counter easy hit

اسلام خواتین کے حقوق کا بہترین محافظ

Islam Best Defender Women's Rights

Islam Best Defender Women’s Rights

تحریر: قرة العین ملک
عورت کائنات میں خدا کی ایسی تخلیق جس کے تصور سے نرمی، محبت، خلوص کا تصور ابھرتا ہے، بقول شاعر کائنات کی رنگینی کی وجہ بھی یہی وجود ہے، مردوں کے شانہ بشانہ چلتی خواتین کو ان کے حقوق، احترام دینے کے لئے 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ 1908 میں نیویارک میں گارنمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین ملازمین نے کام کی نوعیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی اوراپنے حقوق تسلیم کرائے جس کے اعزاز میں دنیا میں پہلی بار یوم خواتین امریکا میں 28 فروری 1909 کو منایا گیا جس کا اہتمام امریکا کی سوشلسٹ پارٹی نے کیا لیکن اقوام متحدہ نے 1975 میں باقاعدہ طور پر 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے نام سے منسوب کردیا جس کے بعد سے آج تک ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اجاگر کرنے کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے۔خواتین کے دم سے گھر اور کائنات میں رونق ہے جب کہ معاشرے میں خواتین کو بھی وہ تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں جو معاشرے کے کسی دوسرے فرد کو ہیں۔صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔ خواتین کی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد ہر شعبہ زندگی میں نظرآنی چاہیے۔ خواتین کے حق میں قانون سازی اور ان کی سماجی و معاشی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست خواتین کی ہر شعبہ میں شمولیت چاہتی ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت اور تمام متعلقہ فریقین کی مضبوط شراکت کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں سول سوسائٹی، مخیر حضرات، میڈیا، کارپوریٹ سیکٹر اور بالخصوص خواتین آگے آئیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا کی طرف سے خواتین کو سازگار ماحول کی فراہمی کے لئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات میں تعاون کو سراہا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سماجی تنظیمیں اور میڈیا آئندہ بھی اس مقدس مشن میں تعاون جاری رکھے گا۔پاکستان میں 90فی صد سے زائد عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں ۔آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔غربت کے باعث لاکھوں خواتین اور بچے گھروں میں کام کر رہے ہیں مگر حکمران بے حس ہو چکے ہیں اور خواتین کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ۔ملک کو بنے 67سال ہو چکے ،ہم ابھی تک جاگیردارانہ قبائلی کلچر اور فرسودہ رسم و رواج سے پیچھا نہیں چھڑا سکے ۔عورتوں پر تشددبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔جس سے انسانی زندگی کی ا قدار اور وقار کی نفی بھی ہوتی ہے ۔پاکستان میں روزانہ درجنوں خواتین کو ذہنی،جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔نا اہل حکمران اس تشددکی فضا کو کم کرنے اور قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد کرانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔ موجودہ حکمرانوں کے18ماہ کے دور حکومت میں خواتین پر تشدد کے 8ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔ حکمرانوں نے کئی بل اور قوانین اسمبلیوں میں پاس کئے لیکن اس کے باوجود ملک بھر اور خاص طور پر پنجاب میں خواتین پر تشدد میں مسلسل اضافے پر ساری قوم پریشان ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور مظالم انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔8مارچ نہ صرف خواتین کی کامیابیوں کو منانے کا دن ہے بلکہ ان کے خلاف روامنفی سلوک اور رویوں کے خلاف عمل پیرا ہونے کا عہد بھی ہے۔بڑھتی ہوئی انتہا پسندی،لاقانونیت،مہنگائی،بے روزگاری اور معاشی بد حالی نے خواتین کی حیثیت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔تشویش کی بات ہے کہ گذشتہ سالوں کی نسبت خواتین پر تشد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومتی گڈ گورننس کے دعوئوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پنجاب میں ایک سال میں خواتین کے اغوا کے 1900 ،قتل کے 1100،عصمت دری کے 900،خودکشی کے 550،ونی اور کاروکاری کے200سے زائد واقعات ہوئے لیکن نام نہاد وزیر اعلیٰ پنجاب حقائق سے بے خبر سب اچھا ہے کا را گ الاپ رہے ہیں ۔ اگر حکمران خواتین کی حالت بدلنے میں سنجیدہ ہوتے تو قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرواتے لیکن حکمرانوں کو میٹرو بس اور لیپ ٹاپ کے منصوبوں سے فرصت ملے تو وہ ان حساس اور اہم معامالات پر توجہ دیں ۔حکمرانوں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک ہزار سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں ۔گذشتہ 13برس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 57ہزا سے زائد شہریوں کا جانی نقصان ہواجبکہ اسی عرصے میں زیادتی،تشدداور قتل کے واقعات میں 80ہزار خواتین اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔حکمران عیاشیاں ختم کرتے ہیں نہ مشکوک دولت کے مالکوں کی فراونیاں ہی تھمنے کا نام لیتی ہیں ۔عورت کو حقوق دینے کا واویلا مچانے والوںکو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام نے عورت کو چودہ صدیاں قبل ممبر پارلیمنٹ بنایا جبکہ مغرب نے 1929میں عورت کو ووٹ کا حق دیا۔مادر پدر آزادی کو حقوق کا نام دینا کسی طور پر درست عمل نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے66سال بعد بھی قرآن سے شادی،کاروکاری اور مختلف شکلوں میں عورت کا استحصال اس لئے جاری ہے کہ ہم نے اپنی اصل اقدار سے منہ موڑ لیا ہے۔ فرائض سے پہلو تہی کرنے والے مخصوص ذہنوں نے عورتوں کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے ۔خواتین کے حقوق کا اصل دشمن موجودہ استحصالی اور فرسودہ نظام سیاست و اقتدار ہے۔

