یونان کے ساحلی محافظوں نے بتایا ہے کہ پیر کے روز بحیرہ ایجیئن میں دو مختلف کشتی حادثات میں کم از کم بارہ تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔
یہ دونوں واقعات یونان کے جزائر لزبوس اور ساموس کے قریب پیش آئے۔
لزبوس کے قریب پہلا حادثہ
ساحلی محافظوں کی ایک ذمہ دار اہلکار کے مطابق پہلا حادثہ صبح سویرے اس وقت ہوا جب تارکین وطن کی ایک تیز رفتار کشتی لزبوس جزیرے کے نزدیک گشتی کشتی کے بائیں جانب سے ٹکرا گئی۔
اس تصادم میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ہلاک شدگان میں ایک مرد، چار خواتین اور ایک شیر خوار بچہ شامل تھا۔ حکام کے مطابق آٹھ افراد زندہ بچ گئے۔
لزبوس جزیرہ بحیرہ ایجیئن کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ ترکی کے مغربی ساحلوں سے قربت کی وجہ سے یہ تارکین وطن کی آمد کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
ساموس کے قریب دوسرا حادثہ
دوسرا حادثہ پیر کی علی الصبح ساموس جزیرے کے ساحلوں سے تقریباً ساڑھے تین بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ ساموس بحیرہ ایجیئن کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔
ساحلی محافظوں کے مطابق اس واقعے میں تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں پانچ مرد اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے۔ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
زندہ بچ جانے والوں میں ایک ایرانی شہری بھی شامل ہے جسے سمگلر ہونے کا شبہ ہے۔
بار بار پیش آنے والے المناک واقعات
یونان کے شمالی اور مشرقی ایجیئن جزائر ترکی کے مغربی ساحلوں کے قریب واقع ہیں۔ ان راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتیوں کے حادثات بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔
کریٹ کے جنوبی راستے سے بھی تارکین وطن کی آمد جاری رہتی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں کریٹ کے قریب یونانی جزیرے گاوڈوس کے ساحلوں پر کشتی ڈوبنے سے ایک شخص ہلاک اور پچیس دیگر لاپتہ ہو گئے تھے۔
یورپی مہاجرت بحران کا تسلسل
یہ تازہ حادثات یورپ کی جانب خطرناک سمندری مسافتوں کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہر سال سینکڑوں افراد غیر محفوظ اور غیر معیاری کشتیوں میں سفر کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔
انسانی سمگلروں کے بے رحم نیٹ ورکس ان سفروں کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ یونان کے جزائر اس بحران کی نمایاں علامت بنے ہوئے ہیں۔
