صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی پارلیمانی منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ دونوں ایوانوں کے اجلاس آج شام 6 بجے منعقد ہوں گے۔
وزیراعظم کی مشاورت سے اجلاس طلب
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس وزیراعظم کی مشاورت سے بلائے گئے ہیں اور دونوں ایوانوں کے ایجنڈے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ آئینی تقاضوں کے تحت ایمرجنسی کے اعلان اور گورنر راج کو پارلیمنٹ سے توثیق کرانا ضروری ہے، اسی لیے یہ اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت فیصلہ
گزشتہ اتوار کو صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ صدارتی اعلان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت سے شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سرکاری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
گورنر کا انسداد دہشت گردی کو اولین ترجیح قرار دینے کا اعلان
ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے دہشت گردی کے خاتمے کو صوبے کی اولین ترجیح قرار دیا تھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے امن کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل وفاقی تعاون کا عزم ظاہر کیا۔
یہ بیانات گورنر کنڈی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آئے۔ اجلاس میں شرکاء نے قانون و امن کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، سیکیورٹی اداروں کی استعداد اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
گورنر کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے امور کو ذمہ داری سے چلانا اور عوام کو محفوظ و سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔
