counter easy hit

سابق وزیراعظم کے ڈیل کرنے پر مجبور کیوں ہو رہے ہیں؟ بالاخر وجہ سامنے آگئی

Why are the former PM being forced to deal? Eventually the cause came to light

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار عمران خان نے کہا کہ چار سے پانچ دن ہو گئے ہیں ہمارے پاس مختلف حکومتی ذرائع سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ میاں صاحب ڈیل کر رہے ہیں۔ اُس کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ ایک تو یہ مریم نواز کی گرفتاری اور جیل میں موجودگی کی وجہ سے نواز شریف پر کافی دباؤ ہے۔پہلے بھی جب نواز شریف اور مریم نواز گرفتار ہوئے تھے تب بھی نواز شریف کی کوشش تھی کہ مریم نواز کو ریلیف مل جائے وہ باہر رہیں اور خود بے شک وہ جیل میں رہیں کیونکہ وہ اپنے اوپر تو سختی جھیل سکتے ہیں لیکن اپنی بیٹی پر وہ سختی برداشت نہیں کرسکتے۔ دوسرا دباؤ یہ ہے کہ جب سے پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہوا ہے تب سے بھی نواز شریف کافی پریشان ہیں، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف ہے کہ کرپشن برداشت نہیں کی جائے۔اس طرح کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ نواز شریف کی اب تک اہم شخصیات کے ساتھ دو ملاقاتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ میاں صاحب کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی کوئی ڈیل ہو جائے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ نواز شریف سے زبردستی ڈیل کروائی جا رہی ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ میدان میں آئیں اور ہماری جان چھُڑوائیں کیونکہ حکومت بہت بُری طرح پھنسی ہوئی ہے ، اب نواز شریف کی ضرورت حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اداروں کو پڑ رہی ہے۔مسلم لیگ ن کے لوگوں کے مطابق نواز شریف اس بات پر آمادہ نہیں ہیں اور انہوں نے کہہ دیا ہے کہ میں کسی قسم کی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہوں۔ جبکہ حکومتی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ اب میاں نواز شریف پیسے دینے کو تیار ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ دعوے بھی ہورہے ہیں، کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ سینکڑوں ارب کی بات ہو رہی ہے لیکن ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل سات سو ارب کی چہ مگوئیاں ہوئی تھیں، خبروں کی مارکیٹ میں 12 ارب ڈالر کا بھی ایک فگر سننے میں آ رہا ہے۔لیکن صوبائی حکومت کے وزیر اطلاعات نے خود کہا ہے کہ یہ جانے والے ہیں اور میرے پاس وثوق ذرائع کے ساتھ یہ خبر موجود ہے ، میں آپ کو کنفرم کر رہا ہوں کہ پلی بارگین ہو گا اور یہ لوگ پیسے دے کر جائیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اینکر پرسن و تجزیہ کار عمران خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حکومتی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا تھا کہ میں اپنےسیاسی ذرائع کے حوالے سے کہہ رہا ہوں کہ میاں نواز شریف بیک ڈور ڈیل کر رہے ہیں اور دو سے تین ماہ میں آپ کو بھی نظر آجائے گا، پہلے بھی یہ ملک سے بھاگ گئے تھے اور اب بھی یہ بھاگ جائیں گے،اور پیسے دے کے جائیں گے ویسے نہیں۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ کتنے پیسے دے کہ جائیں گے یہ بات اس وقت کرنا مناسب نہیں لیکن پلی بارگین کی باتیں چل رہی ہیں اور یہ پلی بارگین کریں گے، یہ باہر جانا چاہتے ہیں ،پیسے دیں اور جہاں مرضی جا کر رہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ جبکہ ڈیل کے حوالے سے ہی اینکر پرسن اور تجزیہ نگار ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ” نوازشریف کرپشن چارجز کی وجہ سےجیل میں ہیں جبکہ انکی بیٹی مریم نواز بھی نیب کی تحویل میں ہیں ۔ انکو5 ستمبر کو عدالت کے سامنےدوبارہ پیش کیا جائیگا۔ دوسری جانب آصف علی زرداری صاحب اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال 28 اگست کو معائنہ کروانے کے لیے منتقل ہو گئے تھے لیکن دو دن کے بعد ہی انکو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا جس پر پیپلز پارٹی کے کارکنان کی جانب سے کافی شور مچایا گیا ،” اینکر پرسن اور تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ” پاکستان کے سر براہان پر جو الزامات ہیں وہ عوام میں ثابت ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ الزامات عوام میں کافی جاندارہیں ۔ ” اینکر پرسن نے مزید وضاحت دیتے ہوے کہا کہ ” آن لائن نجی اخبار میں جہاں آصفہ بھٹو جو آصف علی زرداری کی صاحبزادی ہیں ، پریس کانفرنس کر رہی ہیں اسی کے نیچے ہی کئی ذہین لوگوں ن تبصرے بھی کیے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کافی سمجھ دار ہیں اورانکے تبصرے کافی جاندار اور ٹرولنگ سے پاک ہیں ۔ان تمام تبصروں میں سے کسی کا بھی آصف علی زرداری کیساتھ ہمدردی کا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ ” اینکر پرسن نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی موجودہ صورتحا ل پر تبصرہ کرتے ہوے انکشاف کیا کہ ” آج کل صحافتی وسفارتی حلقوں میں ایک تھیوری چل رہی ہے جسکے مطابق نواز شریف اور آصف علی زرداری اپنے اپنے طور پر پلی بار گین کے ذریعے پیسہ واپس کرنا چاہتے ہیں ۔ پلی بارگین کے متعلق بڑ ا انکشاف یہ ہےکہ رقم بہت بڑی ہے غالبا 10 ارب ڈالر یا 15 بلین ڈالر ۔ لیکن اس رقم کیساتھ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ہم اس بات ا عتراف نہیں کریں گے کہ ہم نے کچھ غلط کیا ہے اورہم دو سے تین برس کے لیے منظر سے بھی غائب ہو جائیں گے ۔ اسی پلی بار گین کیساتھ یہ بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ ہمارے بچوں کی سیاست کو دفن نہ کیا جاے۔اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ ” دیکھا جاے تو بلاول کی سیاست کو اتناخطرہ نہیں ہےلیکن زیادہ خطرہ مریم نواز کی سیاست کو ہے۔ ” تجزیہ کار ٖڈاکٹر معید پیرزداہ نے بڑا انکشاف کرتے ہوے کہا کہ “پلی بار گین کے نتیجے میں رقم دینے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن یہ بھی مطالبہ کر رہی ہے کہ عمران خان کو بھی پاکستانی سیاست سے ہٹایا جاے ، آؤٹ کیا جاےمکمل آوٹ کیا جاۓ ۔ اب یہ تھیوری ہے ، کوئی مفروضہ ہے کچھ بھی ہے لیکن یہ ہے ضرور۔”

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website