یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوٹاکس نے کہا ہے کہ پارٹینن مجسموں کے تنازعے کا حل تلاش کیے بغیر یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان کوئی قربت ممکن نہیں۔ ان کے اس بیان نے یورپی ثقافتی ورثے کی طویل ترین اور متنازع ترین بحث کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
دو صدیوں سے جاری تنازعہ
برٹش میوزیم میں محفوظ پارٹینن کے مجسمے دو صدیوں سے لندن اور ایتھنز کے تعلقات میں تلخی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ یونان کا مؤقف ہے کہ یہ مجسمے 1802 میں اس وقت کے برطانوی سفیر لارڈ ایلگن نے لوٹے تھے۔
دوسری جانب برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ مجسمے قانونی طور پر حاصل کیے گئے اور بعد ازاں برٹش میوزیم کو فروخت کر دیے گئے۔
یونان کی جانب سے سفارتی دباؤ
یونان 2027 کی دوسری ششماہی میں یورپی یونین کی صدارت سنبھالے گا۔ وزیراعظم میتسوٹاکس نے کہا کہ پارٹینن مجسمے اس بحث کا حصہ بنیں گے کیونکہ یہ صرف یونان کا نہیں بلکہ پورے یورپ کا معاملہ ہے۔
انہوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے۔
ثقافتی شراکت داری کی پیشکش
یونان نے برٹش میوزیم کو ایک تجویز دی ہے جس کے تحت اگر مجسمے واپس کیے جائیں تو یونان اپنے دیگر نایاب آثار قدیمہ کے خزانوں تک عارضی رسائی فراہم کرے گا۔ میتسوٹاکس نے اسے ایک منفرد ثقافتی شراکت داری قرار دیا۔
برطانوی مؤقف میں سختی
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اگست میں کہا تھا کہ یہ معاملہ برٹش میوزیم کا ہے۔ برٹش میوزیم کو 1963 کے قانون کے تحت اپنے خزانے فروخت کرنے یا منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
مجسموں کی حتمی واپسی کے لیے پارلیمانی کارروائی درکار ہوگی۔
مذاکرات میں تعطل
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق یونان نے مذاکرات سے انخلاء کر لیا ہے کیونکہ پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی بڑھ رہی تھی۔ برٹش میوزیم کے ترجمان نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ معاہدے کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
