yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • بووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاریبووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاری
    • فرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہفرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہ
    بین الاقوامی خبریں
    • بووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاریبووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاری
    • فرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہفرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہ
    شوبز
    • برجٹن کائنات میں نیا اسپن آف: نوجوان وائلٹ برجٹن کی رومانوی کہانی پر محدود سیریز کا اعلانبرجٹن کائنات میں نیا اسپن آف: نوجوان وائلٹ برجٹن کی رومانوی کہانی پر محدود سیریز کا اعلان
    • فیصل قریشی کا والدین سے مطالبہ، شادی کے بعد بیٹی کو تنہا نہ چھوڑیںفیصل قریشی کا والدین سے مطالبہ، شادی کے بعد بیٹی کو تنہا نہ چھوڑیں
    مقامی خبریں
    • ایمان مزاری اور ہادی چٹھا کی عدم پیشی پر انسداد دہشت گردی عدالت کا جیل حکام سے تحریری جواب طلبایمان مزاری اور ہادی چٹھا کی عدم پیشی پر انسداد دہشت گردی عدالت کا جیل حکام سے تحریری جواب طلب
    • اسلام آباد ہائی کورٹ کا پیسکو کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ، لُبابہ کے علاج اور مصنوعی اعضاء کا تمام خرچ کمپنی ادا کرے گیاسلام آباد ہائی کورٹ کا پیسکو کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ، لُبابہ کے علاج اور مصنوعی اعضاء کا تمام خرچ کمپنی ادا کرے گی
    کاروبار
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ برقرار، کے ایس ای 100 انڈیکس 1,066 پوائنٹس کی کمی سے 166,789 پر بندپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ برقرار، کے ایس ای 100 انڈیکس 1,066 پوائنٹس کی کمی سے 166,789 پر بند
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 168 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے کے قریبپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 168 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے کے قریب
    کھیل
    • جنوبی افریقہ کے پیٹر کوٹزے نے 50 میٹر بیک اسٹروک کا شارٹ کورس عالمی ریکارڈ توڑ دیاجنوبی افریقہ کے پیٹر کوٹزے نے 50 میٹر بیک اسٹروک کا شارٹ کورس عالمی ریکارڈ توڑ دیا
    • راولپنڈی میں پاکستان کی سری لنکا کے خلاف چار وکٹوں سے شاندار فتحراولپنڈی میں پاکستان کی سری لنکا کے خلاف چار وکٹوں سے شاندار فتح
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

اور اب پاکستانی گدھے بھی۔۔۔

Yes 1 Webmaster February 6, 2015February 6, 2015 1 min read
ACCUSED WITH SLAUGHTER DONKEY
Share this:
ACCUSED WITH SLAUGHTER DONKEY
ACCUSED WITH SLAUGHTER DONKEY

تحریر : عقیل احمد خان لودھی
ان دنوں وطن عزیز میں انسانوں کے بعد دوسری متاثر ترین مخلوق جو سامنے آئی ہے وہ گدھے ہیں ۔گدھوں کاصدیوں سے قابل رحم مخلوق میں شمار ہوتا چلا آرہا ہے ۔ پاکستان میں گدھوں کے قتل عام کے بعد عام انسان اور گدھے مظلومیت اور بے چارگی کے حوالہ سے ایک ہی صف میں آکھڑے ہوئے ہیں۔ گوکہ انسانوں کے قتل عام بارے قوانین بھی موجود ہیں مگر عام انسانوں کیلئے یہ قوانین اسی طرح بے اثر ہیں جس طرح کہ گدھوں کیلئے کسی قانون کا نہ ہونا ہے گدھے اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کا انصاف کے حصول کیلئے تھانہ کچہریوں میں وقت اور انرجی ضائع نہیں ہورہے مگر اب جبکہ ملک میں کراچی سے خیبر پختونخواہ تک ملک کا کوئی ایسا کونہ بچتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کہ جہاں گدھوں کا قتل عام نہ ہورہا ہو، اس پر گدھوں کو خود سے اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا گدھے کوئی یونین بنا لیں یا الگ سے خطہ ارضی کا ہی مطالبہ کر دیں کہ جہاں صرف گدھے رہیں اور کسی انسان کا خاص طور پر اس خطہ سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہو،مگرشاید گدھوں کے کسی بھی مطالبہ یا اقدامات کوسنجیدگی سے نہ لیا جائے کیونکہ خطہ پاک وہند میںکسی کو ” یہ تو ہے ہی گدھا ”کہہ کر بے حیثیت کردیا جاتا ہے۔

یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے گدھوں کے قتل عام کے بعد ایسے افرادکو اس لقب سے جان کا خوف محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں گدھوں کے دھوکہ میں انہیں بھی حقیقی گدھوں جیسے سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے کوئی ان کی کھال یا گوشت فروخت کرنے کی غرض سے ان کی چیڑ پھاڑ نہ کرجائے ایسے افراد نے اپنے تئیں خود کو گدھا کہنے والوں کیخلاف قانونی چارہ جوئی بارے سوچنا شروع کر دیا ہے۔دنیا کے بااثر ترین ممالک میں گدھوںکو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور آج خود کو دنیا کا ٹھیکیدار سمجھنے والے امریکہ کی برسر اقتدار جماعت گدھا پارٹی ہے کہ ان کا انتخابی نشان ” گدھا ” تھا اور اوباما صدر امریکہ اپنے گدھا ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہوں گے مگر ان میں گدھوں والی کوئی ایک بھی نشانی نہیں ہے کہ انہیں احمق یا نادان کہا جاسکے یا قابل رحم تصور کیا جائے۔

ہاں البتہ گدھے کے لبادہ میں بھیڑیئے یا لومڑی سے انہیں تشبیہہ ضرور دی جاسکتی ہے کہ اپنے اقتدار اور معاشی وسائل کی خاطر امریکی گدھے دنیا بھر بالخصوص مسلمان ممالک کی عوام اور معیشت کے بڑے دشمن ہیں اور شاید دنیا میں یہ واحد گدھے ہیں جنہوں نے معصوم اور بے ضرر ہونے کابہروپ دھار رکھا ہے۔ بہر کیف۔۔ آج کا موضوع پاکستانی گدھوں پر ہے اس لئے اپنی بات کو پاکستان تک سمیٹتے ہوئے چند دنوں کے قومی اخبارات میں آنے والی سرخیوں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں سے گدھوں کے گوشت اور کھالوں کا کام کرنے والوں پر بحث کرتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا زمینداروں اور غریب محنت کشوں کے گدھے آزادانہ فضائوں میں گھوما پھرا کرتے اور شام تک خود ہی چر کر واپس آجایا کرتے تھے اس دورانیہ میں کسی مجرم کو نمایاں کرنے اور اسے شرمندگی کا احساس دلانے کیلئے اس کا منہ کالا کیا جاتا تو یہ گدھے مجرم کی سواری کیلئے استعمال ہوا کرتے تھے ایسے افراد کا منہ کالا کرکے گائوں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھما دیا جاتا تو یہ واقعہ مجرمان کیلئے عبرتناک بن جایا کرتا۔

ان دنوں ملک میں انسانوں کے روپ میں گدھوں کی چیڑ پھاڑ کرنے والے درندے دندناتے پھر رہے ہیں جو محنت کشوںاورزمینداروں کے گدھوں کے جانی دشمن ہیں۔ہر دوسرامحنت کش اور زمیندار اپنے گدھے کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے اگر کسی کا گدھا گم نہیں ہوا تو اس کے گدھے کو کوئی پراسرار بیماری آلیتی ہے اور پھر گم شدہ گدھوں کی باقیات قریب کی فصلوں سے مل جاتی ہیں اسی طرح مرے ہوئے گدھے کو قریبی کھالے یا کھیت میں پھینکنے پر اگلے ہی روز اس گدھے کی کھال اور گوشت غائب ہوتا ہے فقط ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے جو جانوروں اور چیلوں کووں کی طرف سے صفائی کے اگلے دنوں میں غائب ہوجاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں گدھوں کی اس طرح پراسرار ہلاکت پر شہری سخت ترین خوف کا شکار ہونے لگے پھر چند ایک گروہوں کے پکڑے جانے پر ان کی خوب دھنائی کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کرنے پر معلوم ہوا کہ گدھوں کی کھالوں کا ان دنوں کاروبار کیا جارہا ہے گدھے چوری کرنے کے علاوہ شہریوں کے گدھوں کو زہریلی اشیاء کھلادی جاتی ہیں یا ادھر ادھر چرتے ہوئے انہیں زہر کے ٹیکے لگادیئے جاتے ہیں اور گدھا مرنے تک قریبی علاقوں میں ریکی کی جاتی ہے۔

