میڈرڈ: اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے پیر کو کہا کہ ملک میں 29 نومبر بروز اتوار قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ یہ اعلان حکومت کے رہائشی بحران سے نمٹنے کے مجوزہ اقدامات پارلیمنٹ میں مسترد ہونے کے تین دن بعد سامنے آیا۔
غیر متوقع سیاسی پیش رفت
سانچیز کے اس اچانک فیصلے نے اسپین کی سیاسی فضا بدل دی ہے۔ آئندہ عام انتخابات پہلے 2027 کے وسط میں متوقع تھے۔ وزیراعظم نے اپنی سرکاری رہائش گاہ مونکلووا پیلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج صبح غیر معمولی کابینہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایوانوں کو تحلیل کر کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جا سکے۔
وزیراعظم کا مؤقف
سانچیز نے کہا کہ زیر التواء اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے وسیع تر اور ترقی پسند اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول اس اکثریت کے ذریعے اشرافیہ کو جھکانے، نئی سماجی کامیابیاں حاصل کرنے اور اسپین کی تبدیلی کا سفر جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
رہائشی بحران سے جڑی سیاست
2018 سے اقتدار میں موجود سوشلسٹ رہنما کا یہ فیصلہ جمعرات کو کانگریس میں ہونے والی سیاسی شکست کے بعد آیا۔ اس شکست نے اقلیتی مخلوط حکومت کو قانون سازی میں درپیش مشکلات کو نمایاں کیا۔ حکومت نے رہائشی بحران کے خلاف جاری احتجاج کے دوران اقدامات کا ایک پیکج منظور کرانے کی کوشش کی تھی۔
یہ احتجاج 87 سالہ ماریکرمین اباسکال کی بے دخلی کے بعد شروع ہوا۔ انہیں سات دہائیوں سے رہائش پذیر اپارٹمنٹ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ایک سرمایہ کاری کمپنی نے جائیداد خریدنے کے بعد کرایہ 275 فیصد بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
ملک گیر مظاہرے
حکومت کی پارلیمانی شکست کے بعد رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہرین کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ ہفتے کے روز میڈرڈ اور اسپین کے درجنوں شہروں میں دسیوں ہزار افراد نے معیاری رہائش کے حق کے لیے مظاہرے کیے۔ میڈرڈ کے مرکزی مقام پورٹا ڈیل سول پر سینکڑوں مظاہرین ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
سروے اور سیاسی دباؤ
آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد سانچیز بدعنوانی کے ان معاملات سے بھی کمزور پڑے ہیں جن میں ان کے قریبی حلقوں کے افراد شامل ہیں۔ ان میں ان کی اہلیہ اور سوشلسٹ پارٹی کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں بحران کے انتظام پر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے جہاں جولائی کے آخر میں مراکش سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن نے دھاوا بول دیا تھا۔
تازہ ترین رائے عامہ کے سروے میں قدامت پسند پیپلز پارٹی سوشلسٹوں سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم پی پی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور اسے انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کی حمایت درکار ہوگی جو اس وقت ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت ہے۔
حزب اختلاف کا مطالبہ
پیپلز پارٹی مہینوں سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی۔ پارٹی کے سربراہ البرٹو نونییز فیجو نے ہفتے کے روز ایک بار پھر انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔
اسپین میں سستی رہائش کی کمی ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ ایئرب این بی جیسے سیاحتی پلیٹ فارمز اور سرمایہ کاری فنڈز پر الزام ہے کہ وہ جائیدادیں خرید کر مقامی باشندوں کے لیے رہائش کی فراہمی کم کر رہے ہیں اور قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔
