سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کو ایک بڑا حملہ ہوا جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت پر سب سے جان لیوا حملہ ہے۔
حملے کی تفصیلات
یہ واقعہ ہفتہ 10 اکتوبر کو پیش آیا۔ حملے کے فوری بعد ہوائی اڈے پر شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک مسافر نے افراتفری کا منظر بیان کرتے ہوئے کہا: “میں نے زخمیوں کو دیکھا، ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔”
سعودی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 8 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ 2015 کے بعد سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔
سعودی میڈیا کا مؤقف
سعودی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی اس حملے کا اعتراف کیا۔ سعودی میڈیا کے مطابق: “ریاض کا ہوائی اڈہ ہفتے کی سہ پہر اس وقت حملے کا نشانہ بنا جب مملکت کے شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو واضح طور پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔”
حوثیوں کا کردار
اسی ہوائی اڈے کو اسی ہفتے کے دوران پہلے بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی۔ حوثی ایران کی حمایت یافتہ ہیں اور یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ایک بڑے علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی ماہر ایگنس لیوالوا کے مطابق: “آج حوثیوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ ان کے پاس نقصان پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں۔ حوثیوں کے لیے یہ اہم ہے، سعودی عرب کے خلاف جنگ میں شامل ہونا نہیں۔”
تازہ ترین حملے پر حوثیوں کا ردعمل
ابھی تک حوثیوں نے تازہ ترین حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم اتوار کی صبح انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہ ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں۔”
امریکہ کا ردعمل
سعودی عرب کے اہم اتحادی امریکہ نے اب تک اس تنازعے میں فوجی مداخلت سے انکار کیا ہے۔ تاہم اس حملے میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔ رات گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کو “ناقابل قبول” قرار دیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ براہ راست تصادم میں ملوث ہے۔
