counter easy hit

نئی روایت” کا عشرہ ء طنز و مزاح

Maryam Samaar

Maryam Samaar

تحریر : مریم ثمر

ہم نے کئی بزرگوں کو نئی نسل کی منتیں اور ترلے کرتے دیکھا ہے کہ ہم سے کوئی کچھ علم حاصل کرلو کوئی ہنر سیکھ لو، کبھی نہ کبھی کام آئے گا مگر کوئی بھی نئی نسل ایسی منتوں اور ترلوں کو درخور اعتناء نہیں سمجھتی، فائدہ اُٹھانے سے محروم رہتی ہے اور جب بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہوتا ہو تب بزرگوں کی باتوں کو یاد کرکے آہیں بھرتی نظر آتی ہے. اُردو شعر و ادب میں جمیل الرحمان ایک معتبر نام ہے جو اپنا علم نئی نسل میں بانٹنے اور اس نسل کے ادبی ذوق کی تربیت کرنے کی تگ و دو میں جنون کی حد تک مصروف نظر آتے ہیں. آپ کی یہ تڑپ کہ بزرگوں کا ادبی اثاثہ نئی نسل تک احسن طریق سے منتقل ہوجائے یقیناً ایک قابل قدر جذبہ ہے

جمیل الرحمان فیس بُک کے معروف اور مقبول ادبی فورم “نئی روایت” کے بانی ہیں اور محترمہ فرح دیبا ورک المعروف بہ ایف.ڈی. ورک اس پہاڑ جیسے کام میں جمیل الرحمان صاحب کی دست راست اور فورم کی منتظمہء اعلیٰ ہیں. یہ عالمی ادبی فورم ادب کے طالب علموں کے لیے ایک گراں قدر اور خوبصورت تحفہ ہے. حال ہی میں “نئی روایت” نے ایک نئی انگڑائی لی اور پوری سنجیدگی سے محترمہ ایف.ڈی. ورک صاحبہ کی قیادت میں فروغ ادب کا بیڑا اُٹھایا. کوئی دو ماہ قبل “نئی روایت” نے یکم دسمبر سے سات دسمبر تک ہفتہء طنز و مزاح کا اعلان کیا. طنز اور مزاح لکھنے والے بہت سے منجھے ہو ئے لکھاریوں کے ساتھ ساتھ مبتدیوں کو خاص طور پر اس تقریب میں شامل ہونے اور خصوصی مضامین لکھنے کی دعوت دی گئی. اس ادبی تقریب کی فیس بُک پر اُردو کے دیگر فورمز پر تشہیر بھی کی گئی اور منتظمین کی جانب سے ذاتی رابطے بھی کئے گئے

خصوصی طور پر اس تقریب میں اپنی نگارشات بھیجنے والے چار درجن کے قریب ادیبوں میں میں باصر کاظمی ،نصیر احمد ناصر، ظفر خان، میمونہ مونا، اقبال حسین آزاد، نعیم بیگ، سبین علی، نادر خان سَر گِروہ، ناہید اختر، راہگیر راوی (مریم ثمر) ، شاہین کاظمی، سلمان باسط، سارہ خان، زین الحق، مسعود قاضی، ناہید اختر، قیصر نذیر خاور، نون جیم (ناصر جمیل)، سید صداقت حسین، شاہد جمیل احمد، قربِ عباس، معراج رسول رانا، نادر داس، امین صدرالدین بھایانی، افشاں بخاری، طلعت زہرا، نور العین ساحرہ، الیاس دانش، سلمٰی جیلانی، فرزانہ خاتون، فرحین جمال، شفیق زادہ، احسان بلوچ، جمیل اختر، عائشہ جاوید، ارسلان فرید، ایم اے فراز، محمد سبکتگین صبا، ایم نور آسی، جاوید مرزا، گُل بانو، منیر فردوس، مسعود منور، ممتاز رفیق، نسترن احسن فتیحی،قیصر مسعود، ڈاکٹر ریاض توحیدی، عنایت علی خان، اور محمد ظہیر بدر شامل ہیں. ان تمام مضامین کو ایف، ڈی ورک صاحبہ نے اپنے نفیس ذوق ، انتہائی مہارت اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ موضوع کے مطابق تصویری سرنامے سے آراستہ کیا

بے شمار قارئین نے ہر مضمون پر دل کھول کر داد دی اور مصنفین کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اغلاط اور فنی اسقام کی نشاندھی کر کے انتہائی پُروقار انداز میں تنقید بھی کی اور ادبی مباحث اور تجزیوں میں بھی گرم جوشی سے حصہ لیا. محترم جمیل الرحمان صاحب نے باریک بینی سے ایک اک مضمون کا تنقیدی جائزہ لیا اور لکھنے والوں کو اپنی قیمتی آراء سے نوازا. جناب جمیل الرحمان کے پُرمغز اور مدلل تجزیات سے علم و ادب کے تمام طالب علموں اور شیدائیوں کو بہت کچھ سیکھنے کو موقع ملا. منجھے ہوئے لکھاریوں جناب ظہیر بدر ، جناب ماجد وڑائچ جناب نادر خان سَرگِروہ نے بھی مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا اور لکھنے والوں کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا. تقریب کی مقبولیت، بھیجے گئے

مضامین کی تعداد اور قارئین کے پُر زور اصرار پر اس کی مدت میں تین روز کی توسیع کر کے اسے ہفتہ سے عشرہ بنا دیا گیا. اس تقریب میں مضمون نگاروں کے علاوہ دیگر اراکین فورم نے دلچسپ لطائف، مزاحیہ کارڈز، منظوم کلام اور اپنی اپنی پسند کے معروف مزاح نگاروں کے مضامین یا اقتباسات فورم میں آویزاں کرکے جہاں تمام دوستوں کو کہیں زیرِلب مُسکرانے اور کہیں کھُل کر قہقہے لگانے کا وافر سامان مہیا کیا وہاں اپنی خوش ذوقی اور اُردو ادب سے اپنی وابستگی اور لگن کا ثبوت بھی فراہم کیا. “نئی روایت” تمام مضمون نگاروں اور قارئین کی اُن کے پُرخلوص تعاون پر شُکر گذار ہے جنہوں نے پورے جوش، خروش اور جذبے سے اس تقریب میں شامل ہو کر اپنی نوک جھونک سے ایک میلے کا سا سماں پیدا کیے رکھا اور اس تقریب کو چار چاند لگائے

تحریر : مریم ثمر