چین کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فیچر فلم جمعہ کے روز ملک بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی۔ تاہم ابتدائی ٹکٹ فروخت کے اعداد و شمار نے تیزی سے ابھرتی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا ہے۔
ابتدائی فروخت توقعات سے کہیں کم رہی
ٹکٹنگ پلیٹ فارم ماویان کے مطابق سائنس فکشن تھرلر فلم ’سانکسنگ ڈوئی: فیوچر پاسٹ‘ کی جمعہ کو دس ہزار سے زائد اسکریننگز طے کی گئیں۔ لیکن عوام کی جانب سے ملنے والا ردعمل متوقع جوش و خروش سے خالی رہا۔
ماویان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جمعہ کی صبح تک صرف 80 ہزار یوآن یعنی تقریباً 12 ہزار ڈالر مالیت کے ٹکٹ پیشگی فروخت ہو سکے تھے۔ مجموعی باکس آفس آمدنی 150 ہزار یوآن سے بھی کم رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
ٹکٹوں کی قیمتیں 20 سے 90 یوآن کے درمیان رکھی گئی تھیں جس کے باعث فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی کل تعداد چند ہزار تک ہی محدود رہی۔
پروڈیوسر کا مؤقف
پروڈکشن کمپنی بونا فلم گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیانگ دیفو نے سرد ردعمل کو تسلیم کیا۔ تاہم انہوں نے چینی فلمی صنعت کے آن لائن پلیٹ فارم یُولی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ منصوبہ نئی حدود کو چھو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم پہلے ہیں جنہوں نے اسے آزمانے کی کوشش کی، پہلے ہیں جنہیں سنیمائی نمائش کی اجازت ملی، اور پہلے ہیں جنہیں ناظرین نے پرکھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بالکل آسان نہیں ہے۔“
دو سال کی محنت اور لاکھوں کی لاگت
بونا کے مطابق اس فلم کو تقریباً 100 افراد نے دو سال سے زائد عرصے میں مکمل کیا۔ اس منصوبے پر 10 ملین یوآن یعنی تقریباً 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ لاگت آئی۔ فلم کے تمام اداکار، ان کی آوازیں اور پس منظر کے مناظر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیے گئے۔
فلم کا موضوع مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے زیر اثر انسانیت کے کردار کے گرد گھومتا ہے لیکن یہ ناظرین کو قائل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آیا۔
ناظرین کی رائے
آئرس یانگ نامی ایک ناظر نے جمعرات کو پروڈکشن ٹیم اور صنعت سے وابستہ افراد کے لیے رکھی گئی مفت پیشگی نمائش میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کے معیار کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے لیے پیسے خرچ کرنے کو تیار نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا، ”اگر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد ’اوتار‘ جیسا سنیمائی تجربہ فراہم کر سکے تو میں اس کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوں گی۔“ ان کا اشارہ امریکی فرنچائز ’اوتار‘ کی جانب تھا جو اپنی اینیمیشن کے اعلیٰ معیار کے لیے جانی جاتی ہے۔
مختصر ڈراموں میں مقبولیت برقرار
دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو مواد خاصا مقبول ہو رہا ہے۔ ٹک ٹاک کے چینی متبادل ’ڈوئن‘ پر صرف ستمبر کے مہینے میں اے آئی سے بنے مختصر ڈراموں کو 200 ارب سے زائد بار دیکھا گیا۔
تاہم آزاد اے آئی ڈائریکٹر ژانگ جون نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ناظرین صرف اس بنیاد پر ٹکٹ کی ادائیگی نہیں کریں گے کہ فلم مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر شکوک و شبہات
چینی سوشل میڈیا صارفین بھی سنیما گھروں میں اے آئی فلموں کی آمد پر زیادہ قائل دکھائی نہیں دیے۔ ویبو پر ایک صارف نے لکھا، ”اگر یہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر مفت دیکھنے کو ملے تو یہ لیجنڈری بن سکتی ہے۔ لیکن ادائیگی کر کے دیکھنا؟ اس مرحلے پر لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔“
ہالی ووڈ میں بھی خدشات
ہالی ووڈ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے فلمی کارکنوں میں ملازمتوں کے ضیاع کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ’گاڈز ڈونٹ گیو گفٹس‘ نامی اے آئی سے تیار کردہ سائنس فکشن فلم 4 دسمبر کو امریکہ میں ریلیز ہونے والی ہے۔
اسی طرح ٹلی نارووڈ نامی ایک ورچوئل ہالی ووڈ اداکار بھی ’مس الائنڈ‘ نامی آنے والی فلم میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس کے انٹرویوز وائرل ہو چکے ہیں اور انہوں نے ملازمتوں سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
