لاہور میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد صوبائی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کم نرخ پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور کر لی۔
ہنگامی اجلاس میں حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت
وزیراعلیٰ پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر صورت میں عوام کو سستی آٹے اور گندم کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ فلور ملز کو 3,800 روپے فی من کی قیمت پر دی جانے والی سبسڈی والی سرکاری گندم کا کوٹہ بڑھایا جائے گا۔ شرکاء نے کم قیمت پر آٹا فراہم کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی پر اتفاق کیا، جسے بعد ازاں مریم نواز نے منظوری دے دی۔
عوام پر مہنگائی کا بوجھ تکلیف دہ قرار
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ لوگ مناسب نرخوں پر آٹا خرید سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سستی آٹا فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کرے گی۔ سبسڈی والے آٹے اور سستی روٹی کی فراہمی جاری رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سبسڈی کے اہم فیصلے
حکومتی اعلان کے مطابق فلور ملز کو سبسڈی والی گندم کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری گندم کی قیمت 3,800 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جبکہ کم قیمت آٹے کی فراہمی کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور کی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے اس اقدام سے عوام کو ریلیف ملے گا اور مناسب قیمت پر آٹے کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ فیصلہ صوبے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جہاں آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔
