yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    بین الاقوامی خبریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    • اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

نوازشریف کی سیاست کا مستقبل؟

MH Kazmi August 18, 2017 1 min read
The future of Nawaz Sharif politics?
Share this:

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کوئی معمولی سیاسی واقعہ نہیں۔ جی ٹی روڈ احتجاجی ریلی میں جس درشت لہجہ میں انھوں نے عدالتی فیصلہ پر تنقید کی، وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ ان کو اس طرح اپنے نااہل ہونے کی قطعاً کوئی توقع نہ تھی، تیسری بار بھی ان کو وزیراعظم ہاؤس سے اپنی مرضی کے خلاف ہی رخصت ہونا پڑا۔ مگر جس چیز کا شاید ان کو سب سے زیادہ صدمہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ فی الحال ان کی اولاد بھی ان کی جانشین بننے کی اہل نہیں رہی۔مستزاد یہ کہ وہ پارٹی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار پاچکے ہیں، اور اب سردار یعقوب ان کی جگہ پارٹی صدر ہیں۔

نااہلی کے فوراً بعد پہلے تو یہ خبر آئی کہ نوازشریف براستہ موٹر وے لاہور پہنچیں گے۔ یہ رائے چوہدری نثارعلی خاں اور شہباز شریف کی تھی؛ مگر پھر یہ اطلاع موصول ہوئی کہ نوازشریف براستہ جی ٹی روڈ لاہور پہنچیں گے۔ کہتے ہیں، ان کے اخباری دوستوں نے ان سے کہا کہ محمد خان جونیجو کی طرح چپ چاپ اسلام آباد سے کوچ کر جانے سے ان کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوگا۔ لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کے اطراف نشستیں انھی کے حامیوں کے پاس ہیں ۔ چنانچہ ان کے جی ٹی روڈ پر چڑھتے ہی ان کا حامی ووٹ بینک کسی سیلاب کی طرح امڈ آئے گا ، اور پارٹی کے اندر اور باہر ان کی سیاسی  پوزیشن کو ازسرنو مستحکم کر دے گا۔

یہ رائے نوازشریف کے دل کو لگی ، اور انھوں نے جی ٹی روڈ کے راستہ لاہور پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ ن لیگی حلقوں کی طرف سے یہ خبر بھی پھیلائی گئی کہ چوہدری نثارعلی خاں اور نوازشریف کے درمیان شکررنجی دور ہو چکی ہے اور وہ ہی جی ٹی روڈ پر نوازشریف کی گاڑی ڈرائیو کریں گے۔ مگر چوہدری نثارعلی خاں سرے سے نوازشریف ریلی میں ہی شریک نہ ہوئے۔ مزید ستم یہ ہوا کہ ریلی اپنی پہلی منزل راولپنڈی پر ہی مشکلات کا شکار ہو گئی۔ حنیف عباسی کا دعویٰ تھا کہ راولپنڈی میں نوازشریف کااستقبالی جلوس تاریخ رقم کرے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

گزشتہ روز جب یہ ریلی ایک سو چالیس کلومیٹر کی رفتار سے فراٹے بھرتی جہلم پہنچی، جو یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ جی ٹی روڈ ریلی اب عملی طور پر جی ٹی روڈ پر واقع جہلم چوک، گجرات چوک، گوجرانوالہ چوک اور مریدکے چوک میں  احتجاجی جلسوں کے پروگرام میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ آخری جلسہ داتا دربار چوک لاہور میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جی ٹی روڈ پر اس کے بعد یہ ریلی اس طرح نظر نہیں آئی، جس طرح اگست 2014 ء میں عمران خان اور طاہرالقادری کی ریلیاں دن رات نظر آتی رہی تھیں، یا2007ء میں معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی ریلی مسلسل ستائیس گھنٹے تک  گشت کرتی آئی تھی۔

جی ٹی روڈ پر نوازشریف کے احتجاجی جلسوں میں لوگوں نے شرکت ضرور کی، مگر ان کی تعداد کوئی ایسی غیرمعمولی نہ تھی۔ ان احتجاجی جلسوں کی خاص چیز نوازشریف کی جذباتی تقریریں تھیں ، جن میں انھوں نے کبھی کسی ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کی بات کی اور کبھی آئین میں تبدیلی کا ذکر کیا۔ ’’گرینڈ پولیٹیکل ڈائیلاگ‘‘ کی بات تو سمجھ سے باہر ہے کہ یہ ڈائیلاگ وہ کس کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔

مگر ان کی یہ بات سمجھ میںآتی ہے کہ وہ آئین کی دفعہ 62 میں ترمیم کے خواہاں ہیں۔ اس طرح کی بات پیپلزپارٹی کے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی کی ہے، بلکہ وہ مذکورہ دفعات کو عدالتی اٹھاون ٹو بی کا نام بھی دے چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں کے وزرائے اعظم  مذکورہ دفعات کی زد میں آ کر نااہلیت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ بلکہ جن دنوں یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا، آئین کی مذکورہ دفعات کے بارے میں پیپلز پارٹی کے جذبات بھی وہی تھے ، جو اب ن لیگ کے ہیں۔

پیپلزپارٹی یہی کہہ رہی ہے کہ وہ نوازشریف کی اس طرح کی تجاویز کی حمایت نہیں کرے گی ، مگر یہ حقیقت ہے کہ درون خانہ وہ بھی آئین کی مذکورہ دفعات کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس طرح کی تبدیلی اس وقت نہ ہو کیونکہ ابھی اس کا  فائدہ صرف نوازشریف کو ہو گا۔ گویا فی الحال گرینڈ ڈائیلاگ او ر آئین میں دفعہ 62 میں تبدیلی کی تجاویز پر کسی پیش رفت کاکوئی امکان نہیں ہے۔

نوازشریف کی نااہلی آئین کے آرٹیکل 62-1(f) کے تحت ہوئی ہے، جو تاحیات نااہلی کے زمرے میں آتی ہے۔ نظرثانی کی درخواست انھوں نے دائرکی ہے، مگر اس کا اسکوپ بڑا محدود ہے۔ نواز شریف کے لیے یہ چیز بھی پریشانی کا باعث ہے کہ نیب میں ان کے خلاف ریفرنسز پر کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ ایک ریفرنس میں ان کو اور ان کے دونوں بیٹوں کو نوٹسز جاری ہو گئے ہیں۔

نوازشریف نے اسلام آباد سے لاہور واپسی کے سفر کے دوران اپنے کارکنوں کو یہ باور کرانے کی بھرپور سعی کی کہ سپریم کورٹ نے ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ مگر آیندہ چند دنوں میں، جب نیب ریفرنسز پر کاروائی آگے بڑھے گی تو ان کا یہ بیانیہ اپنی معنویت کھو دے گا، کیونکہ یہ تمام ریفرنسز کرپشن اور منی لانڈرنگ سے متعلق ہی ہیں۔ یہ ریفرنسز اگر واقعی اگلے چھ مہینوں میں فیصل بھی ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب  یہ ہوگا کہ جو بھی فیصلے ہوں گے آیندہ الیکشن سے پہلے پہلے منظر عام پر آ جائیں گے۔ جب کہ دفعہ 62-1(f) کے تحت نااہلی بھی اپنی جگہ موجود رہے گی۔

نوازشریف اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار ایک ایسی بند گلی میں آ نکلے ہیں، جہاں ان کو آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سخت مضطرب ہیں؛ مثلاً: پہلے انھوں نے اپنی خالی کردہ نشست پر شہباز شریف کو منتخب کرا کے مستقل وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا، پھر کہا کہ خاقان عباسی ہی مستقل وزیراعظم رہیں گے، اور اب اپنی بیگم صاحب کو منتخب کراکے قومی اسمبلی میں پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح پہلے براستہ موٹر وے اسلام آباد سے لاہور آنے کا اعلان کیا، پھر براستہ جی ٹی روڈ احتجاجی ریلی لے کر لاہور پہنچنے کا فیصلہ کیا اور آخر میں ریلی کو احتجاجی جلسوں میں تبدیل کر دیا۔

کچھ اسی قسم کی صورت حال ان کے آئے روز بدلتے بیانیوں کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ کس نے سازش کی ہے  تو وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے پاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ، مگر سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کو بھجوائے گئے ریفرنسز ان کے اس موقف کی نفی کرتے ہیں۔ نوازشریف کو اپنی سیاسی زندگی میں چونکہ کبھی اس طرح کے غیر یقینی حالات کا سامنا نہیں ہوا۔ شاعر نے کہا تھا،

پہلے آتی تھی حال دل پر ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

Share this:

MH Kazmi

25,243 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
We are unjust
Previous Post ہم بے انصاف ہیں
Next Post بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار
Muslims's condition in India

Related Posts

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

August 15, 2026
زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

August 15, 2026
What Happens to Melania Trump If President Dies?

اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟

July 18, 2026

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟

July 18, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.