yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • اندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینیاندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینی
    • دہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سختدہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سخت
    بین الاقوامی خبریں
    • دہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سختدہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سخت
    • حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا ذخیرہ سعودی عرب کے لیے نیا خطرہ کیوں ہے؟حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا ذخیرہ سعودی عرب کے لیے نیا خطرہ کیوں ہے؟
    شوبز
    • اندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینیاندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینی
    • ٹیسلا روڈسٹر کی نقاب کشائی: ہوا میں اڑنے والی برقی کار جس نے سب کو حیران کر دیاٹیسلا روڈسٹر کی نقاب کشائی: ہوا میں اڑنے والی برقی کار جس نے سب کو حیران کر دیا
    مقامی خبریں
    • لاہور ہائیکورٹ نے بسنت 2027 کی 10 روزہ تقریبات کے خلاف درخواست خارج کر دیلاہور ہائیکورٹ نے بسنت 2027 کی 10 روزہ تقریبات کے خلاف درخواست خارج کر دی
    • خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ 20 اکتوبر کو سماعت کرے گیخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ 20 اکتوبر کو سماعت کرے گی
    کاروبار
    • ڈالر مسلسل دباؤ کا شکار، سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اور فیڈ ریزرو کے اشاروں پرڈالر مسلسل دباؤ کا شکار، سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اور فیڈ ریزرو کے اشاروں پر
    • وزیر خزانہ کا اعلان، رواں مالی سال معاشی ترقی 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی، نجکاری سے ایک ارب ڈالر سے زائد متوقعوزیر خزانہ کا اعلان، رواں مالی سال معاشی ترقی 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی، نجکاری سے ایک ارب ڈالر سے زائد متوقع
    کھیل
    • فخر زمان کا تاریخی اعزاز، پاکستان کی شکستفخر زمان کا تاریخی اعزاز، پاکستان کی شکست
    • کوسل مینڈس کی قیادت میں سری لنکا کا پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ مکمل، دو نئے چہرے شاملکوسل مینڈس کی قیادت میں سری لنکا کا پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ مکمل، دو نئے چہرے شامل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا

Yes 1 Webmaster January 9, 2015January 9, 2015 1 min read
Journalism
Share this:
Journalism
Journalism

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
چند روز قبل میری ملاقات اپنے دوست قاسم بشیر گوندل سے ہوئی۔ ہم چونکہ دو سال کے طویل عر صہ بعد ملے تھے اس لئے ہم کئی گھنٹے تک بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ قاسم میری صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کرنے لگا اور اپنے ایک کولیگ (رائو عاطف) کے ایک صحافی دوست کا واقعہ سنانے لگا جو چند روز قبل ہی ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ آپ بھی انہی کی زبانی سنئیے۔

یہ آج سے پانچ سال پہلے کی بات ہے جب میں میٹرک کے امتحانات دے کر فارغ ہوا تو ایک دن میرا دوست شمس میرے پاس آیا اور اپنے ساتھ شہر چلنے کو کہا۔وہ اس وقت انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دے چکا تھا۔ چونکہ میں بھی رزلٹ کا منتظر تھا اور چھٹیاں ہونے کے باعث زیادہ تر وقت گھر ہی گزارتا تھا، لہذا شمس کے ساتھ ہو لیا۔ ایک گھنٹے سفر کرنے کے بعد شمس نے بائیک ایک مقامی اخبار کے دفتر کے باہر روک دی ۔ ہم دفتر کے اندر داخل ہو گئے۔ وہاں ایک صاحب پہلے سے ہی شمس کا انتظار کر رہے تھے۔شمس نے اپنی جیب سے ہزار ہزا ر کے دو نوٹ نکالے اور ان صاحب کو تھما دیئے۔ ( یہ 2005ء کی بات ہے)۔ ان صاحب نے نوٹ پکڑے اور کہا کہ اگلے ہفتے تمہارا کارڈ بن جائے گا، آ کے لے جانا۔ شمس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ ہم باہر آگئے اور شمس نے بائیک سٹارٹ کی اور مجھے بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک میں کچھ سمجھ نہیں پایا تھا کہ اس نے پیسے کیوں دئیے اور کو ن سا کارڈ بنوانا چاہ رہا ہے۔ میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ خود مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا، ”تم جانتے ہوئے میں صحافی بن گیا ہوں اور آج سے اس اخبار کے رپورٹر کی حیثیت سے کام کروں گا اور اپنے علاقہ کے مسائل کو اجاگر کروں گا”۔ میں پیسوں والی بات اب تک نہ سمجھ پایا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پیسے آپ نے اس بندے کو کیوں دیئے۔ وہ کہنے لگا کہ وہ صاحب اس اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور میں نے انہیںپریس کارڈ کی فیس دی ہے۔ میں اس کی بات سن کر صرف ”اچھا” ہی کہہ سکا۔ شمس کہنے لگا، ”میں تو کہتا ہوں تم بھی کارڈ بنوا لو۔” مگر میں نے انکار کر دیا۔ اس سے اگلے دن شمس نے میرے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو شمس بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ خیریت ہے آج بڑے خوش لگ رہے ہو۔ اس نے اخبار میرے سامنے کرتے ہوئے کہا یہ دیکھو۔ اخبار میں میری تصویر چھپی ہے۔ میں نے اس سے اخبار لیا اور دیکھنے لگا۔

