yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرارخانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار
    • فرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطلفرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطل
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطلفرانس میں 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد عدالتوں میں تیزی، لیکن بیشتر سزائیں معطل
    • بوبینی حراست گاہ میں نابالغوں کی حالت زار پر وکلاء کی سخت تنقید، پراسیکیوٹر نے تسلیم کی ناکامیبوبینی حراست گاہ میں نابالغوں کی حالت زار پر وکلاء کی سخت تنقید، پراسیکیوٹر نے تسلیم کی ناکامی
    شوبز
    • امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرلامرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل
    • ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورکٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک
    مقامی خبریں
    • خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرارخانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار
    • سعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے لازمی ویکسی نیشن کی مہلت میں ایک ماہ کی توسیعسعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے لازمی ویکسی نیشن کی مہلت میں ایک ماہ کی توسیع
    کاروبار
    • پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقررپنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر
    • پاکستانی فری لانسرز کی تاریخی کامیابی: ستمبر میں 197 ملین ڈالر کی ریکارڈ زرمبادلہ کمائیپاکستانی فری لانسرز کی تاریخی کامیابی: ستمبر میں 197 ملین ڈالر کی ریکارڈ زرمبادلہ کمائی
    کھیل
    • عرفات منہاس نے ون ڈے میں نصف سنچری اور پانچ وکٹیں لے کر شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی فہرست میں جگہ بنا لیعرفات منہاس نے ون ڈے میں نصف سنچری اور پانچ وکٹیں لے کر شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کی فہرست میں جگہ بنا لی
    • بیلی لاک نین ایک صدی بعد برطانیہ کے سب سے کم عمر چیمپئن جاکی قرار پائےبیلی لاک نین ایک صدی بعد برطانیہ کے سب سے کم عمر چیمپئن جاکی قرار پائے
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

معرکہ کارگل اور حکمرانوں کا معذرتانہ رویہ

Yes 1 Webmaster February 7, 2015 1 min read
Mir Afsar Aman
Share this:
 Kargil Conflict
Kargil Conflict

تحریر: میر افسر امان

پاکستان میں معرکہ کارگل پر بڑی لے دے ہوتی رہی ہے۔نواز شریف صاحب فرماتے ہیں کہ ان کو اِس کا علم نہیں تھا۔مشرف صاحب نے یہ معرکہ خود ہی لڑا۔میں اس کے خلاف تحقیقات کروائوں گا۔اس سے ملک بدنام ہوا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک معمولی سے سوچ رکھنے والا پاکستانی شہری سوچتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کا ملک کے سربراہ کو علم نہ ہو۔ مشرف صاحب تو کہتے ہیں نواز شریف صاحب کو اس کا علم تھا۔جانے اندر کی بات کیا ہے ۔اگر لوگوں کو یاد ہو کہ کارگل معرکہ کچھ مدت قبل نواز شریف صاحب گلگت گئے تھے۔ فوجیوں کے ساتھ ان کا فوٹو بھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر آیا تھا۔ دورے کی خبریں بھی میڈیا میں آئیں تھیں۔یہ تو جاننے والوں کے علم میں تھا کہ معرکہ کارگل سے تقریباً ٢ سال پہلے شمالی علاقہ جات میں نادرن لائٹ انفنٹری قائم کی گئی تھی۔

اس کے انچارج مشر ف صاحب تھے۔ ظاہر ہے دفاعی نقطہ نظر سے ،فوج نے کچھ سوچ کر ہی لائٹ انفنٹری قائم کی تھی ۔ یہ سوچ بھی سامنے ہو گی کہ اس سے نوجوانوں کو روزگار ملے اور اس علاقعے کا دفاع بھی مستحکم کیا جائے گا۔ اُس وقت وہاں کے لوگوں نے سراہا بھی تھا۔ کیونکہ شمالی علاقہ جات میں شعیہ سنی اختلاف کا بھی مسئلہ تھا ۔ نوجوانوں کو نوکریاں ملیں تو کچھ حد تک مسئلہ دب گیا تھا اور لوگ کاموں میں لگ گئے تھے۔ ظاہر ہے فوج اپنی پلائنگ کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔ اس کا کام ہی ملک کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ فوج کو اس بات کا ادراک بھی ضرور تھاکارگل سیاچین کے راستے میں بھارت کی کوئی قابل ذکر چوکیاں بھی نہیں ہیں۔ بھارت نے سیاچین میں٣٢ ہزار کے قریب فوج بھی لگائی ہوئی ہے۔

