لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت پانچ سڑکوں کے منصوبوں کا ڈیجیٹل افتتاح کیا۔ اس موقع پر ان سڑکوں کی انتظامیہ اور آپریشن نجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا۔ صوبائی حکومت کو اس اقدام سے 22 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔
نجی شعبے کے حوالے کیے گئے منصوبے
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت منتقل کیے جانے والے منصوبوں میں 80 کلومیٹر طویل مریدکے۔نارووال روڈ، 33 کلومیٹر شکرگڑھ۔نارووال روڈ اور 97 کلومیٹر فیصل آباد رنگ روڈ شامل ہیں۔ اسی طرح 52 کلومیٹر فیصل آباد۔ساہیانوالہ روڈ اور 56 کلومیٹر فیصل آباد۔سمنڈری۔راجانہ روڈ بھی ان منصوبوں کا حصہ ہیں۔
نجی ٹھیکیدار نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے منسلک ٹول سات سال تک وصول کریں گے۔ نجی کمپنیاں متعلقہ سڑکوں کی دیکھ بھال، تعمیر اور مرمت کی بھی ذمہ دار ہوں گی۔ ان سڑکوں پر جدید الیکٹرانک ٹول پلازے بھی قائم کیے جائیں گے۔
مزید منصوبے زیر غور
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاسٹلز، ہسپتالوں، پارکوں، اسپورٹس گراؤنڈز، ویسٹ ٹو انرجی سہولیات، پارکنگ پلازوں، سیاحت، پانی کی فراہمی اور ری سائیکلنگ سے متعلق منصوبے بھی پی پی پی اتھارٹی کے تحت زیر غور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی زہریلے پانی کی صفائی کے لیے ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کے علاوہ زرار کیفے، سیاحت اور فوڈ اسٹریٹ پراجیکٹس بھی پی پی پی ماڈل کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
منظوری کا دورانیہ کم
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت منصوبوں کی منظوری کا دورانیہ دو سال سے کم کر کے چھ ماہ کر دیا گیا ہے۔
مزید چار سڑکیں بھی پی پی پی ماڈل پر منتقل کی جائیں گی۔ ان میں 42 کلومیٹر بہاولپور۔یزمان روڈ، 43 کلومیٹر یزمان۔احمد پور شرقیہ روڈ، 28 کلومیٹر رائے ونڈ۔چونگا مانگا روڈ اور 26 کلومیٹر گجھو ماتا۔قصور روڈ شامل ہیں۔
دیگر شعبوں میں منصوبے
چکوال اور قصور میں پانی اور صفائی کی خدمات کے منصوبے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔ لاہور میں محکمہ سیاحت پی پی پی ماڈل کے تحت ٹائم ٹریول پارک تیار کرے گا۔
پہلی بار مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری سے نمٹنے کے لیے ایف ایم ڈی ویکسین پروٹیکشن پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ بادامی باغ بس ٹرمینل پر پارکنگ پلازہ اور ملٹی موڈل کمرشل سہولت بھی تیار کی جائے گی، جبکہ دریائے ستلج پر سہوکا پتن پر پل تعمیر کیا جائے گا۔
پنجاب بھر میں سبزی اور پھل منڈیوں میں ٹھوس فضلے کے انتظام کے لیے بلیک سولجر فلائی لاروا سہولیات قائم کی جائیں گی۔ 100 اسپورٹس گراؤنڈز اور دیگر سہولیات کا انتظام بھی پی پی پی فریم ورک کے تحت کیا جائے گا۔
تعلیمی اور رہائشی منصوبے
فیصل آباد میں جدید ٹرک ٹرمینل پی پی پی ماڈل کے تحت تیار کیا جائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی اور 28 دیگر سرکاری یونیورسٹیوں میں طالبات اور طلبہ کے ہاسٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ تین میڈیکل کالجوں کے ہاسٹل بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیار کیے جائیں گے۔
صوبے بھر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے 14 ہاسٹل پی پی پی ماڈل کے تحت قائم کیے جائیں گے۔ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے نرسنگ ہاسٹل اور فریدیہ پارک ساہیوال کی آپریشن اور ترقی بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کی جائے گی۔
چھوٹے منصوبوں کی منظوری
کمشنر کی سربراہی میں ڈویژنل پی پی پی ورکنگ پارٹی کے ذریعے 500 ملین روپے تک کے منصوبے منظور اور نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل، سیکرٹری کمیونیکیشنز راجہ جہانگیر انور، پی پی پی اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر ذیشان حنیف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ تقریب سے صوبائی وزیر کمیونیکیشنز صہیب احمد بھرتھ، سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل اور سیکرٹری کمیونیکیشنز راجہ جہانگیر انور نے بھی خطاب کیا۔
