واشنگٹن/تہران: امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی آپریشن کے لیے مخصوص منصوبے تیار کر لیے ہیں، جس میں ایرانی جوہری تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور میزائل و ڈرون کے ذخیرے شامل ہوں گے۔ دوسری جانب تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں خلیج میں امریکی فوجی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
نیویارک ٹائمز نے سینئر امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک نے ایران کے خلاف ایک ایسے آپریشن کا خاکہ تیار کیا ہے جس کا مقصد ایرانی معیشت کو مزید کمزور کر کے تہران کو سفارتی رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ منصوبے اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
انتخابات کے بعد امریکی پالیسی میں سختی کا امکان
امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں، جس نے دونوں ممالک کے جنگی فیصلوں میں سیاسی عنصر شامل کر دیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی کی بلند قیمتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد ٹرمپ سیاسی پابندیوں سے آزاد ہو کر مزید جارحانہ موقف اختیار کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بنایا ہوا ہے۔
خلیج میں امریکی فوجی طاقت میں اضافہ
اس وقت بحیرہ عرب میں امریکہ کے دو طیارہ بردار جنگی گروپ موجود ہیں، جبکہ تیسرا نومبر کے آخر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے جنگی آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ٹرمپ نے 15 اکتوبر کو دائیں بازو کے نشریاتی ادارے نیوز میکس کو بتایا کہ وہ نطنز جوہری کمپلیکس کے قریب پک ایکس ماؤنٹین پر حملے پر غور کر رہے ہیں، جہاں امریکی حکام کے مطابق ایران نے حساس جوہری مواد زیر زمین منتقل کیا ہے۔
سی این این نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ ایرانی اہداف کے خلاف میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم کے استعمال پر بھی غور کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بم زیر زمین تنصیبات کے خلاف زیادہ مؤثر نہیں ہے۔
ایران کی جوابی حکمت عملی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے میڈیا مشیر علی اصغر شفیعیان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امریکہ کے پاس فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی میں برتری ہے، لیکن ایران کی طاقت بحران سے نمٹنے کے طریقے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ حملوں میں ہلاک ہونے والے سینئر عہدیداروں کی جگہ فوری تقرریوں کے ذریعے اپنے سیاسی ڈھانچے کو زیادہ لچکدار بنایا ہے۔ ایران اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کی بھی تعمیر نو کر رہا ہے جو جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں تباہ ہو گئی تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک نے کسی بھی امریکی یا اسرائیلی آپریشن میں تعاون کیا تو ایران کی جانب سے فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔
اندرونی سلامتی پر توجہ
تہران میں مقیم سیاسی تجزیہ کار رحمان قهرمان پور کا کہنا ہے کہ ایران کی تیاریاں صرف میزائل اور ڈرون تک محدود نہیں ہیں بلکہ اندرونی سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس میں مسلح اپوزیشن گروپوں سے نمٹنا، ممکنہ احتجاج کی تیاری اور بیرونی فوجی دباؤ کو اندرونی بدامنی سے ملنے سے روکنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی نئے تنازع کی صورت میں انٹرنیٹ پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اور حکومت کے حامیوں کو عوامی مقامات پر زیادہ مضبوطی سے متحرک کیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات کا تعطل
ایران نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز بھیجی ہے جس میں آبنائے ہرمز کو ایرانی کنٹرول میں دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے، جس کے بدلے میں امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد اثاثے جاری کرے اور فوجی کارروائیاں بند کرے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے مطالبات اتنے وسیع ہیں کہ ایران میں سمجھوتے کے حامی عہدیدار بھی ان کے لیے ملکی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
ایرانی عوام میں خوف اور بے چینی
تہران میں ایک خاتون ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ معاشی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور لوگ غربت میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو حکام انٹرنیٹ تک رسائی دوبارہ محدود کر دیں گے۔
ایک اور تہرانی خاتون نے حکومت کے حامیوں کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور جنگ اور ملکی احتجاج مل کر سڑکوں پر تصادم کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
زیر زمین جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: “جوہری تنصیبات کا ہم سے کیا تعلق؟ وہ تو پہاڑوں کے اندر ہیں۔”