یہ بھی فوج کے علم میں تھا کہ معاہدہ شملہ کے بعد کچھ اہم چوٹیوں پر بھار ی فوجوں نے جارحانہ طور پر قبضہ بھی کیا ہے جو شملہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ معاہدے میں جنگ بندی لین کو لائن آف کنٹرول بھی قرار دیا گیا تھا اور یہ بھی طے تھا کہ اس کنٹرول لین کو ہردو فریق کراس نہیں کریں گے۔ مگر بھارت نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا اور علاقے کی کچھ اہم چوٹیوں قبضہ کر لیا۔ اور اگر پاک فوج بھی آگے بڑھ کر کارگل سیا چین شاہراہ پر قبضہ کر لے توبھارتی فوج سے اپنی اہم چوٹیاں بھی خالی کروائی جا سکتی ہیں۔ اور بھارتی فوج کی رسد بھی بند کرکے اس کی ٣٢ ہزار فوج کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔

مشرقی پاکستان کا بدلہ بھی چکایا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی بھارت نے سیاہ چین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ بھارت تو جارحانہ طرز عمل اختیار کر کے کشمیر پر قبضہ کر لے۔ اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے سیاہ چین پر قبضہ کرے۔ پھر مذید آگے بڑھ کر علاقے کی اونچی چوٹیوں پر بھی قبضہ کر لے ۔پھر بھی پاکستان بین اقوامی طور پر اس کی گرفت نہ کرے ۔کشمیر بین القوامی طور پر مانا ہوا متنازہ علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے بارے میں متفقہ طور پر مانے جانے والی قراردادیں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے مبصر کشمیر کی دونوں اطراف میں موجود ہیں۔ کشمیر پر ہماری کمزور پالیسی کا یہ عالم تھا کہ سیاہ چین پر بھارت کے قبضہ کے موقعے پر بین ا قوامی طور پر بھر پور احتجاج کرنے ،اقوام متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کروانے، اس کا فالواپ کرنے کے بجائے ہمارے سابق جنرل ضیا کا بیان اخبارات کی زینت بنا تھا کہ سیاہ چین پر تو گھاس بھی نہیں اُگھتی۔

یعنی سیاہ چین پاکستان کے لیے غیر اہم جگہ ہے۔ قوم سابق جنرل کو کیسے بتاتی کہ جنرل صاحب سیاہ چین کے گلیشئرز کے پانیوں سے تو پاکستان کے میدانوں میں گھاس اُگھتی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اناج بھی پیدا ہوتا ہے ۔ ہماری کھتیاں بھی ہری بھری ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں ہر دور میں ہماری خارجہ پالیسی کی ناکام رہی ہے۔بھارت سے ہمارے حکمرانوں کے ڈر کا یہ عالم ہے کہ جب کشمیر میں جاری جنگ آزادی زوروں پر تھی۔ایک میٹنگ میں ایک دفاعی عہدہ دار کشمیر پر بریفنگ دے رہا تھا۔ جس میں بے نظیر صاحبہ اور سابق جنرل گل حمید صاحب موجود تھے۔جب جنرل حمید گل نے دفا عی عہدہ دار سے سوال کیا کہ اب اس سے آگے کیا ہو گا؟ تو بے نظیر صاحبہ نے دفاعی عہدہ دار سے کہا آپ ٹھریں۔

جنرل صاحب کو میں جواب دیتی ہوں۔ بے نظیر صاحبہ نے کہ پاک بھارت جنگ ہو گی۔تو کیا کشمیر میں اتنی بڑی مزاہمت شروع کر کے پھر جنگ کے بغیر ہی کشمیر پاکستان کو مل جائے گا۔نہیں نہیں مزاہمت شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ کے متعلق پلائنگ کرنی تھی۔ گوریلہ جنگ میں تو دشمن کو مفلوج کرنا ہوتا ہے علاقوں پر تو فوجیں ہی قبضے کرتی ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہییے کہ بھارت آپ کی شہ رگ پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ وہ پاکستان کو بوندھ بوندھ پانی کے لیے ترسا ترسا کر مارے گا۔ا یسا مرنے کی بجائے ہم کو بہادری سے بھارت کا مقابلہ کرنا چاہییے۔ ہمارے حکمرانوں کو جنگ کا خوف دل سے نکال دینا چاہیے۔ کیا اس سے قبل بھارت نے ١٩٤٧،١٩٦٥ اور ١٩٧١ کی جنگیں پاکستان پر مسلط نہیں کی تھیں۔ کیا ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ جنگ سے ڈرتے ہیں؟ بھارت تو جنگ کر کے آپ سے کشمیر چھین

