counter easy hit

صف اول کے صحافی نے بتا دیا

Safi told reporters

لاہور (ویب ڈیسک) ایمنسٹی سکیم کی آخری تاریخ سے ایک روز قبل ہی اے بی آر نے’’ بے نامی اراضی‘‘ کے خلاف کارروائی شروع کر دی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما چوہدری تنویر خان سے منسوب 6ہزار اراضی ’’منجمد‘‘ کر دی اس اراضی میں جو پانچ نام بتائے گئے ہیں ان کے بارے میں کہا گیا کہ نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ چوہدری تنویر خان کے ملازمین ہیں جب کہ ان میں سے تین نام چوہدری تنویر خان کے خسر عبدالعزیز، خوشدامن شاہجہاں (مرحومہ ) اور برادر نسبتی عبدالشکورکے ہیں عبد العزیز ایک ریٹائرڈ افسر ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں موٹروے پر موضع راجڑ راولپنڈی کی حدود میں واقع بنجر اراضی کی قیمت کے بارے میں نوٹس موصول ہونے پر کوئی بات حتمی طور کہی جا سکے گی چوہدری تنویر خان جو علاج معالجہ کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں کی وطن واپسی پر ہی حقائق سامنے آئیں گے۔رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ’’دھماکہ خیز‘‘ پریس کانفرنس کر کے سیاسی حلقوں میں ’’ہلچل‘‘ مچا دی ہے انہوں نے پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا ہے ہم وہ عدلیہ کے احترام میں شائع نہیں کر رہے لیکن مریم نواز نے جو کچھ شواہد پیش کئے ہیں ان کے بارے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل انکوائری کرانی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں یہ ایک حقیقت ہے آصف علی زرداری نے ہی عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اپوزیشن کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھایا ہے مولانا فضل الرحمنٰ اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھانے اور اجتماعی استعفے دینے پر تلے ہوئے تھے لیکن آصف علی زرداری نے جمہوریت کو’’ ڈی ریل‘‘ ہونے سے بچالیا آصف علی زرداری نے پاکستان تحریک انصاف سے ملک کر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا لیکن حکومت نے انہیں دیوار سے لگا نے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے آئے روز ان کی مختلف مقدمات میں گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ’’سٹریٹ پاور‘‘ سے حکومت گرانے کی مخالفت کر رہے ہیں یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے مولانا فضل الرحمنٰ کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں حکومت گرانے کے لئے تحریک شروع کرنے کا اعلان شامل نہیں کرنے دیا لیکن اب آصف علی زرداری نے اپنے ہی ووٹوں سے بنائے گئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کر کے در اصل تمام قوتوں کو ’’بدلتے سیاسی منظر نامہ‘‘ کا ’’سندیسہ‘‘ دیا ہے۔سینیٹ میں اپوزیشن کو بھاری اکثریت حاصل ہے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر خفیہ رائے شماری ہو گی تاہم یہ بات اظہر من الشمس ہے پوری اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر متحد ہے لہذا چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد 60زائد ووٹوں سے منظور ہو جائے گی اگرچہ ابھی تک رہبر کمیٹی نے تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد چیئرمین کے لئے امیدوار کا فیصلہ نہیں کیا تاہم رہبر کمیتی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹیرین کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ چیئرمین شپ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کو دے دی جائے دوسری صورت میں دونوں اکثریتی جماعتوں کو اس بات کا اختیار دے دیا جائے کہ وہ مل بیٹھ کر نئے چیئرمین کا فیصلہ کر لیں تیسری صورت میں کسی اقلیتی جماعت کے رکن کو چیئرمین بنانے پر اتفاق رائے کر لیا جائے پاکستان پیپلز پارٹی جس کی نظریں چیئرمین کے منصب پر لگی ہوئی ہیں آصف علی زرداری سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین بنوانا چاہتے ہیں اور وہ اس شرط پر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کا چیئرمین بنایا جائے لیکن رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے موقف میں لچک دیکھنے میں آئی ہے اگر اکثریتی پارٹی سے چیئرمین بنایا گیا تو ’’ہما‘‘ راجا محمد ظفر الحق کے سر جا بیٹھے گا اگر دو بڑی سیاسی جماعتوں کو چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے چیئرمین شپ دینے کے عوض خالی ہونے والی قائد حزب اختلاف کی نشست کی ’’فرمائش‘‘ کر سکتی ہے اگر فیصلہ یہ ہوا کہ بلوچستان سے چیئرمین بنایا جائے تو قرعہ فال میر حاصل بزنجو کے نام نکل سکتا ہے ۔ بہر حال آنے والے دنوں میں سیاسی منظر واضح ہو جائے گا سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جا رہی ہے ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2019ء کو ملکی سیاست میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے ان تین مہینوں میں ’’سیاسی شورش ‘‘ برپا ہو سکتی ہے جو سیاسی’’ منظرنامہ ‘‘ تبدیل کر سکتی ہے بہر حال حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ اپنے دروازوں کو کھول کر اپوزیشن سے ’’سیاسی ڈائیلاگ ‘‘ کا ماحول بنائے ۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی بجائے سینے سے لگانے سے ہی صورت حال میں بہتری آسکتی ہے بصورت دیگر سارا کھیل بگڑتا نظر آرہا ہے اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ۔ نہ جانے اس ’’کھیل ‘‘کا انجام کیا ہو گا سوچ سوچ کر خوف آتا ہے ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website