دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے بڑے حصے میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔ ویب سائٹس کی تیاری میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں “خطرناک” سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کے بعد متعدد یورپی اور امریکی سرکاری ویب سائٹس کو احتیاطی طور پر آف لائن کر دیا گیا ہے۔
فرانس میں بڑے پیمانے پر ویب سائٹس بند
فرانس میں ٹیکس محکمے، پولیس پریفیکچر، محکمہ موسمیات اور تقریباً تمام صوبائی انتظامیہ کی ویب سائٹس عارضی طور پر ناقابل رسائی ہیں۔ فرانس کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ قومی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کی درخواست پر تمام متاثرہ ویب سائٹس کو حفاظتی طور پر مینٹیننس موڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
یورپ اور امریکہ بھی متاثر
نیدرلینڈز کی پارلیمنٹ، ڈچ قومی سائبر سیکیورٹی ایجنسی اور فن لینڈ کی مرکزی انتظامیہ نے بھی احتیاط کے طور پر اپنی ویب سائٹس آف لائن کر دی ہیں۔ امریکہ میں قومی سلامتی ایجنسی نے فوری طور پر ویب سائٹس کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ خامیاں سرورز کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی فراہم کر سکتی ہیں۔
خطرے کی نوعیت
ماہرین کے مطابق پی ایچ پی دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ خامی حملہ آوروں کو دور سے کوڈ چلانے کی اجازت دیتی ہے، جس کے ذریعے وہ سسٹم کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، ڈیٹا چرا سکتے ہیں، نقصان دہ سافٹ ویئر نصب کر سکتے ہیں یا متاثرہ ویب سائٹ سے منسلک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
پی ایچ پی ورژن 5 سے لے کر تمام ورژنز ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ورڈ پریس، ڈروپل، جوملا اور میگنٹو جیسے مقبول سسٹمز بھی پی ایچ پی پر انحصار کرتے ہیں۔ کچھ حملہ آوروں کی جانب سے خامی کا فائدہ اٹھانے کی ابتدائی کوششیں پہلے ہی دیکھی جا چکی ہیں۔
ماہرین کی تشویش
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا ہے اور صارفین کو ہدایت دی ہے کہ پی ایچ پی کی تازہ ترین اپ ڈیٹ دستیاب ہوتے ہی فوری طور پر اسے نصب کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حفاظتی اقدامات صرف عارضی حل ہیں اور اصل خطرے سے نمٹنے کے لیے جامع اپ ڈیٹ ناگزیر ہے۔
