counter easy hit

طالبان کی پاکستان میں حکومت

Taliban

Taliban

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
طالبان گروپ طرز حکمرانی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔لیکن ہمارے سامنے ایسا کوئی رول ماڈل موجود نہیں ہے کہ اسے مثال بنائی جا سکے ۔اس وقت دنیا کے چوالیس ممالک بادشاہت کے ماتحت ہیںبادشاہت ایک روائتی بادشاہانہ خودمختار حکومتی نظام ہے ۔برونائی، عمان،سعودی عرب ، قطر،ویٹیکن سٹی، سوازی لینڈوغیرہ ممالک میں خودمختاربادشاہت قائم ہے۔

اسلام میں اسلامی مر کزیت کو قائم رکھنے کے لیئے خلفا مقرر کیے جاتے رہے ہیں۔خلافت راشدہ ، خلافت امیہ خلافت عباسیہ ،خلافت عثمانیہ، خلافت فاطمیہ ،خلافت موحدین اسلامی طرزحکومت کہلائی جاتی رہی ہیں لیکن ان کا طرزحکمرانی سب خلافتوں سے فرق رہا ہے اور خلافت صرف ایک مملکت پر محدود نہیں تھی بلکہ مختلف مملکتوں کے مجموعے پر حکمران کو خلیفہ کہا جاتا تھا ۔ جو دوسرے ملک کے حکمران کو خلعت حکمرانی کا حق تضویض کرتا تھا ۔کچھ اسلامی ممالک میںطرزحکمرانی میں قانون ساز ادارے کو پارلیمان مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے۔

جیسے آذربائیجان میں ملی مجلس،ایران میں مجلس شورائی اسلامی ،ترکی میں ترکیہ ببوک ملت مجلسی،عمان میں مجلس عمان، سعودی عرب میں مجلس سعودی عرب، ترکمانستان میںخلق مصالحتی یا مجلس، ازبکستان میں اولی مجلس،، انڈونیشیا میں عوامی مشاورتی مجلس ، قازقستان میں مجلس اور پاکستانی پارلیمان کو مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے ۔جمہوریت آمریت کی ضد ہے ۔جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں،با لواسطہ جمہوریت،اور بلاواسطہ جمہوریت ۔بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افرادکی رائے سے ہوتا ہے چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ ۔اچھے برے کا فیصلہ عوام کی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔

جمہوریہ طرز حکومت میںعوام کا منتخب نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے یعنی وہ بادشاہ نہیں منتخب عوامی نمائندہ ہوتا ہے ۔جمہوری طرز حکومت میں دوجماعتی نظام بھی ہے یعنی جس ملک کی پارلیمان مین صرف دو جماعتوں کو اثر و نفوذ حاصل ہو ۔ان مین سے ہی ایک اپنی اکثریت کی بنا پر حکومت بناتی ہے اور دوسری حزب مخالف کا کردار ادا کرتی ہے ۔امریکہ اور برطانیہ میں عملی طور پر دو پارٹی سسٹم رائج ہے پارلیمانی نظام ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں ایک کابینہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے ۔اس نظام میں اختیارات عموماً وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں ۔پارلیمانی نظام میں ایک ایوانی پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے جیسے البانیہ ،بنگلہ دیش،بلغاریہ ڈنمارک اور سری لنکا سمیت چوالیس کے قریب ممالک میں ایک ایوانی پارلیمنٹ ہے۔

جبکہ دو ایوانی پارلیمنٹ جسے ہم پاکستان میں قومی اسمبلی اور سینٹ،بھارت میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا ،برطانیہ میںہائوس آف لارڈاور ہائوس آف کامنس کے نام سے جانتے ہیں، تینتیس ممالک میں دو ایوانی نظام قائم ہے ۔ظاہر ہے کسی بھی مملکت کے اداروں ،منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اوراس کا نظام چلانے کے لیئے حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے اچھی حکومت ملک کی فلاح و بہبہود اور بری حکومت ملک کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے ایک اچھی حکومت کا بنیادی کام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ،ملک کو بیرونی دشمنوں کے حملوں سے بچانا ،اندرونی جھگڑے طے کرنا ،ملک میں عدل و انصاف، اخلاقی و اجتماعی ترقی کے لیے قوانین بنانا اور رائج کرنا ،ترقی اور معاشرتی اصلاح کی کوششیں کرنا ہوتا ہے۔

