سابق امریکی صدر براک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ایک ایسی جنگ شروع کی جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اوباما کے مطابق اس جنگ نے تہران کو اسٹریٹجک طور پر زیادہ مضبوط بنا دیا، امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ کیا اور عوام کے لیے مہنگائی بڑھا دی۔
انتخابی ریلی میں شدید تنقید
مشی گن میں ہفتے کے روز ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے انتظامیہ کے فتح کے دعووں کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے نتیجے میں امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر پہلے سے کہیں زیادہ کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔
غیر ضروری جنگ کا الزام
اوباما نے کہا، “موجودہ صدر نے کئی غلط فیصلے کیے۔” انہوں نے مزید کہا، “ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ انہوں نے ایک غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔”
انہوں نے ٹرمپ کے جنگی فیصلے کا موازنہ اپنی انتظامیہ کی جوہری سفارت کاری سے کیا۔ اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے اور 2015 کا معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔
اوباما نے کہا، “مجھے کوئی میزائل داغنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے سفارت کاری کی۔”
جنگ کے نتائج پر سوال
فوجی مہم کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے اوباما نے کہا کہ جنگ شروع ہوئے سات ماہ گزر چکے ہیں اور انتظامیہ کو فتح کا اعلان کیے چھ ماہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے پوچھا، “سات ماہ بعد، وہ جنگ کیسی چل رہی ہے؟”
اوباما نے کہا، “ہمارے اتحادیوں اور اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم راستے آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی ایران کی صلاحیت نے اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور ہے۔ چنانچہ وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں ہیں۔”
اوباما نے تیل اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں عام اضافے کا ذمہ دار انتظامیہ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کو قرار دیا۔
