yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگاسندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگا
    • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاکشمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانس میں طلبہ احتجاج پرتشدد، اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور پولیس سے جھڑپیںفرانس میں طلبہ احتجاج پرتشدد، اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور پولیس سے جھڑپیں
    • کراماتورسک میں روسی گلیڈ بم حملہ، دو بسوں پر گرنے سے 30 افراد ہلاککراماتورسک میں روسی گلیڈ بم حملہ، دو بسوں پر گرنے سے 30 افراد ہلاک
    شوبز
    • پیرس کنسرٹ کے دوران سلیں ڈیون گر پڑیں اور گانے کے بول بھول گئیںپیرس کنسرٹ کے دوران سلیں ڈیون گر پڑیں اور گانے کے بول بھول گئیں
    • شان شاہد کا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر کڑا سوال: کیا سوشل میڈیا کی شہرت ہنر کی جگہ لے سکتی ہے؟شان شاہد کا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر کڑا سوال: کیا سوشل میڈیا کی شہرت ہنر کی جگہ لے سکتی ہے؟
    مقامی خبریں
    • سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگاسندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگا
    • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاکشمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک
    کاروبار
    • کراچی سے یورپ کے بڑے بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ سروس بحال، برآمد کنندگان کو راحتکراچی سے یورپ کے بڑے بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ سروس بحال، برآمد کنندگان کو راحت
    • خلیج اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہخلیج اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
    کھیل
    • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل دھننجایا ڈی سلوا نے سری لنکا کی کپتانی چھوڑ دیپاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل دھننجایا ڈی سلوا نے سری لنکا کی کپتانی چھوڑ دی
    • بریورز نے پیڈریز کو 3-1 سے ہرا کر NLCS میں ڈوجرز کے خلاف رسائی حاصل کر لیبریورز نے پیڈریز کو 3-1 سے ہرا کر NLCS میں ڈوجرز کے خلاف رسائی حاصل کر لی
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

انقلاب، قبضہ گروپ اور پاکستانی سیاستدان

Yes 1 Webmaster February 2, 2015 1 min read
Freedom
Share this:

Revolution, captures group Pakistani politician, Ghulam Murtaza Bajwa, philosophy, USA

Freedom
Freedom

تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ
تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ آزاد خیالی اس سیاسی فلسفے کا نام ہے جو شخصی آزادی، جمہوری نظام حکومت، اور آزادی تجارت، کا پرچار کرے۔ آزادی خیالی کی تحریک اٹھارویں اور 19 ویں صدی کی پیداوار ہے۔ جبکہ درمیانے طبقے کے لوگوں نے جاگیرداری اور مطلق العنانی کے خلاف جدوجہد کی۔ انقلاب امریکا،اور انقلاب فرانس اسی کی پیداوار ہے۔ سب سے پہلے آزاد خیالی کا لفظ اہل سپین نے استعمال کیا۔ اور اسی طرح سب سے پہلے آزاد خیال سیاسی جماعت بھی وہیں منظم ہوئی۔ معاشی اعتبار سے آزاد خیالی سے مراد یہ ہے کہ آزاد تجارت، ذاتی ملکیت اور بلا روک ٹوک درآمداور برآمدکی اجازت ہے۔