یعنی ایک حکومت کی تشکیل میں کتنے عناصر کام کرتے ہیںکتنے اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں،کروڑوں لوگوں کی توقعات اور تحفضات ان چند درجن یا چند سو لوگوں سے وابستہ ہوتی ہیں گویا وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر ان کو پانچ سال کے لیے کلی اختیار تھما دیتے ہیں کہ وہ انھیں ایک مھفوظ زندگی فراہم کریں گے ۔لیکن اگر وہی حکومتیں ہی ان کے جان و مال کی دشمن بن جائیں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں پھر ایسی بدنصیب عوام کہاں جائے اور ایسے کرپٹ اور عاقبت نا اندیش حکمرانوں سے کیا سلوک کیا جانا چاہیے،اس پر بعد میں بات کرتے ہیں ۔فی لحال ہم طالبانی نظام پر بات کرتے ہیں جس کو وہ شرعی نظام کا نا م دیتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں اکثر وہی لوگ ہی ظالم بن کر ابھرے جو کبھی مظلوم رہ چکے تھے ،کیونکہ جو دکھ سہتا ہے وہ دکھ دیتا بھی ہے اس لیے ظلم سہنے کو کفر قرار دیا گیا ہے ،اور نہ کسی کا حق چھینو ، نہ کسی کو اپنا حق چھیننے دو ۔یہ اللہ تعالٰے کے واضح احکام ہیں اسی لیے آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان اور خون کے بدلے خون کو حق قرار دیا گیا ۔اگر کسی کو اس کا حق نہ ملے تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک بھی سکتا ہے ،بدلے کی طاقت رکھتا ہوگا تو قانون اپنے ہاتھ میں لے لے گا ،اگر بدلے کی طاقت نہ ہوگی تو کسی طاقتور کی پناہ میں چلا جائے گا یا اپنے جیسے اور لوگوں کا ساتھ ملتے ہی گروہ بنا لے گا یوں ظلم انڈے بچے جننے لگتا ہے اور اگر کوئی روکنے والا نہ رہے تو پھر اسی طرح کے واقعات اور دہشت گرد کاروائیاں وجود میں آتی ہیں جس طرح کی آج کل ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں۔ہمارے ملک میں بھی لوگ فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئے ہیںایک وہ جو اسلامی شریعہ نافذ ہونے کے خواہش مند ہیں ایک وہ جو دنیا کے ساتھ چلنے اور ترقی میں حصہ دار بننے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اسلام اپنی مرضی سے زندگی گذارنے کا حق دیتا ہے مگر حلال و حرام کے فرق کے ساتھ ،کسی دوسرے کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا اگر صرف ان دو باتوں کی تشریح کرنے بیٹھیں تو یہ اتنے وسیع معنوں میں آتے ہیں کہ آپ سالوں ان پر لکھتے رہیں یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ایک طرف تو طالبان خود کو شریعت کا داعی کہتے ہیں اور اس کو پوری دنیا میں رائج کرنے کے خواہش مند بھی ہیں ۔دوسری طرف ان کے کارنامے کیا ایسے ہیں کہ انھیںپوری دنیا توکیا صرف ایک ملک کی ہی حکومت سونپی جا سکے ؟؟؟ سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے نزدیک شریعت کی تعریف کیا ہے ؟وہ اسلام جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے کیا وہ اسلام انہیں اجازت دیتا ہے کہ وہ مائوں کے جوان بیٹوں کو جن کی پیشانیوں پہ وہ آیت الکرسی اور دعائیں پھونک کر باہر جانے دیتی ہیں وہ ان پیشانیوں میں گولیاں ماریں جن بیٹوں کے سروں کے صدقے اتارتی ہیں ان جوان کڑیل بیٹوں کے اترے ہوئے سر انھوں نے کیسے دیکھے ہونگے کیسے انھوں نے وہ جانوروں کی طرح گھسیٹی جانے والی لاشیں دیکھی ہونگی کیا ایف سی کے جوان کسی ماں کے جنے نہیں تھے ؟ کسی نہ کسی ماں نے تو ان طالبان کو بھی جنا ہو گا لیکن ان کی تربیت نہیں کی ہوگی۔

