً سے سوال کیا کہ نبوت ملنے سے پہلے آپکا کبھی جی نہیں چاہا کہ عام نوجوان کی طرح بزم رنگ و سخن میں جائیں موسیقی سنیں اشعار کی محافل میں شرکت کریں بڑے بڑے شعراء اس دور میں خوب کماتے تھے۔

نامی گرامی قبائل ان کو خطیر رقوم دے کر شاعری لکھواتے اور پھر ایک دوسرےقبائل کو نیچا دکھانے کیلئے ان کے مقابلے کرواتے – آپً نے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا کہ ایک بار آپ کا دل چاہا کہ مکہ سے کچھ فاصلے پر موجود ایسی آباد ایک بستی میں جاؤں اور موسیقی سنوں لیکن اللہ رب العزت تو خود آپکی حفاظت ہمہ وقت فرماتے تھے آپ نے فرمایاجیسے ہی میں اس بستی کی ایک گلی کی نکڑ پے پہنچا اور مجھے ساز و آواز کی ہلکا سا شور سنائی دیا میری قوت سماعت ختم کر دی گئی اور مجھ پر ایسی غنودگی طاری ہوئی کہ جب آنکھ کھلی تو سر پے سورج چمک رہا تھا آپ نے فرمایا اُس وقت تو میں نہیں سمجھا کہ یہ کیا ہوا ؟ واپس لوٹ آیا کچھ روز بعد دوبارہ میں نے اس بستی کا رخ کیا۔

اب کی بار بھی وہی ہوا پہلے قوت سماعت بند اور اس کے بعد گہری نیند آنکھ سورج کی تمازت سے کھلی – بیدار ہوا توخود سے وعدہ کیا کہ یہ راستہ میرا نہیں ہے – اس کے بعد کبھی نہ خیال آیا نہ سوچا -سبحان اللہ رحمت اللعالمین کیسا حسین خطاب ہے جو ان سے پہلے کسی اور نبی کوعطا نہیں ہوا ان کو یہ خطاب اس لئے عطا کیا گیا کہ آپ ہر نماز کے بعد سب کیلئے بخشش کی دعا فرماتے تھے – حضرت عائشہ کو ایک بار آپ نے کہا مانگو کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہ نے کہا میری بخشش کی دعا کیجئے۔

Pray

Pray

آپ نے دعا فرمائی تو وہ خوشی سے نہال ہو گئیں آپ نے انکی خوشی دیکھ کر کہا کہ آپ خوش ہیں مگر یہ دعا تو اپنی امت کیلئے میں ہر نماز کے بعد مانگتا ہوں سبحان اللہ رحمت اللعالمین کی ایک وجہ اور بھی دکھائی دیتی ہے – اللہ پاک نے روز محشر تمام انبیاء کو باری باری بلانا ہے تو انتہائی افسوسناک وقت ہوگا جب ان کی امت سرعام اپنے نبیوں کی نبوت سے انکار کرے گی اور انہیں تسلیم نہیں کرے گی۔

ایسے میں آپ تشریف لائیں گے اپنی امت کے ساتھ اور آپ آکر تمام انبیاء کی تصدیق کریں گے سبحان اللہ آپکی گواہی کیسی معتبر ہے کہ جو تمام برگزیدہ ہستیوں کیلئے بھی باعث رحمت اور کامیابی ہوگی -آپ نے 23 سال میں اللہ پاک کے کلام کو لوگوں کے دلوں تک پہنچایا – فکر مند امت کے لئے ہمیشہ آزردہ بخشش کی ہر وقت دعا ایسے عظیم ایسے بلند مرتبہ نبی کا امتی ہونا بلاشبہ ہم سب کیلئے فخر کی بات ہے مکمل ضباطہ حیات آپ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں عطا کیا گیا ابتداء ہوئی اقراء آفاقی پیغام اور آخر میں کہ دیا گیا۔

کہ “””آج میں نے تم پر تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اسلام کو تمہارے لئے بطور دین پسند کر لیا “” یہودی اس آیت پر آج تک کف افسوس سے ہاتھ ملتے ہیں کہ کاش اگر یہ ہمیں عطا کی جاتی تو ہم اس دن کو “” عید “” کے طور پے مناتے – قرآن پاک میں جس انداز میں سیرت النبی کو بیان کیا گیا ہے آپ کی عظمت آپ کا مقام آپ کی ہستی کی عظمت سبحان اللہ ہمارے فہم سے بہت بلند مقام پر ہے -کتاب ہدایت کسی پہاڑ پے اترتی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا سوچئے وہ تو پاک صاف شفاف ذات ان کو تو کسی آزمائش کی کسی پریشانی کی ضرورت نہیں تھی۔

Amli Tafseer

Amli Tafseer

تمام عمر جنگ و جدل میں گزار دیئے صرف اس لئے کہ ہمیں سونے جانگنے رہنے سہنے امن جنگ صحت بیماری – تنہائی اجتماعی رشتے ہمسائے غلام سفر قیام و مقام عبادات دنیاوی فراٰئض ادب احترام زندگی اور موت خالق اور مخلوق گمراہی اور ہدایت جزا اور سزا انعامات اور آزمائشیں معاف کرنا سب سکھا کر گئے اپنے عمل سے -ہر ہر زندگی کے انداز کو اللہ کی عین رضامندی کے تحت گزار کر قرآن پاک کی عملی تفسیر بن کر ہمیں ایک عملی نمونہ دے گئے جس سے محنت کے ساتھ لاگو کرنا ہے۔

اس پر چلنے کیلئے دن رات پڑہیں الھمہ فقہنی فی الدین انشاء اللہ یہ دعا آپکو پہنچائے گی اس عظیم الکتاب کی گہرائی تک تب آپ اصل میں جان سکیں گے آپ کی ذات اللہ کے نزدیک کس قدر درجات پر فائز ہے کسی قوم کسی امت کسی مخلوق کیلئے آپ رحمت کے بخشش کے منبع تھے -کوئی گلہ غصہ کسی سے نہیں رکھا آپ نے اسی لئے تو آپکو رحمت اللعالمین کہا گیا- صبر قربانی تقویٰ قناعت پسندی اخلاص کا سرتاپا عنوان تھے آپ ہمارے رہنما ہیں اللہ پاک کا فرمان ہے خود االلہ پاک اور ان کے فرشتے آپ پر درودو سلام بھیجتے ہیں سبحان اللہ رحمت اللعالمین بے شک صرف آپ ہی ہیں۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر