واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے منظور کردہ گراہم ایکٹ کے تحت روس پر عائد ہونے والی اہم پابندیوں سے ماسکو کو استثنیٰ دے دیا ہے۔ یوکرین نے اس فیصلے کو اپنے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا فرمان
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فرمان کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکہ کے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے گراہم ایکٹ میں درج پابندیوں اور محصولات کے نفاذ سے استثنیٰ دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کھل کر یہ احساس ظاہر کیا ہے کہ وہ خود کو دھوکہ دیا گیا محسوس کر رہے ہیں۔
روس کا ردعمل
روس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کریملن کے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے مشیر کریل دمتریئیف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گراہم ایکٹ کو معطل کرنا ایک اہم اور واقعی تاریخی لمحہ ہے۔
گراہم ایکٹ کا پس منظر
صدر ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں گراہم ایکٹ کو نافذ کیا تھا۔ اس قانونی پیکیج کا بنیادی ہدف روس کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانا تھا۔ اس میں پہلی بار روس کے فینٹم فلیٹ کو نشانہ بنانے کا نظریہ پیش کیا گیا تھا اور اس کا دائرہ کار روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت دیگر اعلیٰ روسی حکام تک پھیلا ہوا تھا۔
قانون کے تحت صدر ٹرمپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روسی گیس اور تیل درآمد کرنے والے پانچ بڑے ممالک پر سو فیصد تک محصولات عائد کر سکیں۔ ان ممالک میں چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔
قانون کا نام اور حمایت
اس قانون کا نام ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا تھا جو گزشتہ جولائی میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ یوکرین کے پختہ حامی اور روس و ایران کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے قانون نافذ ہونے کے موقع پر کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی طاقتور ہتھیار ہے جو اس دہشت گردانہ جنگ کو ختم کرنے اور روس کو امن کے لیے مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین کے ساتھ کشیدگی
گراہم ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے امریکی اور یوکرینی صدور کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات ایک نئے بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ولادیمیر پوتن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ کو روسی ڈیزل کی بڑی مقدار درآمد کرنے کی اجازت دینے کے لیے پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔
کیف نے شکایت کی ہے کہ اسے اپنے اتحادیوں کی جانب سے روسی حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ یوکرین نے خاص طور پر اسٹارشیلڈ کے استعمال میں پابندیوں پر بھی شکوہ کیا ہے۔ یہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ذریعے تعینات کیے گئے اسٹار لنک سیٹلائٹ سسٹم کا فوجی ورژن ہے۔
ٹرمپ اور مسک کا مؤقف
جمعہ کے روز صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میں نہیں تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایلون مسک تھے۔ دوسری جانب ایلون مسک نے بدھ کے روز کہا تھا کہ یوکرین میں اسٹارشیلڈ کی کسی بھی قسم کی سست روی کا ذمہ دار امریکی حکومت ہے نہ کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس۔ یہ سروس یوکرینی افواج کے لیے محاذ پر مواصلات اور ڈرونز کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