ایک کونے پر اس کو نمائندگی دئیے جانے کا اعلان بمع تصویر چھپا تھا۔ میں نے اسے مبارکباد دی۔ بس اسی طرح ہر روز کوئی نہ کوئی خبر چھپوانے لگا۔ اس کا شوق اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اپنی بھیجی ہوئی خبر اخبار پر دیکھنے کے لئے وہ خراب سڑکوں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں چالیس کلو میٹرسفر کر کے اخبار کے دفتر پہنچ جاتااور اس اخبار کی دو یا تین کاپیاں لے کر دوبارہ اتنا ہی سفر طے کر کے گائوں واپس آتا۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور چار ماہ کے بعد اس نے اپنے شہر کے ایف ایم ریڈیو کے لئے اپنی یونین کونسل سے بطور رپورٹر کام کرنا شروع کر دیا۔(یہ الگ بات کہ اسے ایف ایم کی نمائندگی کے لئے بھی اسے دو ہزار روپے سکیورٹی فیس کی مد میں ادا کرنا پڑے تھے۔) اس نے فرسٹ ڈویژن میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر لیا تھا اور اب اسی کالج سے گریجوایشن کرنے لگا۔اب کبھی کبھار وہ پریس کلب بھی جانے لگا تھا۔ چونکہ ان دنوں گائوں میں کیبل کی سہولت نہ تھی اور ہمارے شہر میں ایف ایم ریڈیو کو بنے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اسلئے گائوں کے لوگ ایف ایم پر رات آٹھ بجے خبریں ضرور سنا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان خبروں میں زیادہ تر مقامی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ ایف ایم ریڈیو کے نیوز پریزنٹر رپورٹر کے نام کے ساتھ خبر پڑھا کرتے تھے۔

چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ اپنے گائوں سمیت قریبی علاقہ جات میں بھی جانا جانے لگا۔ اب تو میں کبھی کبھی سوچا کرتا کہ کاش اس دن میں بھی اخبار کی نمائندگی لے لیتا اور ایسے ہی لوگ مجھے بھی پہچانتے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ پریس کلب میں جانے کے باعث قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے رپورٹرز کے ساتھ اس کی خاصی دوستی ہو گئی تھی لہذا پریس کلب میں اس کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اسے شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ گریجوایشن کے امتحانات کے بعد اس نے مقامی اخبارات میں کالم لکھنا بھی شروع کر دیا۔ پھر ایک سال کے عرصہ میں اس کی تحریر میں اس قدر نکھار آ چکا تھا کہ قومی اخبارات میں اس کے کالم شائع ہونے لگے اور پاکستان کے معروف ترین اخبارات سے اہم قومی دنوں یا اہم واقعات کے حوالہ سے کالم کے لئے اسے کالز آنے لگیں۔گریجوایشن پاس کرنے کے بعد اب وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ایک قومی اخبار اور ٹی وی چینل کے ساتھ بطور تحصیل رپورٹر کام کرنے لگا۔ لیکن اب کی بار اسے نمائندگی کے لئے دو ہزار نہیں بلکہ تیس ہزار روپے ادا کرنا پڑے۔ اپنی محنت اور شوق کے باعث اس نے جلد ہی رپورٹنگ میں بھی اپنا نام پیدا کر لیا۔ لیکن اب شاید اس کے تارے گردش میں آنے والے تھے۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور اس کے چند ماہ بعد ہی اس کی والدہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں اور ڈاکٹریٹ کے خواب آنکھوں میں سجانے والاتنگی حالات کے باعث ماسٹر بھی مکمل نہ کر سکا اور میڈیا میں کسی مناسب نوکری کی تلاش کرنے لگا۔اپنے کام کے باعث وہ ضلع کی تمام میڈیا تنظیموں کا اعزازی ممبر اور اپنے ادارے کا ڈسٹرکٹ رپورٹر تو بن چکا تھا مگر کوئی پیڈ جاب حاصل نہ کر سکا تھا۔ اسے نہ تو کرپٹ افسران کے تلوے چاٹنے کی عادت تھی اور نہ ہی آج تک اس کے کسی استاد نے اسے دوسروں کاحق مار کر اپنی جیب گرم کرنے کا سبق دیا تھا ۔ اس لئے وہ میرٹ پر ہی نوکری بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دس سے زائد ٹی وی چینلز اور قریباً اتنی ہی تعداد میں اخبارات میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اس کی قسمت پر تو جیسے تالا لگ چکا تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح مختلف میڈیا ہائوسز کے چکر کاٹنے کے بعد اس نے دیگر شعبہ جات کی طرف بھی اپلائی کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی اپنی نوکری کے لئے کوشش کرتا رہا۔ مگر اسے سفارش نہ ہونے اور رشوت کے لئے رقم نہ ہونے کے باعث مختلف بہانے بنا کر انکار کر دیا جاتا۔ایک ٹی وی چینل میں وہ نیوز پریزنٹر اور رپورٹر کے لئے انٹرویو دینے گیا تو وہاں اسے انٹرویو لئے بغیر، اس کے تجربے اور لگن کو پرکھے بغیر انکار کر دیا گیا اور اسے رسیپشنسٹ کی نوکری کے لئے آفر کی گئی۔ وہ مایوس ہو چکا تھا۔ پڑھا لکھا ہونے اور باشعور کے باوجود وہ مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔اس نے صحافت کو خیرباد کہنے اور تارک الدنیا ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے کالم نویسی،رپورٹنگ اور حتیٰ کہ فیس بک اور موبائل فون تک استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ وہ کسی سے ملنے سے بھی گریز کرنے لگا۔ ایک دن اسی اندر کی گھٹن سے تنگ آکر وہ زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا اور پچیس سالہ شمس ٹرین سے ٹکرا کر اپنے خوابوں سمیت پاش پاش ہو گیا۔ مجھے آج بھی اس کا آخری سٹیٹس یاد آتا ہے۔ ” اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا۔”اور ”ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہو گا۔فیس بک کے دوستو اللہ حافظ و ناصر۔ میرے لئے دعا کرنا کہ میں اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رہ سکوں۔ آپ سب کے لئے بہت سی دعائیں۔ ”

