پشاور میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آج پیر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت بھی متوقع ہے جبکہ سینئر فوجی حکام بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں 12 حساس اضلاع کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
فوج کی تعیناتی پر غور
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں فوج کی تعیناتی اور متعلقہ سیکیورٹی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ان اضلاع کے حوالے سے کلیدی فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کا پس منظر
ایک روز قبل صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
صدارتی اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید
اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور قانون شکنی سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ عزم اور مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ صدارتی پروکلیمیشن میں گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا۔
رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کی خرابی اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام کرنے سے قاصر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
اجلاس کے اہم نکات
گورنر فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سینئر فوجی حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں 12 حساس اضلاع میں فوج کی تعیناتی پر غور کا امکان ہے۔
صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی جبکہ اعلامیے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ناکافی قرار دیا گیا تھا۔
