اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے، سماجی بدنامی کے خاتمے اور ذہنی امراض کی بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی صحت مجموعی تندرستی کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر صحت کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
اس سال کے موضوع پر وزیراعظم کا زور
وزیراعظم نے رواں برس کے موضوع “لائیوڈ ایکسپیریئنسز ہرڈ: ریئل وائسز، ریئل چینج” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کی بات سننا اور ان کے نقطہ نظر کو پالیسیوں، خدمات اور فیصلوں میں شامل کرنا انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بامعنی شرکت اور ماہرین کی رائے مؤثر حکمت عملی بنانے اور ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
نوجوانوں کی نشوونما پر خصوصی توجہ
وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی صحت صرف امراض کی روک تھام اور علاج تک محدود نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کی صحت مند نشوونما اور ان کی صلاحیتوں کے مکمل اظہار کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ شخصیت کی تعمیر، صلاحیتوں کی پرورش اور فکری و جذباتی نشوونما میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ملکی انسانی وسائل کو بروئے کار لانے اور قومی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ذہنی امراض کو جسمانی امراض جیسی قبولیت دینے کی ضرورت
وزیراعظم نے زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کی نشاندہی اور علاج کو انفرادی، خاندانی اور سماجی سطح پر اتنی ہی قبولیت ملنی چاہیے جتنی جسمانی امراض کو حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک معاون اور غیر جانبدارانہ ماحول ضروری ہے تاکہ لوگ بدنامی یا سماجی دباؤ کے خوف کے بغیر بروقت علاج کی طرف رجوع کر سکیں اور صحت یابی پر توجہ دے سکیں۔
وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ بہت سے افراد اب بھی امتیازی سلوک، علاج میں تاخیر اور بنیادی معاونت تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی صحت کے حوالے سے منفی رویوں کے خاتمے اور علاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-35 پر پیش رفت
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت وزارتِ قومی صحت خدمات کے ذریعے پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-35 پر کام کر رہی ہے، جو ذہنی صحت کے لیے زیادہ قابلِ رسائی، منصفانہ اور حقوق پر مبنی نقطہ نظر کا فریم ورک فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد حکومت کی ترجیح ہے اور اس کا فوکس ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج پر ہوگا۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے بروقت تشخیص و مداخلت کو مضبوط بنانے اور معیاری ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
ان کوششوں کے تحت ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کی سہولیات، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پر مبنی پلیٹ فارمز میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ علاج تک رسائی کو وسیع کیا جا سکے۔
کمزور طبقات پر خصوصی توجہ کی ضرورت
وزیراعظم نے کہا کہ بچوں، نوجوانوں، خواتین اور کمزور و پسماندہ طبقات کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے غربت، بے گھری، ہنگامی حالات اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے متاثرہ کمیونٹیز کی ذہنی صحت کی ضروریات پر بھی غور کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے حکومتوں، تعلیمی اداروں، خاندانوں، سول سوسائٹی، ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے مؤثر علاج، نگہداشت اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اجتماعی کوششیں کریں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں جہاں لوگ ذہنی صحت کے بارے میں بغیر کسی خوف، بدنامی یا شرمندگی کے کھل کر بات کر سکیں اور جہاں ہر فرد کو صحت مند، فعال اور بھرپور زندگی گزارنے کا موقع اور معاونت میسر ہو۔