اتنا کہہ کر قاسم نے نے سرد آہ بھری اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”تجمل بھائی ! یہ بات سچ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابرہوتیں اور سب لوگ برے نہیں ہوتے۔ آپ اپنے شعبہ کو ہی لے لیں، ایک طرف تو ایسے لوگ جو مڈل پاس بھی نہیں اور شہر کے معروف ترین صحافی ہیں اور ناجائز ذرائع سے جمع کردہ پیسوں سے اب ان کے کئی کاروبار بن چکے ہیں اور دوسری طرف شمس جیسے لوگ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور صحافت کو عبادت سمجھنے والے ہوتے ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیںہوتا۔ایسے میں مَیں کسے قصور وار ٹھہرائوں۔ چند نوٹوں کی خاطر نمائندگیاں اور پریس کارڈ فروخت کرنے والوں کو یا شمس جیسے لوگوں کو جو اس باطل زدہ دور میں بھی حق کو نجات سمجھتے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔پہلے وڈیرے اورجاگیردار اپنے غلط کاموں کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں صحافیوں کی جان کے دشمن بن جاتے تھے اور آج کل ایماندار صحافی خود ہی اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔بھائی، شمس کا خون کس کے سر ہو گا۔” نوجوان صحافی کی دردناک کہانی سن کر میرا دماغ مائوف ہو چکا تھا۔ یقینا فیلڈ ورک کرنے والے بہت سے صحا فیوں کی کہانی شمس جیسی ہو گی اور ان کا انجام خدا جانے کیا اور کیسا ہوتا ہو گا۔ میرے پاس اپنے دوست قاسم کو کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ کیا آپ ان سوالات کا کوئی جواب دے سکتے ہیں…..؟؟؟

Tajammal Mahmood Janjua Logo
Tajammal Mahmood Janjua Logo

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
tmjanjua.din@gmail.com
0301-3920428
www.facebook.com/tajammal.janjua.5

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Jafarabad
Previous Post جعفر آباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، ایک فٹ ریلوے لائن تباہ
Next Post ڈاکٹروں کو چکمہ دینے والا موذی مرض ” بلڈ پریشر”
Blood Pressure

Related Posts

اندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینی

اندراج خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس، بالی ووڈ واپسی غیر یقینی

October 16, 2026
دہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سخت

دہلی میں ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف نئے احتجاج سے قبل سنٹرل پارک بند، سیکیورٹی سخت

October 16, 2026
حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا ذخیرہ سعودی عرب کے لیے نیا خطرہ کیوں ہے؟

حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا ذخیرہ سعودی عرب کے لیے نیا خطرہ کیوں ہے؟

October 16, 2026
استنبول میں 80 برس کی سب سے شدید بارش سے سیلاب، تین ہلاک اور پانچ لاپتہ؛ زیلنسکی کی توجہ یورپ پر مرکوز

استنبول میں 80 برس کی سب سے شدید بارش سے سیلاب، تین ہلاک اور پانچ لاپتہ؛ زیلنسکی کی توجہ یورپ پر مرکوز

October 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.