counter easy hit

امریکی صدر کا دورہ بھارت

USA

USA

تحریر: پروفیسر مظہر
دریاؤں ،پہاڑوں ،مرغزاروں ،آبشاروں اور لہلہاتی کھیتیوں کے مجموعے کا نام ریاست نہیں۔ ریاست تو ایسے انسانوں کے مجموعے کا نام ہے جو اپنا فرض پہچانیں ،مواقع سے فائدہ اٹھائیں اوراپنے دفاع کہ صلاحیت رکھتے ہوں جبکہ ہمارا یہ عالم ہے کہ من حیث القوم ہمیں اپنے فرائض کاسرے سے ادراک ہی نہیں، مواقع سے فائدہ اٹھانے کایہ عالم کہ نائین الیون کے بعد ہمارا ”کمانڈو”امریکہ کے سامنے شرائط رکھنے کی بجائے وہ کچھ بھی مان گیا جس کا امریکہ نے تقاضہ ہی نہیں کیاتھا ،رہی دفاعی صلاحیت تو بلاشبہ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے ،ہمارے ایٹمی میزائیل بھارت کے ایک ایک شہرکو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیںاور اسرائیل کے عین وسط تک پہنچنے کی صلاحیت بھی ۔اِس کے باوجودبھی ہم امریکی غلام اوراُس کی ڈگڈگی پرناچنے والے سدھائے ہوئے بندر جو امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر سکھ کی تلاش میںنکلے اور دکھوں کی غارِعمیق میں جاگرے ۔ہم نے اُن پراعتبار کیا جنکی دوستی کھیتوں پر چھائے اُس کہر کی مانند ہوتی ہے جو ظہورِ خورشید کے ساتھ ہی فضاؤں میں تحلیل ہو جاتاہے۔

ہم اُس کے اتحادی بنے جس کے سابق وزیرِخارجہ نے کہا کہ امریکہ کی دشمنی سے زیادہ اُس کی دوستی خطرناک ہے اور تحقیقاتی ادارے ”کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر ”نے اسے سچ ثابت کردیا جس کے مطابق افغانستان میںچھپے ہوئے پاکستان مخالف دہشت گردوںنے پانچ سو سے زائد مرتبہ پاکستان پرحملہ کیا ۔یہ دہشت گرد افغانستان کے صوبہ کنڑ ،ننگرہار اورپاکتیامیں مکمل آزادی کے ساتھ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں لیکن کسی امریکی ڈڑون کی آنکھ اُنہیںدیکھ نہیںپاتی ۔ہماری خارجہ پالیسی کایہ عالم کہ ہمیشہ بے ثبات امریکی سایوں کو مہرِ درخشاں سمجھتے رہے ۔ہم کشکولِ گدائی بڑھاتے رہے اوراوہ بقدرِ اشکِ بلبل دیتے رہے لیکن وہ بھی تضحیک و استہزا کے ساتھ ۔جب حساب کیاتو پتہ چلاکہامریکہ نے تو 1948ء سے آج تک پاکستان کو صرف پینسٹھ ارب ڈالر امداددی لیکن ہم تو افغان وارمیںنہ صرف سَو ارب ڈالرسے زائد کا نقصان اٹھا چکے بلکہ سانحہ پشاور جیسے کئی سانحات نے ہمارے دلوںکی دنیا اجاڑکے رکھ دی ۔اِس کے باوجود امریکی تجزیہ نگاروںکے نزدیک پاکستان امریکہ کا جہنم سے نکلاہوا اتحادی ٹھہرا۔ پاکستان کی ایسی خارجہ پالیسی کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ
کم ہوں گے اِس بساط پر ہم جیسے بد قمار
جو چال بھی چلے ہم ،نہایت بری چلے

امریکی صدر بارک اوبامہ انڈیا کے دورے پر پہنچ گئے اوربھارتی وزیرِاعظم نریندرمودی کوآگے بڑھ کرگلے لگالیا ۔یہ وہی نریندرمودی ہے جسے کچھ عرصہ پہلے امریکہ نے ویزہ تک دینے سے انکار کردیاتھا ۔اُدھر نریندرمودی بھی طے شدہ پروٹوکول توڑتے ہوئے خود ایئرپورٹ پہنچ گئے اِس لیے کہا جاسکتاہے کہ جہاںمفادات عزیزہوں وہاں کوئی آئین ،قانون نہ اخلاقیات ۔اوبامہ کہتے ہیںکہ عالمی امن کے لیے بھارت کا کردار بہت اہم ہے جبکہ میاںنوازشریف نے کہاکہ ”ورکنگ باؤنڈری پرکشیدگی سے امریکہ اندازہ لگاسکتاہے کہ بھارت امن کے لیے کتناسنجیدہ ہے”۔ جب نریندرمودی نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر بارک اوبامہ کے گلے مل رہے تھے عین اُس وقت سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز بلااشتعال فائرنگ کررہی تھیں ۔پاکستان اوربھارت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیادپر بات کرتاہے ہے ،مشترکہ پریس کانفرنس میں جہاں نریندرمودی امریکی صدرکو باربار ”باراک”کہہ کر مخاطب کرکے یہ کہنے کی کوشش کررہے تھے کہ اُن کی امریکی صدرسے دوستی بے تکلفی کی حدتک گہری ہے وہیں اُنہوںنے یہ بھی کہہ دیاکہ ”بھارت پرکسی ملک کا دباؤ نہیںہوتا”۔ جبکہ دوسری طرف امریکی پاکستان کو دوست نہیں غلام سمجھتے ہیںاورہم نے بھی جب سے پاکستان معرضِ وجودمیں آیاہے امریکی غلامی کوہی اپنا طرۂ امتیاز سمجھ رکھاہے۔