پاکستان ایک کثیر سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے۔ یہاں ہر سیاسی جماعت کو ایک دوسرے سے ملکر کام کرنا پڑتا ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی، لیکن یہ بھی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو اکیلے ہی حکومت سازی کر سکے بلکہ صرف مخلوط حکومت ہی ممکن ہے۔اگرذکرکیاجائے سیاسی جماعتوں کا اس وقت تقربیاًتین سوکے قریب ہیں۔جن میںسے چند جماعتوں کے کارکن سدابہار حکومت کے مزے لیتے ہیں۔ان میں آل پاکستان مسلم لیگ،انصاف و ترقی پارٹی پاکستان،بلوچستان نیشنل پارٹی،بلوچ نیشنل موومنٹ،پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز،پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)،پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ)،پاکستان جمہوری پارٹی،پاکستان سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی،پاکستان عوامی تحریک،پاکستان تحریک انصاف،پاکستان سنی تحریک،پاکستان کرسچین کانگریس،پاکستان مسلم لیگ (ج) (جونیجو)،پاکستان مسلم لیگ (ض) (ضیاء الحق)،پاکستان مسلم لیگ (ف) (فنکشنل ـ پیر پگاڑا)،پاکستان مسلم لیگ (ق) (قائد اعظم)،پاکستان مسلم لیگ (ن) (نواز شریف)،پاکستان مسلم لیگ (ہم خیال)،پختونخوا ملی عوامی پارٹی،تحریک استقلال،جماعت اسلامی پاکستان،جمعیت اہلحدیث پاکستان،جمعیت علمائے اسلام س (مولانا سمیع الحق)،جمعیت علمائے اسلام ف (مولانا فضل الرحمن)،جمعیت علمائے پاکستان، نورانی (مولانا نورانی)،جمعیت علمائے پاکستان، نیازی (مولانا نیازی)،جموں کشمیر پیپلز پارٹی،جمہوری وطن پارٹی،جنت پاکستان پارٹی،جئے سندھ قومی محاذ،خاکسار تحریک،سندھ جمہوری اتحاد،سندھ نیشنل پارٹی،سنی اتحاد کونسل،عالمی ضمیر فروش پارٹی،عوامی تحریک (پلیجو)،عوامی لیگ،عوامی مسلم لیگ،عوامی نیشنل پارٹی،کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان،کیمونسٹ مزدور کسان پارٹی،گرین پارٹی آف پاکستان،لیبر پارٹی پاکستان،متحدہ قومی موومنٹ،مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی)،ملت پارٹی،نیشنل پارٹی (پاکستان)،نیشنل پیپلز پارٹی،وفاقی قومی تحریک،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ودیگر شامل ہیں۔

اسلامی اقتصادی نظام دراصل اقتصاد کا ایک مکمل اقتصادی نظام ہے، جس کی بنیاد قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ سرمایہ داری نظام ، اشتراکیت اور اشتمالیت سے الگ ایک مکمل اقتصادی نظام ہے۔ اس نظام میں باقی نظاموں کی کوئی خامی نہیں۔ اسلامی اقتصادی نظام سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت وغیرہ سے یکسر مختلف ہے۔ اسلامی معاشی نظام کو مختصراَ یوں بیان کیا جا سکتا ہیں کہ اس نظام کا ”دل ”تجارت ہے۔ لہٰذا اسلامی اقتصادی نظام میں”زر”یعنی پیسہ حقیقی دولت پر مبنی جنس ہوتا ہے جیسے طلائی دینار اورنقرئی درہم، گندم، چاول وغیرہ۔ یہ سود، قمار، غرر سے پاک ہوتیں ہیں۔ یہ آزاد بازاروں پر مبنی ہوتی ہے جہاں پر ہر شخص اپنی تجارتی اشیاء کی فروخت کر سکتا ہے۔ جہاں تھوک فروشی تک ہر شخص کی یکساں رسائی ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا کاری گر و صنعت کار اپنا کارخانہ خود بنا سکے گا۔

ان اوقاف میں شرکت، مضاربت، مرابحہ وغیرہ کے طریقوں سے تجارت ہوتی ہے۔ وادیعہ (بینک کامتبادل) کے ذریعے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کی حسابوں میں منتقل کرے گی اور وہاں ان کی دولت امانت کے طور پر محفوظ رکھی جائے گی۔”شرعی زر”کا معیار حکومت مہیا کرتی ہے۔ ملکی خزانہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔ ان سب اداروں کی نگرانی حسب کرتی ہے۔ غریب عوام سے کوئی محصول وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ حکومت امیروں سے محصول (ٹیکس) ، زکوٰاة، عشر، خراج، جزیہ وغیرہ کی صورت میں لے کر غریبوں میں بانٹے گی۔ اسلامی اقتصادی نظام میں نجکاری کو محدود کیا جاتا ہیاور سرکاری اداروں کی نجکاری پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔دریاؤں، ڈیموں، نہروں، تیل، گیس، کوئلے، بجلی ، جنگلات، چراگاہوں وغیرہ کی نجکاری نہیں کی جا سکتیں۔روٹی، کپڑا، مکان اور پانی کی حکو مت کی جانب سے مفت فراہمی کی جائے گی۔ بیمہ کمپنیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔ لہٰذا سونے کے دینار اور چاندی کے درہم موجودہ کاغذی نوٹوں کی جگہ لے گی۔