یہ خبریں بھی آئیں کہ چائینہ جیسے ملک میں گدھوں کی کھالیں سپلائی کر کے فی کھال 10 ہزار روپے تک وصول کیا جارہا ہے اور گدھوں کا گوشت قریبی ہوٹلوں اور قصابوں کو فروخت کردیا جاتا ہے قصاب حضرات بکروں اور بچھڑوں کے گوشت کی بوٹیوں میں ملا کر دو من گوشت کیساتھ ایک من گدھے کا گوشت بھی فروخت کر کے کمائی کرلیتے ہیں اس طرح حلال خریدنے /کھانے کی غرض سے آنے والے شہر یوں کو زبردستی حرام خور بنایا جا رہا ہے بیچارے گدھے ذبح ہوتے وقت کیا سوچتے ہوں گے ؟اس بے زبان مخلوق کو مسلم ریاست میں ایسی موت سے استثنیٰ حاصل تھا کہ گوشت کھانے کیلئے اور ذبیحوںکا چمڑا ستعمال کرنے کیلئے حلال جانوروافر مقدار میں موجود ہیںمگر ہوس اور دولت کے پجاریوں، درندوں سے بدتر، غلیظ لوگوں نے اپنے لالچ کی خاطر گدھوں کو ذبح کرنے کا مکروہ دھندہ شروع کررکھا ہے۔ لعنت ہے ایسے عاقبت نااندیشوں پر، انہیں انسان کہتے ہوئے بھی گھن آتی ہے ۔ پکڑے جانے والے بے ضمیر اور بے غیرت افراد کی شکلوں پرصاف بے حسی چھائی ہوتی ہے ، ایسے افراد کی شکلیں دیکھ کر عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے یقین مانیں کسی بھی طرح ان سیاستدانوں سے کم نہیں لگتے جو انسانوں کا بیوپار کرتے، قسمتوں سے کھیلتے،جھوٹ اور دھاندلی سے اقتدار میں آکر دیانتداری کا جبہ اوپر چڑھا لیتے ہیں۔ گدھوں کے اس طرح مارے جانے کے بعد غریب محنت کشوں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے ریڑھی بان پریشان ہیں کہ وہ کس طرح ہر وقت اپنے گدھوں کی حفاظت کریں۔

دولتمند حضرات اور بڑی بڑی گاڑیوں کے مالکان تو اپنی گاڑیوں کی حفاظت کیلئے ٹریکر سسٹم وغیرہ لگوا لیتے ہیں مگر بے چارے غریب محنت کش کیا کریں کہ گدھوں کیلئے ایسی کوئی سستی ٹیکنالوجی سامنے نہیں آئی جن سے ان کی حفاظت کو ممکن بنایا جاسکے۔اﷲ تعالیٰ نے ان جانوروں گھوڑوں، گدھوں، خچروں کو باربرداری اور سواری کیلئے مخصوصکردیا ہے جبکہ یہاں ان کو بے غیرت بے ضمیر درندوں نے معمولی لالچ کی خاطر قتل کرنا شروع کررکھا ہے عام آدمی کا تو پہلے ہی یہاں کوئی مستقبل نہیں تھا اب گدھوں کا مستقبل بھی مخدوش ہوا جاتا ہے ۔صورتحال سے بچنے اور گدھوں کو معدومیت سے بچانے کیلئے گدھے چوری کرنے والوں، ان کا گوشت بنانے والوں اور کھالوں کا دھندہ کرنے والوں دہشت گردوں کے ہم پلہ افراد کیخلاف سخت ترین قوانین فوری بنائے جائیں کہ اس بے زبان مخلوق کو بے رحمی کا شکار بنانے والوں کیساتھ بے رحمی کیساتھ پیش آیا جائے اور ان کیساتھ کسی بھی قسم کی رو رعایت نہ برتی جائے۔

Aqeel Ahmed Khan
Aqeel Ahmed Khan

تحریر : عقیل احمد خان لودھی
0334-4499404

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Dum Laga Ke Haisha
Previous Post بالی ووڈ مزاحیہ فلم دم لگا کے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا
Next Post سوالیہ نشان (؟)
Petrol Shortage

Related Posts

بووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاری

بووے میں ایمازون کے نئے گودام سے 1000 ملازمتیں پیدا، کام کے حالات پر بحث بدستور جاری

October 11, 2026
فرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہ

فرانس میں A69 ہائی وے کے خلاف ماحول دوست کارکن تھامس بریل کا قومی بائیکاٹ کا مطالبہ

October 11, 2026
فرانس میں تعلیمی احتجاج کے باعث مڈل اسکول طلبہ کی کلاسز معطل، والدین اور طلبہ میں یکجہتی اور تشویش

فرانس میں تعلیمی احتجاج کے باعث مڈل اسکول طلبہ کی کلاسز معطل، والدین اور طلبہ میں یکجہتی اور تشویش

October 11, 2026
فرانس میں پولیس کی خفیہ دراندازی کی ناکام کوشش سوشل میڈیا پر وائرل میم بن گئی

فرانس میں پولیس کی خفیہ دراندازی کی ناکام کوشش سوشل میڈیا پر وائرل میم بن گئی

October 11, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.