یورپ کے کئی ممالک میں احتجاج کی لہر
گزشتہ ہفتے کے آخر میں پیرس اور فرانس کے دیگر شہروں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد اب یورپ کے متعدد ممالک میں بھی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اٹلی، بیلجیم، یونان اور البانیہ میں مہنگائی، رہائش کے بحران اور معاشی عدم مساوات کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کئی مقامات پر یہ مظاہرے پولیس سے پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اٹلی: میلان، ٹورین اور بولوگنا میں ہنگامے
اطالوی شہر میلان میں ہفتہ 17 اکتوبر کو مہنگائی کے خلاف نکالے گئے ایک بڑے مارچ کے دوران صورت حال اس وقت بگڑ گئی جب نوجوانوں کے گروہوں نے دکانوں اور پولیس پر حملے شروع کر دیے۔ تقریباً پانچ ہزار افراد پر مشتمل اس مارچ میں متعدد نابالغ بھی شامل تھے۔
ٹورین اور بولوگنا میں بھی اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے بعد ریلوے اسٹیشن کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک حق ہے لیکن شہروں کو آگ لگانا جرم ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔
مظاہرین کے مطالبات فرانس جیسے ہی ہیں جن میں قوت خرید میں کمی، ناکافی اجرتیں، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور عوامی خدمات کے لیے وسائل کی کمی شامل ہے۔ اطالوی طلبہ نے فرانسیسی تحریک سے متاثر ہو کر “فاچامو کومے ان فرانسیا” یعنی “فرانس کی طرح کریں” کا نعرہ بھی اپنا لیا ہے۔
بیلجیم: یونیورسٹی فیسوں کے خلاف مظاہرے
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز اور لیج میں طلبہ نے یونیورسٹیوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ہفتے کے روز ان مظاہروں کے دوران پولیس سے تصادم ہوا اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ گاڑیوں اور شہری املاک کو آگ لگا دی گئی اور تقریباً دس افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یونان: رہائش کے بحران پر طلبہ کا غصہ
یونان میں طلبہ مہنگائی اور رہائش کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کئی مظاہرین نے فرانسیسی طلبہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے فرانسیسی زبان میں نعرے بھی لکھے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ احتجاج کی لہر سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے۔
البانیہ: “گلابی فلیمنگو انقلاب” کا تشدد میں بدلنا
البانیہ میں احتجاج کی کہانی مختلف ہے۔ یہ تحریک 31 مئی کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ایک پرتعیش سیاحتی منصوبے کے خلاف ماحولیاتی کارکنوں نے آواز اٹھائی۔ اس منصوبے سے گلابی فلیمنگو کے قدرتی مسکن کو خطرہ لاحق تھا۔ اس تحریک کو “گلابی فلیمنگو انقلاب” کا نام دیا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس تحریک کے مطالبات وسیع ہوتے گئے اور اب بدعنوانی، معاشی عدم مساوات اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے امکانات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ 13 اکتوبر سے دارالحکومت تیرانا میں مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔ سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
مظاہرین اب وزیراعظم ایڈی راما کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے الزام لگایا ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا کردار
ماہرین کے مطابق ان مختلف ممالک کے مظاہروں میں حیران کن مماثلت کی ایک بڑی وجہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہیں۔ طلبہ تحریکوں کے محقق روبی مورڈر کے مطابق، “آج کے دور میں جب معلومات کی ترسیل سماجی رابطے کی ویب سائٹس کی بدولت تیز اور آسان ہو چکی ہے، تو یہ حیران کن نہیں کہ ایک ملک کی تحریک دوسرے ممالک کے لیے تحریک کا باعث بنے۔”
تشدد کی تصاویر، نعرے اور مطالبات چند گھنٹوں میں سرحدیں عبور کر رہے ہیں اور نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دوسرے ممالک کے نوجوان بھی انہی مسائل سے دوچار ہیں۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ان تمام تحریکوں کو ایک ہی “یورپی بغاوت” قرار دینا درست نہیں۔ ہر ملک کے مسائل الگ ہیں: اٹلی میں قوت خرید، بیلجیم میں تعلیمی اخراجات، یونان میں رہائش اور البانیہ میں بدعنوانی اور نوجوانوں کا مستقبل۔
ایک بات واضح ہے کہ نوجوانوں کا غصہ اب کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا اور یورپ کی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