اسلام میں دو چیزیں ہیں ایک عبادات اور دوسرا معاملات۔ دین کا تقریباً پچھتر فیصد(75%) حصہ معاملات پر مشتمل ہیں۔ تو معاملات میں اسلامی اقتصادی نظام، اسلامی سیاسی نظام، اسلامی قانونی و معاشرتی نظام وغیرہ سب شامل ہیں۔ تو اسلامی اقتصادی نظام معاملات کا ایک حصہ ہے۔لہٰذا ہمیں معاملات کو اسلامی بنانا ہے اور معاملات اسلامیہ کا عملی نفاذ ہمارا مقصد زندگی ہونا چاہئے۔
لہٰذا ‘نظام معاملات، سرمایہ دارانہ نظام، اشتراکیت اور مخلوط معیشت کا متبادل ہے۔ اس نظام کو سب سے پہلے حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم نے مدینہ منوّرہ میں نافذ کیا۔ بعد میں خلافائے راشدین نے اس کے نظام کو نافذ کیے رکھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں زکوٰة نا دینے والوں کے خلاف اعلان جنگ کیاگیا۔ اور بعد میں خلافت بنو امیہ اور عباسی خلافت میں اس کا نفاذ تھوڑے بہت کوتاہیوں کے ساتھ نافذ رہا۔ خلافت عثمانیہ میں بھی اسی نظام کو نافذ کیا گیا۔ اور 1924ء میں سقوط خلافت کے بعد اس کا نفاذ بھی ترک کر دیا گیا۔ اور 1928ء میں طلائی دینار کی اجراء کو ترک کر دیا گیا۔ لہٰذہ اس نظام کو متروک ہوتے ہوئے تقریبا ایک صدی گزر چکی ہیں۔ تا ہم دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں اس کا جزوی طور پر دوبارہ آغاز ہو چکا ہیں۔ جس میں ملایشیا، انڈونیشیا، پاکستان، افغانستان، ایران وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کا دامن ہمیشہ سے ہی صاف رہاہے کیونکہ قبضہ گروپ ہو یا کسی بھی جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو اس کا تعلق کسی نہ کسی جماعت سے ہے ۔یہ کوئی بھی ماننے کوتیارنہیں۔جس کی وجہ سے ہرروزپاکستان میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتاہے۔ جس کی آڑ میں اربوں روپے بیرون ممالک میں منتقل کرچکے ہیں۔ تجاوزات کے حوالے سے تقربیاً95فیصد سرپرستی کا الزام سیاستدانوں پر آتاہے۔چنددنوں تک سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی ایک مذہبی رہنما اور ان کے قریب دوست کی سیاسی جماعت میں شمولیت متوقع ہے۔جس کے ذرائع وہ قبضہ گروپ کیخلاف مہم شروع کرنے والے ہیں۔اب تقر یباًحالات بدل چکے ہیں۔کیونکہ انقلاب کے نام پر شروع ہونے والی تحریکوں کے سربراہوں نے پاکستانی قوم کو کئی حصوں تقسیم کردیا ہے۔اس لئے قبضہ گروپ کیخلاف شروع ہونے والی مہم میں عوام کو تو کوئی فائدہ متوقع نہیں بلکہ مہم کے بانیوں کو ایک نئے انداز میں ضرور شہریت حاصل ہوگی۔

Ghulam Murtaza Bajwa
Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Rangers
Previous Post کراچی آپریشن کا دائرہ حیدر آباد اور سکھر تک بڑھانے کا فیصلہ
Next Post کراچی : کالعدم تنظیم کے دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی
Hanging

Related Posts

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگا

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو ہوگا

October 8, 2026
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، چار کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک

October 8, 2026
اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر الزام، طالبان حکومت کو پاکستان مخالف دہشت گردی میں معاونت کا انکشاف

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر الزام، طالبان حکومت کو پاکستان مخالف دہشت گردی میں معاونت کا انکشاف

October 8, 2026
کراچی سے یورپ کے بڑے بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ سروس بحال، برآمد کنندگان کو راحت

کراچی سے یورپ کے بڑے بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ سروس بحال، برآمد کنندگان کو راحت

October 8, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.