فرانس میں جاری طلبہ مظاہروں کے دوران ’بسم اللہ یہ اندھیرا ہے‘ کے نعرے والے پلے کارڈز سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مسلم کارکنوں نے ان پلے کارڈز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض حلقوں نے اس رجحان کو انتہا پسندی کی علامت قرار دیا ہے۔
نعرے کی ابتدا اور سوشل میڈیا پر پھیلاؤ
یہ نعرہ سب سے پہلے اکتوبر کے شروع میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک اسنیپ چیٹ پیغام میں نظر آیا۔ اس پیغام میں ایک شخص نے ’بسم اللہ یہ اندھیرا ہے‘ لکھتے ہوئے مظاہروں میں شامل ہونے اور توڑ پھوڑ کی بات کی تھی۔ تاہم اس پیغام کی اصلیت ابھی تک ثابت نہیں ہو سکی ہے۔
بہت سے صارفین نے اس پیغام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی مسلم طالب علم کی بجائے پولیس کی جانب سے مظاہرین میں دراندازی کی کوشش ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ نعرہ مظاہروں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگا۔
مسلم کارکنوں کا ردعمل
مسلم کارکنوں نے اس نعرے کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بسم اللہ‘ کو اندھیرے سے جوڑنا مذہبی حساسیتوں کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ کم از کم ایک کارکن نے عملی طور پر ایسے پلے کارڈز کو ہٹانے کی کوشش بھی کی۔
ایک ماہرِ اسلام نے اس رجحان کو ’انتہا پسندی‘ کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی علامات کو سیاست کے لیے استعمال کرنا تشویشناک ہے۔
مظاہروں کا پس منظر
فرانس میں طلبہ کی جانب سے جاری مظاہرے تعلیمی اور سماجی مطالبات کے حوالے سے ہیں۔ لیکن ان مظاہروں میں مذہبی نعروں کے استعمال نے تنازع کو مزید ہوا دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ فرانس میں سیکولرازم اور مذہبی آزادی کے درمیان حساس توازن کو اجاگر کرتا ہے۔
دوسری جانب، کچھ حلقوں کا موقف ہے کہ نعروں پر پابندی لگانے کی بجائے مکالمے کے ذریعے معاملے کو حل کیا جانا چاہیے۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ فرانسیسی حکام اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ نعرے مظاہروں میں جاری رہے تو سماجی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