میں نے ان کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ ماضی سے ناواقف ہیں۔مستقبل ان کے لیے کیا لا رہا ہے اس کی پیش بینی سے قاصر ہیں۔ان کے لیے جو کچھ ہے وہ حال ہے انہیں جنگ نے یتیم کر دیا ان کی جڑیں نہیں ،وہ ہمہ وقت مضطرب اور پریشان رہتے ہیں ۔ان کے پاس روزگار نہیں وہ اقتصادی محرومی کا شکار ہیں ،وہ جنگ کی تعریف کرتے ہیں کہ انھیں اسی سبب ایک مشغلہ ملا ہوا ہے (یعنی لوگوں کے سر کاٹنا ایک مشغلہ ہے )انہیں خود شناسی بھی نہیں ان کی دلچسپی اور وابستگی اسلام سے ہے وہ اپنے ہر دکھ کا مداوہ اور ہر مشکل کا حل اسی میں دیکھتے ہیں (کاش وہ اسلام کو سمجھ بھی لیتے ) وہ اپنے گائوں کے مدرسے اور استادوں کی باتوں کو یاد کرنے اور دہرانے میں سکون محسوس کرتے ہیں وہ اپنے اجداد کے روائیتی پیشوں سے بھی نابلد ہیں کاشتکاری کس طرح کی جاتی ہے ،مویشی کس طرح پالے جاتے ہیں ،دستکاریاں کیسے ہوتی ہیں ۔ جنھوں نے مائووں ،بہنوں،خالہ زاد، چچا زاد بہنوں میں سے کوئی رشتہ دیکھا یا جانا ہی نہ ہو ہم ان میں انسانی رویے کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟زیادہ تر نے زندگی مدرسوں میں تعلیم پاتے یا مہاجر کیمپوں میں پرورش پاتے گذاری ۔ وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں مرد اور عورتیں الگ الگ خانوں میں بٹی ہوئی تھیں کیمپوں میں خواتین رشتہ داروں کی آمد کو بہت محدود کر دیا گیا تھا ۔پشتون معاشرے میں ویسے ہی اس قسم کی پابندیاں بہت ہیں قریبی رشتہ دار مرد اور عورتیں آپس میں ملتے جلتے تھے مگر طالبان کی اکثریت جو کہ یتیموں پہ مشتمل تھی ان کو عورتوں کی رفاقت کا کچھ پتہ نہیں تھا۔

جن ملائوں نے انہیں پرھایا تھا وہ اس پر زور دیتے تھے کہ عورت سے بچو عورت ترغیب دیتی ہے اور اللہ کی راہ سے ہٹاتی ہے ۔چنانچہ جب طالبان قندھار میں داخل ہوئے تو انہوں نے عورتوں کو گھروں کے اندر پابند کر دیا ،گھروں سے باہر کام کرنے کو روک دیا ، سکول جانے اور خریداری کرنے کے لیے بازار جانے سے روک دیا ،سچ تو یہ ہے کہ وہ عورت سے خائف تھے لہذا انہوں نے انہیں گھروں میں بند کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور ملائوں کے فتووں پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا جنھوں نے نہ حضور ۖ کی زندگی کو ان کے آگے مثال بنا کے رکھا کہ وہ کس طرح عورت کے حقوق کی تلقین کرتے تھے نہ انہوں نے صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھا نہ ہی انہوں نے اصل اسلام کی روح کو پرکھا کہ جس دین میں تعلیم حاصل کرنے یا دنیاوی کاروبار کرنے میں مرد عورت کی کوئی تصخیص نہیں۔یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا استحصال طالبان اور سابق مجاہدین کے عقیدے اور بنیاد کی پرکھ اور تفہیم کا میعار بن گیا۔

طالبان براہ راست ان فوجی و دینی ضابطوں پر کاربند ہو گئے جو اسلام کے خلاف لڑی جانے والی صلیبی جنگوں کا محور تسلیم کیے جاتے تھے ۔ڈسپلن برقرار رکھنا،جوش و جذبے اور بے رحمی کے ساتھاپنے مقاصد حاصل کرنا۔(شائداسی جوش جذبے اور بے رحمی کو پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا جب وہ ایف سی کے جوانوں کی سر بریدہ لاشیں سڑک کنارے ڈالتے ہوئے جیس کا مظاہرہ وہ کر رہے تھے) ہم مشرف کو جتنے مرضی الزام دے لیں جتنے ٹرائل کر لیں ایک دن سب کو وہی کرنا ہے جو مشرف کرنے پر مجبور ہوا تھا ، کہانی شروع تو روس نے کی ک وہ افغانستان پہ چڑھ دوڑا دوسرا مکروہ کردار امریکہ کا تھا جس نے اسلام کے نام پر مجاہدین بنائے ان کے ذریعے روس کو توڑا ،مقاصد پورے ہونے کے بعد چلتا بنا،اس وقت افغان جنگ میں جو بچے یتیم ہوئے ان کے جہاز بھر بھر کے لے جائے گئے (تاریخ کا یہ سچ بھی کبھی نہ کبھی سامنے آ جائے گا )چونکہ ان کا مصرف صرف یہی تھا کہ ان کو جہادی ٹریننگ دی جائے جب وہ ٹرینڈ ہو جائیں تب ان کی برین واشنگ کر کے مسلمان فوج کے سامنے کھڑا کر دیا جائے ۔یہاں ہمارے نام نہاد علماء خصوصاً مولانا فضل ا لرحمٰن کا کردار نہایت بھیانک ہے جنھوں نے امریکہ سے ڈالر بٹور کر اپنے ہی ملک و فوج کو تباہ کیا بلا شبہ پشتون علاقوں میں مولانا کا بہت اسر و رسوخ تھا اور ہے ۔ لیکن انہوں نے کبھی کوئی مثبت رول ادا کرنے سے گریز کیا ۔لال مسجد میں بھی دوغلا کردار ادا کیا اور آج بھی وہ اپنے گیم پلان میں مصروف ہیں۔