لے،سیاہ چین اور اونچی چوٹیوں چھین لے، مشرقی پاکستان چھین کر بنگلہ دیش بنا دے ۔ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کرتا رہے۔ آپ اپنی شہ رگ پر قابض بھارت سے جنگ سے گریز کر کے کیسے کشمیر حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ایک ایٹمی طاقت کے ملک کے شایان نشان ایسی معذرتانہ خارجہ پالیسی صحیح ہے۔ اسی تناظرمیں میں عوام کو یاد ہو گا کہ حزب ا لمجائدین کے سربراہ اور کشمیر کی تمام جہادی تنظیموں کے سپریم کمانڈرسید صلاح الدین کا اخبارات میں بیان بھی آیا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے مقتدر حلقوں سے ملاقات کر کے ان پر واضع کر دیا ہے

فرض کریں کہ اگر بھارت نے مشرقی پاکستان کے حالت ١٠٠ فی صد خراب کر کے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا ۔ ہمارے فوجیوں کوقیدی بنا لیا تھا۔ تو ہم کشمیریوں نے کشمیر کے اندر ٢٠٠ فی صد حالات خراب کر دیے ہیں پاک فوج آگے بڑھ کر کشمیر پر قبضہ کر لے۔ حالت بل کل پاک فوج کے حق میں ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت نے بھی مشرقی پاکستان میں فوجیں داخل کی تھیں۔ ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری نظر میں اگر مشرف صاحب نے بھی کچھ جارہانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے کارگل سیاچین شاہراہ پر قبضہ کر کے بھارت کی ٣٢ ہزار فوج کو گھیر لینے کی حکمت عملی پر کام کیا تو اس پر اس کی ایسی گرفت نہیں ہونی چاہییے تھی۔

جیسی میڈیا کے اندر کر اپنے کمانڈر کو بدنام کیا گیا تھا۔گرفت کرنے کی بجائے کسی اور طریقے سے ڈیل کیا جا سکتا تھا۔ویسے بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک منظم فوج کا سربراہ کسی ساتھی کو بتائے بغیر دشمن سے جنگ چھیڑ دے۔اس میں لاک آف کیمنوکیشن کی غلطی کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی عقل نہیں مانتی کہ ملک کے سربراہ کو اتنے بڑے معرکے کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔اس مفروضے کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم کچھ حقائق پر گفتگو کرتے ہیں۔ہمارے ملک کی دفاعی پایسی ترتیب دینے والوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ جب کسی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے یا اس سے جنگ چھڑی جاتی ہے تو دشمن ملک کی کسی بھی کمزوری سے ضرور فائدہ اُٹھاتا ہے۔

اگر ہمارے مقتدر حلقوںنے کشمیر کے اندر آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی مدد کی پالیسی ترتیب دی تھی تو اس بات پر ضرور سوچا ہو گا کہ اس سے بھر پور جنگ چھڑ سکتی ہے۔اور کیا ایسی صورت میں پاکستان اس کے لیے تیارہے؟یہی وجہ ہے کہ معرکہ کارگل بر پاہ ہونے پر بھارت نے پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ جس کی امریکا نے پاکستان کو اطلاح دی تھی اور ہمارے حکمران پریشان ہو کرامریکابھاگے۔ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ یہ ہمارے جنرل کی ذاتی غلطی ہے

وغیرہ وغیرہ۔ پھراپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے کشمیری مجائدین کو چن چن کر بھارتی فوجیوں نے مارا۔ جنگ بندی نہ ماننے والے مجائدین کو ہم نے بھی مارا۔ یہ بزدلی تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کر کے ایک ایٹمی قوت کے ملک کے شیان شان خارجہ پالیسی ترتیب دینی چاہییے۔ بھارت پر واضع کر دینا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو اپنی آزاد رائے حق خود ارادیت کے تحت اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔ ورنہ نتائج کے تیار ہو جائے، چاہے اس کے لیے ایک پھر پور جنگ ہی کیوں نہ ہو۔اللہ پاکستان کا محافط ہو۔آمین

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر: میر افسر امان
کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان(سی سی پی)
mirafsaraman@gmail.com

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
M R Malik
Previous Post ایک وفادار ورکر میاں محمد یٰسین آزاد کی داستان الم
Next Post لوگ کیا کہیں گے
Petrol

Related Posts

امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل

امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں سارہ علی خان کی زیارت کا جذباتی لمحہ وائرل

October 22, 2026
ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک

ٹائیگر شروف پر حملے کی مبینہ سازش، رنبیر کپور کے گھر کی ریکی اور بشنوئی گینگ کا اسلحہ نیٹ ورک

October 22, 2026
پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر

پنجاب کا سعودی عرب کو 1.8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر

October 22, 2026
خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار

خانپور میں مبینہ پولیس مقابلہ، دوہرے قتل کا ملزم ہلاک، ساتھی فرار

October 22, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.