counter easy hit

کراچی کے طلبہ نے500روپے خرچ کرکے شاندار کارنامہ سر انجام دے دیا

KARACHI students spent 500 rupees by performing a great deal

لاہور ( ویب ڈیسک ) اقبال کے شاہین ہمیشہ اپنی محنت سے نام پیدا کرنے اور دنیا کو حیران کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ملک پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو سرپرستی اور مناسب گائیڈ لائن کی۔ وگرنہ آئے روز یہاں طلبا کی محنت اور تحقیق کے ایسے ایسے کارنامے سنائی دیتے رہتے ہیں جو ہمارے جیسے کم سرمایہ والے ملک میں کسی معجزے سے کم نہیں ہوتے۔ ٹیکنالوجی نت نئی آسانیاں اور سہولتیں انسان کے کیے پیدا کرتی رہتی ہے۔اسی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اب پاکستانی طلبہ بھی ترقی کرنے لگے ہیں۔گزشتہ دنوں کراچی کی یو آئی ٹی یونیورسٹی کا کارنامہ سامنے آیا۔چار طلبا کے گروپ نے ایک ایسا جدید دستانہ ایجاد کیا جو گونگے لوگوں کی آواز بن جائے گا۔ اس دستانے کو ہاتھ میں پہن کر قوت گویائی سے محروم شخص مخصوص اشارے کرے گا جن اشاروںکو یہ الیکڑک دستانہ ڈی کوڈ کرتے ہوئے آواز میں تبدیل کر کے سامنے والے شخص سے بات کرے گا۔ طلبہ نے کہا کہ اس دستانے کی قیمت محض 500روپے ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کی قیمت میں اور بھی کمی لائیں اور اس کی جدیدت اور فنکشن میں بھی مزید بہتری لائیں۔اس تحقیق پر ابھی کام چل رہا ہے کہ نوجوان شخص کے لیے نوجوان شخص کی آواز اور بوڑھے شخص کے لیے اسی کی طرز کی آواز اس دستانے سے نکلے۔یہ الیکٹرک دستانہ ایک ہاتھ میں پہنا جائے گا جسے قوت گویائی سے محروم شخص ہاتھ میں پہن کر مخصوس لینگوایج کے سائن استعمال کرے گا جنہیں یہ دستانے آواز کی صورت دیں گے۔ طلبا نے یہ ایجاد اپنے فائنل ایئر پراجیکٹ کے طور پر کی ہے۔مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کب کوئی کمپنی طلبا کی اس محنت کو اپنے پلیٹ فارم سے عام عوا م کی سہولت کے لیے لانچ کرتی اور ایسے دستانے مارکیٹ میں لاتی ہے۔ملک پاکستان میں طلبا کا یہ پہلا شاندار کارنامہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی حیران کن کارنامے ہمارے طلبہ انجام دیتے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ہونہار اور محنتی طلبہ کو حکومت کام کرنے کے لیے ایک ایسی پریکٹیکل نرسری مہیا کرے جہاں یہ اپنے زرخیز دماغ میں آنے والے آئیڈیاز پر پر یکٹس کرتے ہوئے کامیابی کی منزلیں طے کر سکیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website