ایوبی آمریت میں ہم سیٹو سینٹو، کے رکن تھے اور روس مخالف گروپ میں شامل۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت میں ہم افغان جنگ میں امریکہ کی بھرپور مدد کرتے ہوئے روس کے خلاف سینہ سپرہوئے اور آمر پرویز مشرف کے دورمیں تو ہم نے پوراملک ہی امریکہ کے حوالے کردیا ۔یہ جنگ ہماری نہیں تھی لیکن لڑی ہم نے جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ہم تو آج بھی اِس اندھی اوربے چہرہ جنگ کا شکارہیں جس میںہم نے اپنے پچاس ہزارسے زائد شہری شہید کروائے اور آٹھ ہزار سے زائد جری جوانوں کی قربانی دی۔امریکہ کوفوجی اڈے بنانے کی اجازت ہم نے دی ،ہزاروں جانیں قربان کیں ،دہشت گردی کے عفریت کاسامنا کیا اور اپنی معیشت کواپنے ہی ہاتھوں تباہ وبرباد کرلیا لیکن اوبامہ ایک نہیں دو،دو دفعہ بھارت کا دورہ کرتاہے ،اُس شخص کو گلے لگاتاہے جس کے ہاتھ گجراتی مسلمانوںکے خون سے رنگے ہیں ،اُس فوج سے سلامی لیتا ہے جو مقبوضہ کشمیر میںانسانی حقوق کی شدیدترین خلاف ورزیوںمیں ملوث ہے اوراُس حکومت کی دعوتیں اُڑاتاہے جس کے سیکولرازم کی چھتری تلے مسلمانوں اور مسیحیوںکو زبردستی مسلمان بنایا جاتاہے اور انکارکی صورت میں زندہ بھی جلا دیا جاتا ہے ۔ آج تو بارک اوبامہ انتہائی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہاہے کہ افغانستان میںبھارت امریکہ کا قابلِ اعتماد پارٹنرہے لیکن سوال کیا جاسکتاہے کہ افغان جنگ میںبھارت نے امریکہ کوکتنے فوجی اڈے دیئے ؟۔اُس کے کتنے فوجی اِس جنگ میں کام آئے اور اُس کی معیشت کو کتنے ارب کا نقصان ہوا؟۔ یہ سوال بھی کیا جاسکتاہے کہ اگرپاکستان اِس جنگ میں امریکہ کاساتھ نہ دیتا تو کیابھارتی حکومت کی مددسے امریکہ اپنے اہداف تک پہنچ پاتا؟۔

دورۂ بھارت میں صدراوبامہ اربوں ڈالرزکے معاہدے لے کر آئے ۔اُنہوںنے ایٹمی ٹیکنالوجی پر بھارتی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے واشنگٹن جوہری مواد کی نگرانی سے دستبرداری کا اعلان بھی کردیا اور ڈرون کی مشترکہ تیاری سمیت دفاعی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کا عندیہ اور سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کااعلان بھی لیکن پاکستان کے لیے وعدۂ فردا بھی نہیں۔ آج تو نریندرمودی بڑے فخرسے یہ کہہ رہاہے کہ بھارت اور امریکہ کی پارٹنرشپ گلوبل اور فطری ہے لیکن ہم تو اپنے فطری اتحادی کو اتنا بھی نہیں کہہ سکتے کہ
پھینکے ہیں طرف اوروں کے گُل بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی

عین اُس وقت جب امریکی صدرکا ہندوستان میںوالہانہ استقبال کیا جا رہاتھا،ہمارے بے لوث دوست چین نے پاکستان کو اپنا”آئرن فرینڈ”قرار دیتے ہوئے پاک فوج کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوکہہ دیاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے خلاف ہرممکن تعاون کرے گا اور شدت پسندی کو جڑسے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حدتک جائے گا۔ہم تواپنے ارسطوانِ خارجہ امور سے دست بستہ یہی درخواست کرسکتے ہیں کہ خُدارا امریکی غلامی کاطوق گلے سے اتارکر اُس طرف ہاتھ بڑھائیں جہاںآپ کو عزت بھی ملتی ہے اوراعتماد بھی۔

Prof Riffat Mazhar

Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسر مظہر