وفاقی دارالحکومت میں رینجرز کی مدت میں توسیع
سیاسی کشیدگی کے درمیان وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تین ہزار اہلکار 15 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں تعینات رہیں گے۔ اس سے قبل رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک منظور کی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بیان میں کہا کہ لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بغیر کسی مثبت نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان پر تعطل برقرار ہے۔
مذاکرات میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعطل دہشت گردی سے متعلق انتظامی امور تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بعض انتظامی اقدامات قبول کرنے سے گریزاں رہی اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر حکومت کے موقف پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ اگر دہشت گردی کے معاملے پر پیش رفت نہ ہوئی تو دیگر مسائل پر بھی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
اپوزیشن رہنما کا مؤقف
اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل برقرار ہے اور پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات تک معاملات حتمی شکل نہیں لیں گے۔
وزیر داخلہ کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت
وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف زرداری سے ملاقات کی۔ انہوں نے اعلیٰ سیاسی قیادت اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔
دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات
وفاقی دارالحکومت کے حکام نے ہفتے کے روز سرکاری دستاویزات میں مطالبہ کیا تھا کہ تین ہزار نیم فوجی رینجرز کی تعیناتی اسلام آباد میں 15 اکتوبر تک بڑھائی جائے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت اور اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ سے قبل تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔
یہ اقدام پاکستان تحریک انصاف کے مارچ سے قبل دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مارچ اتوار کو خیبر پختونخوا سے روانہ ہونا ہے۔
دریں اثنا اہم راستوں کو بلاک کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز رکھے گئے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹرز نے مال بردار نقل و حمل میں خلل کی شکایت کی ہے۔