Womens

Womens

اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک اچھوتا اور مقدس رشتہ عطا کیا ہے تاکہ عورت معاشرے میں تخریب کی بجائے تعمیر واصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکے ۔عورت کو چاہیے کہ شر م وحیاء کا پیکر بن کر تعلیمی ، معاشی ، اقتصادی اور معاشر تی میدان میں مردوں کا ہاتھ بٹائے تاکہ معاشرے کی ترقی میں فعال کردارادا کرسکے ۔معاشرے میں خواتین کے تقدس کی بحالی کیلئے مؤثر اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ پردہ عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیںبلکہ اس کے تحفظ اور اعتمادکا ذریعہ ہے۔خواتین کو معاشرے میںگوناں گوں مسائل کا سامنا ہے ۔حجاب عورت کی عزت وعصمت کامحافظ ہے ۔ عورت کو نازیبا انداز میں اشتہاری مہم کا حصہ بنانا انتہائی شرمناک فعل ہے۔اسلام نے عورت کو مرد کے برابرحقو ق دیے ہیں جبکہ معاشرے میں عورت کو کم تر سمجھاجاتاہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیںوہ قابل تحسین ہیں ۔ عورت اگر چاہے تو معاشرے میں ایک قابل قدر مقام حاصل کر سکتی ہے ۔یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے وجود سے تصویر کا ئنات میں رنگ بھر دے یا پھر اس کو تاریک کردے ۔آج جہا ں عورت نے ترقی کی منازل طے کی ہیں،وہاں اس کے وجودنے سیاہیاں بھی پھیلائی ہیں۔ معاشرے میں خواتین اپنے آپ کو جدت پسند تو ظاہر کرتی ہیںمگر اکثریت کا عمل اسلام سے متصادم ہے۔چادر اور چار دیواری کاتقدس مجروح کئے بغیر عورت کامیابی کی تمام منازل طے کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جتنے حقو ق دیے ہیں اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے ۔ اسلامی حدود و قیود میں عورت کو اس کی اصل شناخت دلائی جائے نہ کہ نام نہاد جدت پسندی کو فروغ دے کر عورت کی عزت وعصمت کو پامال کیا جائے۔

تحریر: قرة العین ملک