دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سات نکات پر مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے تہران کی تجاویز پر اپنا مؤقف بھی پیش کر دیا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کا کردار
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد اور فریقین کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پہلے سے موجود ہے۔ زیر بحث نکات میں سے کچھ اسی یادداشت کے مطابق ہیں۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان اور دیگر اہم ممالک امریکہ ایران تنازعے کے حل کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطے، کشیدگی میں کمی اور تنازعے کے مذاکراتی حل کا خواہاں ہے۔ ضرورت پڑنے پر اسلام آباد اپنی ثالثی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حرمین شریفین کی حرمت ہر حال میں محفوظ رہنی چاہیے۔ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
افغانستان سے دہشت گردی پر تشویش
سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغانستان سے برآمد ہونے والی دہشت گردی ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس کے دوران افغانستان سے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔
ترجمان کے مطابق افغان طالبان وفد نے ماسکو فارمیٹ کے سابقہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق درج مؤقف برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے افغانستان سے دہشت گردی محض بیانات کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
متنازع کشمیر کی نقشہ سازی مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کے متنازع علاقوں کو اپنے نقشوں میں شامل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی یکطرفہ نقشہ سازی قانونی طور پر غیر معتبر ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے خلاف بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی یکطرفہ کارروائیاں جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
دو شہریوں کے قتل پر احتجاج
سجاد حیدر خان نے بتایا کہ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے 2 اکتوبر کو دو پاکستانی شہریوں کو قتل کیا۔ پاکستان نے 3 اکتوبر کو بھارت کے چارج ڈی افیئرز کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج درج کرایا۔
اسلام آباد نے اس واقعے کی فوری، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے ذمہ داروں کے خلاف مناسب قانونی و تادیبی کارروائی اور تحقیقات کے نتائج شیئر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ ضبط نفس سے کام لے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