امریکہ کی پالیسی بیشتر غلط مفروضوں پر منحصر اور مبنی رہی ہے امریکی سفارت کاروں کو یقین تھا کہ طالبان افغانستان میں امریکہ کے بنیادی مقاصد پورے کرنے کا وسیلہ ثابت ہونگے ان کا خیال تھا وہ منشیات اور غلط کاروں کو ختم کر دیں گے یہ ایک مسلمہ بھول پن تھا جس نے طالبان کے گرد ایک معاشرتی ہیولا سا بنا دیا تھا 1995 میں جب طالبان نے ہرات پر قبضہ کیا اور ہزاروں لڑکیوں کو اسکولوں سے نکال باہر کیا تو امریکہ مہر بہ لب رہا اس نے طالبان پر تنقید کا ایک لفظ نہ کہا وہ درحقیقت ایران کے گلے میں پھندہ سخت ہوتے دیکھنا چاھتا تھا امریکہ کا طالبان کو ان کے گرد گھیرہ تنگ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا مقصد اس کی کم نگاہی و کم نظری کا مجاذ تھا کیونکہ اس کا مطلب ایران کو پاکستان کے خلاف اور شیعوں کو سنیوں کے خلاف اور پشتونوں کو غیر پشتونوں کے خلاف صف آرا کرنا تھا ۔ایران امریکہ کے سخت خلاف تھا ۔سی آئی اے طالبان کی مدد کر رہی تھی ساتھ ہی طالبان کے مخالف اتحاد کو ہتھیار فراہم کر رہی تھی۔

ایک ایرانی سفارت کار نے کہا امریکی پالیسی ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم روس سے مل جائیں اور پاکستان ،سعودی عرب اور طالبان کے خلاف اتحاد کا ساتھ دیں ۔۔۔سو یہ اسی تباہ کن پالیسی کا تسلسل ہے جو عذر گناہ کے طور پر مشرف کے سر تھوپ دی گئی کیونکہ مشرف ایک کمانڈو کے طور اس پالیسی کو مکمل طور پہ سمجھ گئے تھے اور وہ اپنے طور پر اس کا توڑ کر رہے تھے ۔جس میں انہیں کچھ سابق کرداروں کی مخالفت کا بھی سامنا ہوا جو بالواسطہ طور پر امریکی پلاننگ کا حصہ تھے ۔۔ اور مشرف اور پاک آرمی کی کی کردارکشی کا سبب بھی بنے ،پاک آرمی اور آئی ایس آئی کو غیر موثر کرنا امریکہ کا اولین خواب تھا جو کچھ اپنوں اور کچھ بیگانوں کی مدد سے اسے پورا ہوتا نظر آیا ۔سوچنے کی بات ہے طالبان امریکہ کے دشمن ہوتے تو پاکستان کی بربادی کے درپے کیوں ہوتے ؟ڈرون حملے ہی ان کی ناراضگی کا سبب تھے تو ڈروں حملے رک جانے کے باوجود اور مذاکراتی عمل شروع ہونے کے باوجود وہ قتل و غارت روک کیوں نہیں رہے ؟ اور ان کا تازہ ترین کارنامہ (ایف سی جوانوں کا قتل ) کس کھاتے میں جائے گا ؟ وہ کس قسم کی شرعی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ؟ اور کیا وہ اپنی شریعت کے مطابق بیس کروڑ انسانوں پر حکومت کر سکتے ہیں ؟ جس شریعت کے ساتھ وہ صرف افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکے ۔۔ کیا پکستان کا کوئی بھی شہری یہ سوچ سکتا ہے کہ اس ملک کے ہر شہر کے ہر چوک پہ پھانسی گھاٹ کھلے ہوں ؟ خواتین گھروں میں بند ہو جائیں بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوں ۔خوف کا جن ہر شہر ،گائوں قصبے گلی کوچوں میں ناچتا پھرتا ہو روز بکروں کی جگہ جوان زبح کیئے جائیں ،دنیا کی بہترین آرمی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور پاکستانی عوام کے تحفظ سے ہاتھ کھینچ لے تا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طالبان اپنی شریعت نافذ کر سکیں۔کیا ہم ایسی حکومت کے لیے تیار ہیں ؟؟؟

Mrs. Jamshed Khakwani

Mrs. Jamshed Khakwani

تحریر: مسز جمشید خاکوانی