پشاور میں خیبر پختونخوا پولیس نے صوبائی گورنر کو ایک سمری ارسال کی ہے جس میں اہلکاروں کے لیے سکیورٹی چیلنج الاؤنس کے ساتھ ساتھ جدید آلات اور آپریشنل ضروریات کے لیے اضافی رقم مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
مختلف علاقوں کے لیے مجوزہ الاؤنس کی شرح
سمری میں کہا گیا ہے کہ جنوبی اضلاع جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور کوہاٹ ریجن شامل ہیں، کے علاوہ تمام ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کے 120 فیصد کے برابر سکیورٹی چیلنج الاؤنس دیا جائے۔
دیگر آباد اضلاع کے اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 100 فیصد الاؤنس تجویز کیا گیا ہے جبکہ ہزارہ ریجن کے اہلکاروں کو 75 فیصد الاؤنس فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تین دہائیوں کی قربانیاں اور تنخواہوں کا فرق
مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیوں کے باوجود صوبے کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے پولیس اہلکاروں کے مقابلے میں کم ہیں۔
سمری کے مطابق مجوزہ الاؤنسز کے نتیجے میں ماہانہ اخراجات میں 5.159 ارب روپے سے زائد کا اضافہ متوقع ہے۔
مالی سال 2026-27 کے فنڈز کی فوری اجرا کی درخواست
پولیس نے مالی سال 2026-27 میں خریداری کے لیے مختص فنڈز کی فوری اجرا کی بھی درخواست کی ہے۔ آباد اضلاع میں خریداری کے لیے 11.16 ارب روپے سے زائد جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3.35 ارب روپے سے زائد فنڈز مانگے گئے ہیں۔
سمری میں اسلحہ، گولہ بارود، ٹرانسپورٹ، پلانٹ اینڈ مشینری، آرڈیننس اسٹورز اور دیگر آلات کے لیے مختص رقم جاری کرنے پر زور دیا گیا تاکہ آپریشنل تیاری کو برقرار رکھا جا سکے۔
13.87 ارب روپے اضافی فنڈز کا مطالبہ
بجٹ کی تنگی کے باعث پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس نے اسلحہ، جدید آلات اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے 13.871 ارب روپے اضافی فنڈز کا مطالبہ کیا ہے۔
مجوزہ خریداریوں میں سب مشین گنز اور ایم جی-1A3 رائفلیں، 5.56 ملی میٹر ہتھیار، بلٹ پروف جیکٹس اور بیلسٹک ہیلمٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرونز اور اینٹی ڈرون گنز و جدید نظام، تھرمل ویپن سائٹس اور دوربینیں، بکتر بند گاڑیاں اور سنگل و ڈبل کیبن پک اپ ٹرک بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
سمری میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلحے، حفاظتی سازوسامان، نگرانی کے نظام اور ٹرانسپورٹ کی کمی کو دور کرنے کے لیے اضافی فنڈنگ ناگزیر ہے۔
